’جوائے لینڈ‘ کی گھٹن، فلم سازی کا جوائے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, حسن زیدی
- عہدہ, تجزیہ کار
بصد اوقات ایسا ہوتا ہے کہ فلموں کے ارد گرد کا ڈرامہ فلموں کی اپنی خوبیوں اور برائیوں پر حاوی ہو جاتا ہے اور پاکستان میں تو یہ عمومی بات ہے۔
کسی فلم نے کتنے پیسے کمائے، اس کے اداکاروں کے سکینڈل، فلم کے ایوارڈ یا فلم سازوں کے آپس کے جھگڑے، یہ چیزیں تو دنیا بھر میں خبروں کی زینت بنتی رہتی ہیں مگر ہمارے ملک میں ایک اور ڈرامہ شامل ہو جاتا ہے: سینسر کا۔
آج کل فلم سے زیادہ سینسر کے سرٹیفکیٹ کا بول بولا ہے، حالانکہ یہاں سینسر سرٹیفکیٹ ملنے کا کوئی خاص مطلب نہیں۔ یہ ملنے کے بعد بھی واپس لیا جا سکتا ہے اور اس کے ملنے سے بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ فلم سنیما میں دکھائی جا سکے گی۔
کچھ اسی طرح کا ڈرامہ فلم جوائے لینڈ کے ساتھ پیش آ چکا ہے، جسے فلم سے زیادہ لوگوں نے دیکھا اور سنا ہے۔ اس سینسر کے ’سوپ آپرا‘ پر بات کرنے کی بہت ضرورت ہے لیکن آج میں کوشش کروں گا کہ اس کو بھُلا کر صرف فلم پر بات کروں۔
جوائے لینڈ ایک پیدائش سے شروع ہوتی ہے اور ایک موت پر ختم ہوتی ہے لیکن برعکس اس کے جو آپ نے اس فلم کے بارے میں سنا ہو گا، اس کا موضوع وہ زندگی اور وہ معاشرہ ہے جہاں ہر روز چھوٹی چھوٹی اموات ہوتی رہتی ہیں۔ انسانی خواہشات کی، اظہار کی، حقوق کی، ذات کی، روایات سے اختلاف کی، زندگی خوشی سے اور اپنی طرز سے گزارنے کی کوششوں کی۔
اس دلدل میں پورا معاشرہ پھنسا ہوا ہے، چاہے وہ مرد ہوں یا عورت یا وہ جن کو تیسری جنس کا رتبہ دے کر پاکستان کا قانون بھی کم از کم پہچانتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہScreen Grab
جوائے لینڈ کی کہانی ایک عام سے روایتی مڈل کلاس خاندان کی ہے جہاں دو بھائی اپنی بیویوں اور بڑے بھائی کے بچوں کے ساتھ اپنے بوڑھے باپ رانا صاحب کے ساتھ رہتے ہیں۔ باپ کا حکم گھر میں چلتا ہے اور سب اس کے تابع ہیں۔ خاص طور پر چھوٹا بیٹا حیدر، جس کے پاس نوکری بھی نہیں، جو طبیعتاً کمزور بھی ہے اور حساس بھی۔
شروع کے ایک سین میں باپ (سلمان پیرزادہ)، حیدر (علی جونیجو) کو بکرا ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے اور ادھر سے ہی دو چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایسا کام حیدر کی طبعیت کے بالکل برخلاف ہے، دوسرا یہ کہ اس کی بیوی ممتاز (راستی فاروق) اس سے کہیں درجے بے باک اور سخت جان ہے اور اس کی عزت کا خیال کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب حیدر کو اس کا ایک دوست تھیٹر میں نوکری دلوا دیتا ہے تو سب کی زندگیوں میں ایک تلاطم آ جاتا ہے۔ ایک طرف ممتاز کو اپنی سیلون کی نوکری رانا صاحب کے کہنے پر چھوڑنی پڑتی ہے تاکہ وہ حیدر کی جگہ گھر کی دیکھ بھال میں بھی بڑی بھابی نچی (ثروت گیلانی) کا ہاتھ بٹا سکے۔
دوسری طرف حیدر، ممتاز کے علاوہ اپنے باقی خاندان سے یہ بات چھپا کر رکھتا ہے کہ اس کی نوکری ایک سٹیج ڈانسر کی ہے کیونکہ ایسا کام ان کے خاندان میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہ اس کی باس، اس کے ڈانس گروپ کی لیڈر، ایک خواجہ سرا بیبا (علینہ خان) ہے جس کی شخصیت کا سحر حیدر کو گرویدہ کرتا جاتا ہے۔
اس کے برعکس جو شاید آپ نے سنا ہو، نا تو اس فلم کا کوئی ایجنڈا ہے، نا اس میں کسی خاص طرزِ عمل کی ترغیب ہے، یہ صرف اور صرف ایک کہانی ہے جو کچھ انسانوں اور ان کی زندگیوں کی عکاسی کرتی ہےـ وہ بھی ایسے انسانوں کی جو ہمارے معاشرے میں عام نظر آتے ہیں۔
ہاں اس فلم کا ایک نقطۂ نظر ضرور ہے اور وہ یہ ہے کہ گھٹن والا معاشرہ ایک صحت مند معاشرہ نہیں ہوتا۔

،تصویر کا ذریعہSaim Sadiq
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جوائے لینڈ کی سب سے اعلیٰ بات اس کا سکرپٹ ہے۔ اس میں ہر سین ناپ تول کر شامل کیا گیا ہے اور ہر سین کا ایک مقصد ہے، جس کا اندازہ آپ کو کبھی کبھار فلم ختم ہونے کے بعد ہوتا ہے۔
اس کے سینز میں تہہ در تہہ معنی بھی ہیں، جو دیکھنے والوں کے لیے فلم کے بعد موضوعِ گفتگو بنے رہتے ہیں۔ اس کے کرداروں میں نا تو کوئی ہیرو ہے اور نہ کوئی وِلن، سب اپنی اپنی زندگیاں اس طرح گزار رہے ہیں جن خیالات میں ان کی پرورش ہوئی ہے اور جن حالات میں وہ رہتے ہیں۔ یہ ایک اچھی فلم کی نشانی ہےـ
مجھے ایک دو دفعہ 2011 کی ایرانی آسکر یافتہ فلم ’نادر اور سیمی: اے سیپریشن‘ کا اثر بھی محسوس ہوا کیونکہ اس فلم میں بھی ایک سیدھی سادی کہانی میں کئی سطحیں تھیں۔ ایک دو ہفتے پہلے میں نے فلم ’مولا جٹ‘ دیکھی تھی اور مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ بہت عرصے بعد میں نے دو پاکستانی فلمیں ایسی دیکھی ہیں جن میں سکرپٹ پر محنت عیاں ہے۔
جوائے لینڈ کی دوسری اعلیٰ بات یہ ہے کہ اس میں اداکاری یکساں طور پر زبردست ہے۔ اس میں کوئی بھی ایسا کردار نہیں جو کمزور محسوس ہوتا ہے یا جس کو نبھانے میں اداکاروں نے کمی چھوڑی ہو۔
ویسے تو ہر اداکار نے اپنا رول بخوبی ادا کیا ہے اور منجھے ہوئے اداکار جیسا کہ سلمان پیرزادہ، ثانیہ سعید اور ثروت گیلانی سے آپ توقع بھی یہی رکھتے ہیں لیکن تین اداکاروں کا ذکر خاص طور پر ضروری ہے کیونکہ وہ پہلی بار بڑے پردے پر نظر آئے ہیں۔
سب سے پہلے علینہ خان، جنھوں نے بیبا کا کردار ادا کیا ہے۔ علینہ بیبا کے رول میں وہ جرات اور کشش لے کر آتی ہیں کہ آپ کو آسانی سے سمجھ آ جاتا ہے کہ وہ حیدر کا دل کیوں موہ لیتی ہیں۔ بیبا کے اپنے مسائل ہیں لیکن دنیا سے لڑنے کی خاطر وہ چہرہ سخت ہی رکھتی ہےـ
دوسرا علی جونیجو، جو حیدر کی حساسیت، ڈر اور جھجک کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ حیدر نے بھی اپنے اندر کا طوفان چھُپا کر رکھا ہوا ہے لیکن اس میں دنیا سے لڑنے کی سکت بیبا جیسی نہیں۔
اور تیسرا راستی فاروق، جو ممتاز کے کردار میں اتنی نیچرل ہیں کہ کہیں سے گمان نہیں ہوتا کہ ایکٹنگ کر رہی ہیں۔ ممتاز کا کردار شاید سب سے پیچیدہ ہے کیونکہ وہ اندر سے ایک پٹاخہ ہے جس کو بالآخر پھٹنا ہی ہےـ اس کا انجام بھی ایسا ہے جو فلم بینوں کے دماغوں میں کئی سوالات چھوڑ جاتا ہےـ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن آخر میں کمال اصل میں لکھاری اور ہدایتکار صائم صادق کا ہی ہے جنھوں نے اتنی عمدہ فلم لکھی اور بنائی اور جنھوں نے ان اداکاروں کو مینیج کیا۔
یہ ایسی فلم ہے جو بہت عرصے تک آپ کے ذہن میں گھومتی رہے گی۔ کاش لوگ فلم پر سیاست کرنے کے بجائے فلم دیکھتےـ
ایک آخری گزارش: جوائے لینڈ میں تین چھوٹے سین کاٹے گئے ہیں اور دو تین سینز کو بلر کیا گیا ہے جبکہ فلم پہلے ہی بالغان کے لیے سرٹیفائی کی جا چُکی ہےـ
کاٹے گئے سینز میں دو سینز سے کہانی پر اتنا کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایک سین غائب ہونے سے کہانی کا ایک پہلو شاید دیکھنے والوں کو کچھ حد تک کنفیوز کرےـ
کئی سال پہلے میں نے سینسر شپ پر ایک کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کانفرنس کے ایک پوسٹر کی ایک لائن میرے ذہن میں رہ گئی تھی اور میرے اندازے میں آج کل کے ماحول کے حوالے سے اس کا خیال خاص طور پر موزوں ہےـ اور وہ یہ ہے کہ جراتِ اظہار سے زیادہ ہمیں سننے اور دیکھنے کی جرات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔










