انڈین ٹی وی شو کے اینکر راہل شیو شنکر کی غلط فہمی: ’مسٹر مک ایڈمز میرا نام ہے اور میں نے ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں بولا۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہ@TimesNow
’مسٹر مک ایڈمز میرا نام ہے اور میں نے ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں بولا۔۔۔‘
یہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ خارجی امور میں امن کو فروغ دینے والا ایک محقق کسی ٹی وی چینل پر بہت غصے میں ہوں۔ لیکن یوکرین پر روسی حملے سے متعلق اپنا تجزیہ پیش کرنے والے امریکی محقق ڈینیئل مک ایڈمز انڈین اینکر سے خوش نہیں تھے۔
امریکہ میں قائم تنظیم ران پال انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ پراسپیرٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈینیئل مک ایڈمز اور اخبار کیئو پوسٹ کے مدیر صحافی بوڈن نہیلو کو انڈین نیوز چینل ٹائمز ناؤ کے ایڈیٹر ان چیف راہل شیو شنکر نے اپنے ٹی وی شو میں اس لیے بلایا تھا تاکہ وہ یوکرین میں جاری صورتحال پر اپنا تبصرہ پیش کر سکیں۔
تاہم ٹائمز ناؤ اور اینکر راہل شیو شنکر سے غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے دونوں مہمانوں کے نام ’مکس اپ‘ کر دیے۔ اینکر ایک طویل وقت تک صحافی بوڈن نہیلو کو ’مسٹر مک ایڈمز‘ مخاطب کرتے ہوئے بحث کرتے رہے اور انھیں بعد میں اس غلطی کا احساس دلایا گیا۔
انڈیا میں اور پاکستان میں روس اور یوکرین کے درمیان چلنے والے تنازع سے متعلق مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں۔ کہیں روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ان کی جارحیت پر سراہا جا رہا ہے تو کہیں یوکرینی عوام سے ہمدردی کے اظہار میں سوشل میڈیا پر پوسٹیں لکھی جا رہی ہیں۔
تاہم لوگوں کی خاطر خواہ تعداد اضطراب میں مبتلا ہے اور یہ چھوٹا سا ویڈیو کلپ اسی کنفیوژن کی عکاسی کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@TimesNow
’مسٹر مک ایڈمز میں ہوں، مجھ پر چیخنا بند کریں‘
شو کے آغاز میں راہل نے صحافی بوڈن نہیلو کو ’مسٹر مک ایڈمز‘ مخاطب کر کے کہا کہ ’ریلیکس ہو جائیں۔‘ جس پر بوڈن نے اپنا نام درست کرانے کے بجائے جواب دیا کہ ’میں ریلیکس نہیں ہونا چاہتا، میرا ملک جنگ کی زد میں ہے۔‘
پھر انڈین اینکر نے انھیں مشورہ دیا کہ ’اگر آپ کو یوکرین سے اتنی ہمدردی ہے تو اپنی فوجیں وہاں بھیجیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یعنی انھوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ روسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ نے اب تک اپنی فوجیں یوکرین کیوں نہیں بھیجیں۔ مگر اصل بات یہ تھی کہ صحافی بوڈن نہیلو خود کیئو کے سب سے پرانے اخبار کے چیف ایڈیٹر تھے اور ان کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
یہ غلط فہمی یوں ہی چلتی رہی۔ راہل نے انھیں کہا کہ ’مسٹر مک ایڈمز آپ انڈیا میں ہمیں اس کا لیکچر نہ دیں۔۔۔ جائیں امریکی صدر بائیڈّن کو بتائیں۔۔۔‘
اس دوران ’اصل‘ مسٹر مک ایڈمز نے بارہا یہ کوشش کی کہ وہ کچھ بول کر اس غلط فہمی کو دور کر سکیں۔ لیکن اینکر نے انھیں ایسا کرنے کا موقع ہی نہ دیا۔
انڈین اینکر نے پھر یہ بھی کہہ دیا کہ ’جائیں افغانوں سے پوچھیں جنھوں نے طیاروں سے چھلانگ لگائی کیونکہ آپ نے انھیں دھوکہ دیا۔۔۔ آپ لوگوں نے اپنے نوآبادیاتی نظریے کے ساتھ جنوب اور مشرق کو تباہ کیا ہے۔‘
پھر آخر کار اونچی آوازیں تھمنے پر مک ایڈمز کو بولنے کا موقع ملا اور انھوں نے کہا کہ ’میں کوئی لیکچر نہیں دے رہا، وہ دوسرا شخص ہے۔ میں بول ہی نہیں رہا، دوسرا شخص بول رہا ہے۔ میں نے اب تک ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ مجھ پر چیخنا بند کریں۔‘
جب اینکر نے کہا کہ ’میں آپ پر نہیں چیخ رہا بلکہ مسٹر مک ایڈمز سے بات کر رہا ہوں‘ تو انھیں جواب ملا کہ ’اصل مسٹر مک ایڈمز میں ہوں! مجھ پر چیخنا بند کریں۔‘
راہل نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کی اور کہا ’مجھے غلط فہمی ہوئی تھی۔ میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں۔‘ اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنا شو جاری رکھا۔
