انڈیا نے پاکستانی سٹریمنگ سروس ’وڈلی‘ پر پابندی کیوں لگائی؟

،تصویر کا ذریعہVIDLY TV
- مصنف, مرزا اے بی بیگ، عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
انڈین حکومت نے پاکستان سے چلائے جانے والے ایک او ٹی ٹی سٹریمنگ پلیٹ فارم ’وڈلی ٹی وی‘ کی سٹریمنگ پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔
انڈیا کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق انڈیا کی وزارت اطلاعات و نشریات نے آئی ٹی ضوابط 2021 کے تحت ملنے والے ایمرجنسی اختیارات کے تحت سوموار یعنی 12 دسمبر کو یہ حکم جاری کیا ہے جس میں وڈلی ٹی وی کی ویب سائٹ کے ساتھ دو موبائل ایپس، چار سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ایک سمارٹ ٹی وی ایپ کو فوری طور سے بند کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سینیئر مشیر اور معروف صحافی کنچن گپتا نے ایک ٹویٹ میں یہ بات کہی ہے۔
وزارت نے اپنے حکم میں کہا کہ ’او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر نشر ہونے والی ’سیوک: دی کنفیشن‘ ویب سیریز انڈیا کی قومی سلامتی، خودمختاری اور سالمیت، انڈیا کے دفاع، ریاست کی سلامتی، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ملک میں امن عامہ کی سلامتی کے لیے نقصان دہ پائی گئی ہے۔‘
اے این آئی کے مطابق کنچن گپتا نے کہا کہ ’وڈلی ٹی وی کے خلاف اقدامات اس کے جائزے کے بعد کیے گئے ہیں کہ یہ سیریز اشتعال انگیز اور مکمل طور پر غلط ہے، جسے پاکستان میں سپانسر کیا گیا۔ تین اقساط کی پہلی قسط 26 نومبر کو جاری کی گئی جو کہ ممبئی پر سنہ 2008 میں ہونے والے حملے کی برسی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہVIDLY TV
انڈیا نے وڈلی ٹی وی پر پابندی کیوں لگائی؟
ہندوستان ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق حکومت ہند نے اس پر پابندی لگانے کی پانچ وجوہات پیش کی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ ویب سیریز میں پیش کیے جانے والے ابتدائی کریڈٹ میں انڈین پرچم کے اشوک چکر کو جلتا ہوا دکھایا گیا ہے۔
مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ ویب سیریز انڈیا سے متعلق حساس تاریخی واقعات کا ایک مسخ شدہ بیانیہ پیش کرتی ہے۔
’ویب سیریز میں آپریشن بلیو سٹار اور اس کے بعد کے واقعات، ایودھیا میں بابری مسجد کا انہدام، گراہم سٹینز کا قتل، مالیگاؤں دھماکے، سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے، ستلج جمنا لنک کینال سے متعلق بین الاریاستی دریا کے پانی جیسے حساس تاریخی واقعات اور قومی اہمیت کے موضوعات پر انڈیا مخالف بیانیہ پیش کیا گیا۔‘
اس میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ اس ویب سیریز میں عوام کے دلوں میں حکومت ہند کے خلاف نفرت کو فروغ دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اس میں انڈیا کے وزیر داخلہ کے بیان کو پیش کیا گیا ہے جس میں وہ مسلم، سکھ اور مسیحیوں کو انڈیا کے اندرونی خطرے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
اس ویب سیریز پر ’انڈیا میں سکھ برادری میں علیحدگی پسندی، بے اطمینانی اور بیزاری کو فروغ دینے‘ کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
حکم کے مطابق یہ ویب سیریز انڈیا کی برادریوں میں منافرت اور تقسیم کے بیج بونے کے لیے بنائی گئی ہے۔
جب ہم نے اسے دہلی میں دیکھنے کی کوشش کی تو یہ دستیاب نہیں تھی لیکن تیسری قسط کے کچھ مناظر پہلی بار نظر آئے جس میں چند سکھ لڑکوں کو باتیں کرتے سنا اور دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک مسیحی کو مصلوب حضرت عیسی کے سامنے دلتوں کی حالت زار کو بیان کرتے جبکہ ایک کلاس میں ایک لڑکی کو بینچ سے نیچے بیٹھنے کا حکم دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لڑکی کو اس کی ذات کی حیثیت کی وجہ سے بینچ سے زمین پر بھیج دیا گیا۔
اس میں اداکاری عدنان جعفر، عمارہ ملک، ہاجرہ یامین، محسن عباس حیدر، نیر اعجاز اور نذر حسین نے کی ہے۔ اس کی کہانی ساجی گل نے لکھی جبکہ ہدایت کاری انجم شہزاد کی ہے۔
اس کے گیت ’ماہی ماہی‘ کو شفقت امانت علی خان نے آواز دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہVIDLY TV
وڈلی کی سیریز ’سیوک‘ کے ٹریلر میں کیا ہے؟
وڈلی کی ویب سائٹ پر ’پاکستانی ڈراموں‘ کی کیٹگری میں شامل کی گئی اس ایکشن تھرلر سیریز کے خلاصے میں کہا گیا ہے کہ یہ 1984 سے 2022 کے بیچ ہونے والے سچے واقعات پر مبنی ہے۔ بنیادی طور پر اس میں قتل، جرائم، جھوٹ، جاسوسی اور مختلف برادریوں کے بیچ تعلقات پر مبنی آٹھ کہانیاں ہیں۔
ویب سائٹ پر اس کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا گیا ہے: ’کیا یہ حادثہ تھا؟ ہیرو اور ولن ایک ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے راستے ایک دوسرے سے ملتے بھی ہیں۔ ایک صحافی ودیا (ہاجرہ یامین) اپنے والد کی میراث کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس سے ایک پُراسرار شخص رابطہ کرتا ہے جو اسے اس کے کیریئر کی سب سے بڑی سٹوری دینے کا وعدہ کرتا ہے۔‘
اس سیریز کی کاسٹ میں پاکستانی اداکاروں کو انڈین کرداروں کے روپ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جیسے بظاہر محسن عباس حیدر کا تعلق انڈین پنجاب سے ہے، نیئر اعجاز ایک ہندو قوم پرست سیاستدان جبکہ ہاجرہ یامین ودیا نامی ایک انڈین صحافی ہیں۔
اس کے ٹریلر میں ایسے ڈائیلاگ سننے کو ملتے ہیں کہ ’ایک بھی مسلمان زندہ نہیں بچے گا‘ اور ’تو نے بتایا نہیں تیری بیوی اچھوت ہے۔‘
’جیت کے قاتلوں نے اسی دن جنم لیا تھا جس دن اس نے ہندوستان میں آنکھ کھولی تھی‘ اور یہ بھی کہ ’سر آپ کو اپنا بیانیہ بچانا ہے یا انڈیا کا؟‘
ٹریلر کے آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اسے 26/11 کو ریلیز کیا جا رہا ہے، یعنی اس روز جب 2008 میں ممبئی حملے ہوئے تھے۔
وڈلی کی ویب سائٹ پر اورجنل کونٹینٹ کے علاوہ پاکستانی اور ترک فلمیں اور ڈرامے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔













