’بے شرم رنگ‘ میں دیپیکا کے کپڑوں کو مذہبی رنگ دینے پر بحث: ’زعفرانی رنگ کسی کی ذاتی ملکیت ہے کیا؟‘

بے شرم رنگ، دیپیکا پڈوکون

،تصویر کا ذریعہFacebook/YRF

یوں تو شاہ رخ خان کی نئی فلم ’پٹھان‘ ابتدا سے ہی تنازعات کا شکار رہی ہے اور اس کے خلاف ’بائیکاٹ پٹھان‘ کا نعرہ بھی سننے کو ملتا رہا ہے لیکن گذشتہ روز شاہ رخ خان نے اپنی اس فلم کے ایک گیت ’بے شرم رنگ‘ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے جب ٹویٹ کی تو لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

مگر گانا ریلیز ہونے کے ساتھ ہی فلم کے بائیکاٹ کے ساتھ ’بے شرم رنگ‘ اور دیپیکا ٹرینڈ کرنے لگے۔

جہاں بہت سے لوگ شاہ رخ خان اور اداکارہ دیپیکا پڈوکون کی جوڑی پر فریفتہ نظر آئے، وہیں کچھ صارفین نے گانے کو مذہبی رنگ دیا اور یہ اعتراض کیا کہ گانے میں دکھائے رنگ ’بے شرم‘ ہرگز نہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

بالی وڈ کے بادشاہ کے اس ٹویٹ کے جواب میں کسی نے اس گیت کے جوش کی بات کی ہے تو کسی نے شاہ رخ خان کی فٹنس کی۔ بہت سے لوگوں نے دیپیکا کی ’بے مثال خوبصورتی‘ کو بھی سراہا۔

بہر حال اس کے ساتھ ایک ایسا بھی گروپ ہے جس نے بالی وڈ کو ’اردو وڈ‘ کا نام دے دیا اور لکھا کہ ’اردو وڈ کبھی نہیں سدھرنے والا۔‘

کئی لوگوں نے ’جیمز آف بالی وڈ‘ نامی صارف کے ٹویٹ کا سکرین شاٹ لے کر اس گیت کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔

اس ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ’افغانستان کے پٹھان زعفرانی رنگ کے کپڑے میں ملبوس دیپیکا کا جنسی استحصال کر رہے ہیں (جبکہ اردگرد بے شمار غیر دینی نیم عریاں خواتین ہیں)۔ ایک دوسرے منظر میں پٹھان نے سبز رنگ پہن رکھا ہے۔ اردو وڈ اور ان کے مالکوں کی بے انتہا افسانہ نگاری۔‘

اس کے جواب میں امت ہندو نامی صارف نے بے شرم رنگ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ’اردو وڈ= سافٹ پورن لکھا۔‘

جیمز آف بالی وڈ کے سینکڑوں ہزار فالوورز ہیں اور اس ہینڈل سے اس قسم کے متعدد ٹویٹس کیے گئے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

سیفرن سینا نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے ’بائیکاٹ پٹھان‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا گیا کہ ’اداکارہ نے زعفرانی رنگ کی بکینی پہن رکھی ہے‘۔

اس کے جواب میں مُنی نامی ایک صارف نے پٹھان ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا: ’کچھ بھی، کوئی رنگ کسی کی ذاتی ملکیت ہے کیا؟ رنگوں میں بھی دھرم ادھرم کا چھاپ لگاتے ہیں یہ لوگ۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

نیمو تائی نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’کرناٹک میں لڑکیوں کو حجاب پہننے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دیپیکا پڈوکون کو بکینی پہننے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

’بنیادی طور پر سنگھی کو ہر اس خاتون سے پریشانی ہے جو اپنی پسند پر عمل کرنا چاہتی ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4

’سنگھی‘ بنیاد پرست ہندوؤں اور آر آر ایس کے فکری نظریات کے حاملین کے لیے انڈیا میں مستعمل لفظ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اب بائیکاٹ گینگ پٹھان کا بائیکاٹ کرنا چاہتا ہے کیونکہ دیپیکا نے زعفرانی زیر جامہ پہنا۔‘

’اس منطق کے تحت ہمیں سڑکوں پر برہنہ گھومنا چاہیے کیونکہ ہر رنگ کسی نہ کسی مذہب سے وابستہ ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 5

دریں اثنا بہت سے لوگوں نے اس گیت میں شاہ رخ خان اور دیپیکا کی جوڑی کو سراہا ہے۔

یش پریانی نے لکھا: ’اب پتا چلا کہ سڈ آنند نے کیوں کہا تھا کہ بے شرم رنگ میں ہمارے عہد کے دو سپرسٹارز شاہ رخ خان اور دیپیکا پڈوکون کو ان کے ہاٹسٹ اوتار میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘

’یہ گیت آگ لگا دے گا اور چارٹ پر سر فہرست رہے گا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 6

کریئٹو ڈائریکٹر پریا آدیواریکر نے لکھا: ’مجھے معلوم ہے کہ بے شرم رنگ زیادہ تر دیپیکا پر مرکوز ہے لیکن اووووف شاہ رخ سے نظریں ہٹانا بہت مشکل ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 7
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 7

اسی سلسلے میں ہندوؤں کا ایک معروف مقام ویشنو دیوی مندر بھی ٹرینڈ کر رہا ہے کیونکہ گذشتہ روز شاہ رخ خان نے وہاں کا دورہ اور درشن کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے فلم پٹھان کی کامیابی کے لیے ایسا کیا۔

اس حوالے سے ایک صارف شیام میرا سنگھ نے لکھا کہ ’وہ مندر نہیں بھی جاتے تو بھی انھیں ہزار بار سنا ہے اور شاہ رخ نے ہمیشہ تمام مذاہب کی بات کی ہے۔ سلمان اور عامر نے بھی ملک کی مشترکہ ثقافت کی بات کی۔‘

’لیکن بالی وڈ کو منصوبہ بند طور پر بدنام کیا گیا۔ نئے ہیرو تیار کیے گئے تاکہ مسلمانوں کے خلاف غلط پرچار کیا جا سکے۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان کی فلموں کے بائیکاٹ کے متعلق سوشل میڈیا پر شور سنائی دیتا رہا ہے جبکہ دیپیکا پڈوکون کی فلم ’پدماوت‘ تو ایک زمانے تک تنازع کا شکار رہی تھی۔