خیال رہے کہ ڈینیئل مک ایڈمز امریکہ میں قائم تنظیم ران پال انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ پراسپیرٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق وہ خارجی، دفاعی اور سیاسی امور پر امریکی کانگریس مین ران پال کے مشیر تھے۔ انھوں نے 1993 سے 1999 کے درمیان یورپ میں بطور صحافی اور انسانی حقوق کے نگراں کے طور پر کام کیا ہے۔
جبکہ برطانیہ میں پیدا ہونے والے صحافی بوڈن نہیلو یوکرین کے سب سے پرانے اخبار کیئو پوسٹ چیف ایڈیٹر اور تجزیہ کار ہیں۔ انھوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سوشل میڈیا پر تبصرے و ردعمل
اس کلپ کا وائرل ہونا تھا کہ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس پر کھل کر تبصرے کرنا شروع کر دیے اور جہاں ایک جانب شو اینکر راہل کو ہدف مزاح بنایا جا رہا تھا وہی میمز کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
ایک صارف نے اسے 'ٹی وی نیوز کے سب سے احمقانہ دو منٹ‘ کہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ایک اور صارف نے ٹائمز ناؤ ٹی وی چینل کا مزاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ ’اس کے بعد سے، ہر کسی کو ٹائمز ناؤ پر جانا چاہیے اور چیخنا چاہیے کہ ’میں مسٹر میک ایڈمز ہوں اور میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا!‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
رعنا صفوی نامی ایک انڈین صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ مزاق دراصل ہمارا اڑایا جا رہا ہے کہ ہمارے پاس اس طرح کا میڈیا ہے۔‘
جبکہ فاطمہ بشیر نامی صارف نے اس صورتحال کو شوہروں کی حمایت میں کچھ اس طرح کی میم کے ساتھ شیئر کیا۔

،تصویر کا ذریعہ@Fatimabashir211
’ارنب کو اسی کے شو پر اینٹی نیشنل بول دیا‘
اسی طرح ایک اور ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں انڈیا کے ریپبلک ٹی وی کے اینکر ارنب گوسوامی زیر بحث ہیں۔
یکم مارچ کے اس شو کے دوران لزبن سے شامل ہونے والے مہمان گلبرٹ ڈاکٹرو ارنب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ’کیا آپ مجھے بولنے کی اجازت دیں گے یا میں یہاں صرف دیکھنے آیا ہوں۔ آپ نے یہاں اس پینل کے ذریعے کینگرو کورٹ لگا رکھی ہے۔۔۔ آپ نے تناؤ کم کرنے کی بات کی ہے۔ میں آپ سے بطور ماڈریٹر کہوں گا کہ اپنی زبان میں تناؤ کم کریں۔‘
'میں حیران ہوں کہ ادارتی ادارتی پوزیشن اتنی متعصب ہے۔۔۔ آپ کا پروگرام اپنے ہی ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اس ویڈیو پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے صارف محمد زبیر نے لکھا کہ ’ارنب کو انھیں کے شو پر اینٹی نیشنل بول دیا گیا۔‘
سوشل میڈیا ایسے تبصروں سے بھرا پڑا ہے جن میں پاکستانی اور انڈین صارفین یوکرین میں روسی مداخلت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں کو مشورے دے رہے ہیں۔
اس دوران دونوں ملکوں میں ’آئی سٹینڈ ون پوتن‘ اور ’آئی سٹینڈ ود یوکرین‘ دونوں ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
خود کو سوویت-افغان جنگ کا غازی کہنے والے زید حامد نے لکھا ہے کہ ’پوتن جلد یا بدیر پاکستان کے ساتھ یا اس کے بغیر کابل میں افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لے گا۔ اور چین بھی۔ لیکن دونوں چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے، نہ کہ نیٹو اور ایس سی او کی دو کشتیوں کا سوار بن کر الجھا رہے۔ پاکستان کو مشرقی یا مغربی کیمپ کا انتخاب کرنا پڑے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
ان ٹویٹس سے تنگ آ کر حفیظ خلجی نامی صارف کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے کچھ صحافی آج کل صحافی کم، دفاعی تجزیہ نگار اور خارجہ امور کے ماہر زیادہ لگ رہے ہیں اور عمران خان سمیت ولادیمیر پوتن کو بھی مشورے دے رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
پاکستانی صحافی ملیحہ ہاشمی کو اپنی یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی جس میں وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ یوکرینی ٹی وی پر ’بڑا ڈرامہ ایکسپوز ہو گیا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ پروگرام کے دوران پس منظر میں موجود لاشوں میں سے ایک لاش حرکت کرتی ہے۔ مگر انھیں بہت جلد احساس دلا دیا گیا کہ یہ فیک نیوز تھی۔










