جوائے لینڈ: پنجاب حکومت نے متنازع فلم کی نمائش پر پابندی عائد کر دی

جوائے لینڈ

،تصویر کا ذریعہJoyland/SaimSadiq

    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان میں صوبہ پنجاب کی حکومت نے آسکر ایوارڈ کے لیے سرکاری طور پر نامزد کی گئی فلم جوائے لینڈ کی صوبے میں ریلیز پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس سے قبل بدھ کو وفاقی حکومت کی ایک خصوصی کمیٹی نے اس فلم پر اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد اسے ریلیز کے لیے منظور کیا تھا۔

صوبائی محکمہ اطلاعات و ثقافت کے ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پنجاب مختلف حلقوں کی جانب سے مسلسل شکایات کے بعد موشن پکچرز آرڈیننس 1979 کے تحت اس فلم پر پابندی عائد کر دی ہے اور تاحکمِ ثانی اسے صوبے کی حدود میں نمائش کے لیے پیش نہ کیا جائے۔

جوائے لینڈ کو اس سے قبل سینسر بورڈ نے کلیئر کیا تھا اور اسے 18 نومبر کو ریلیز ہونا تھا۔

مگر کچھ روز قبل اچانک وزارت اطلاعات نے اس فلم کو جاری ہونے والا سینسر سرٹیفیکیٹ یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا کہ اس میں ’انتہائی قابل اعتراض مواد‘ ہے۔

اس فلم نے مئی میں دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے ’کانز‘ میں ایک ایوارڈ اپنے نام کیا تھا اور اسے عالمی سطح پر کافی پسند کیا گیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس فلم کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے لیے آٹھ رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا جس میں وزیر اطلاعات، وزیر برائے کمیونیکیشن، وزیر سرمایہ کاری، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزیر اعظم کے مشیر برائے امور گلگت بلتستان سمیت چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین پیمرا بھی شامل تھے۔

کمیٹی کا مینڈیٹ یہ دیکھنا تھا کہ آیا یہ فلم معاشرتی اور اخلاقی اقدار کے خلاف تو نہیں۔

بدھ کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ایک اہم معاون سلمان صوفی نے اعلان کیا کہ سینسر بورڈ نظرِثانی کمیٹی نے جوائے لینڈ کو ریلیز کے لیے کلیئر کر دیا ہے۔

اُنھوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید لکھا کہ آزادی اظہار ایک بنیادی حق ہے اور اسے قانون کے دائرے میں پروان چڑھانا چاہیے۔

تاہم اب اس فلم کی صوبہ پنجاب میں نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

جوائے لینڈ

،تصویر کا ذریعہJOYLAND

’ہیرو کا نام حیدر ہے، ہمیں اِس پر بھی اعتراض ہے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جوائے لینڈ میں خواجہ سرا کے کردار پر اعتراض کرنے والے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے انکشاف کیا کہ انھوں نے فلم نہیں دیکھی لیکن ان کا ماننا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایل جی بی ٹی کیو (ہم جنس پرستی) کلچر کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ یہ ثقافتی دہشتگردی ہے اور اس کی وجہ سے ’ہماری جو اقدار، روایات اور فیملی سسٹم ہے، شادی اور نکاح کا ادارہ ہے، وہ سب اس سے متصادم ہیں۔‘

اس سوال پر کہ انھوں نے فلم دیکھی نہیں پھر بھی اس کے بڑے مخالف کیوں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’دیکھیں فلم تو آپ نے بھی نہیں دیکھی، میں نے بھی نہیں دیکھی، کسی نے نہیں دیکھی۔‘

’فلم تو اٹھارہ نومبر کو ریلیز ہونے والی تھی۔ فلم کا تو ابھی صرف ٹریلر جاری ہوا تھا لیکن فلم کے بارے میں مصدقہ معلومات تھیں کہ کانز میں اِس کو ایل جی بی ٹی کیو کیٹیگری میں ایوارڈ دیا گیا۔‘

واضح رہے کہ کانز فلم فیسٹیول میں جوائے لینڈ کو جیوری ایوارڈ ملا تھا اور اس تقریب میں کوئی ایل جی بی ٹی کیو کیٹیگری نہیں۔

سینیٹر مشتاق مزید کہتے ہیں کہ ’اب آپ کو پتا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو کو نہ صرف پاکستان بلکہ او آئی سی بھی مجموعی طرف پر مسترد کرتا ہے تو یہ تو بالکل واضح ہے کہ یہ ہماری اقدار کے خلاف ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مصدقہ ذرائع سے اس فلم کی جو سٹوری میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہے اُس میں ہیرو کا نام حیدر ہے، ہمیں اِس پر بھی اعتراض ہے۔

’ایک تو حیدر کو ہیرو بنایا اور پھر اُس کا ایک ٹرانس وومن کے ساتھ لو افیئر کو مرکزی نکتہ بنایا۔ ٹرانس وومن کا نام بیبا ہے۔ بیبا آپ جانتے ہیں کہ وہ مرد ہی ہوتا ہے لیکن وہ اپنی صنف سے مطمئن نہیں ہوتا اور اپنی صنف کو بدل لیتا ہے۔ تو یہ مرد اور مرد کے لو افیئر کی مرکزی سٹوری ہے۔ اسی لیے یہ ہماری اقدار اور روایات کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے۔‘

تاہم فلم کی سٹوری، جو کہ ٹریلر اور اس کے خلاصے میں دی گئی ہے، میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ایک نوجوان کو ایک ٹرانس خاتون سے محبت ہو جاتی ہے۔

مگر سینیٹر مشتاق کا دعویٰ ہے کہ خواجہ سرا اور ٹرانس جینڈر میں فرق ہوتا ہے۔ ’ٹرانس جینڈر ایک مغربی اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب ہے ایک ایسا شخص جو ریپروڈکٹیو سسٹم رکھتا ہے، جسمانی طور پر بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن اپنے جینڈر ڈسفوریا یا سائیکلوجیکل ڈس آرڈر کی وجہ سے اپنی صنف سے مطمئن نہیں ہے۔‘

فلم

،تصویر کا ذریعہPM OFFICE

’جس سنیما میں یہ فلم لگی اُس کو آگ لگا دیں گے‘

سینیٹر مشتاق نے جوائے لینڈ پر سینیٹ کے فلور پر آواز اٹھائی۔ فیڈرل شریعت کورٹ سے بھی درخواست کی جس کے بعد فلم پر حکومت کی جانب سے عارضی طور پر پابندی عائد کر دی گئی۔

چیئرمین سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز محمد طاہر کا کہنا ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد نے یہ مہم شروع کی تھی کہ حکومت کے ٹرانس جینڈر بِل کو سپورٹ کرنے کے لیے یہ فلم بنائی گئی ہے۔

’ہمیں بہت سے حلقوں سے اسی طرح کی شکایتیں آئیں کہ آپ ٹرانسجینڈر ایکٹ کو لاگو کرنے کے لیے فلموں کا سہارا لے رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’یہ دھمکیاں آ رہی تھیں کہ جس سنیما میں یہ فلم لگی اُس کو ہم آگ لگا دیں گے۔ پھر کہا گیا کہ ٹرانس جینڈرز کو ماریں گے، تو اس صورتحال میں مجبوراً ہم نے اجازت نامہ واپس لے لیا۔‘

محمد طاہر نے تسلیم کیا کہ ’فلم میں ایسا کچھ نہیں‘ جس کا دعویٰ سینیٹر مشتاق اور دیگر مذہبی حلقے کر رہے ہیں۔

جوائے لینڈ کے رائٹر اور ڈائریکٹر صائم صادق کا کہنا ہے کہ انھیں سنا ہی نہیں گیا، بقول ان کے انھیں براہِ راست یہ نوٹیفیکیشن نہیں بھیجا گیا بلکہ انھیں تو سوشل میڈیا سے اس کا پتا چلا۔

انھوں نے کہا کہ ’آئین کے لحاظ سے دیکھا جائے تو جب ایک دفعہ سینسر بورڈ نے فلم کو پیش کرنے کی اجازت دے دی ہو تو وزارت اچانک نوٹس نہیں دے سکتی۔ اُنھیں ایسا کرنے سے پہلے ایک دفعہ ہمارا مؤقف بھی سننا ہوتا ہے۔ انھیں ہمیں ایک سماعت کا موقع دینا چاہیے تھا جو کہ ہمارا قانونی حق تھا اور منسٹری آف انفارمیشن کی طرف سے ہمیں وہ نہیں دیاگیا۔‘

صائم کے بقول سینٹرل بورڈ آف فلم سینسر کی قانونی حیثیت صرف فیڈرل اور اُس کی حدود میں آنے والے شہروں تک کی ہے یعنی اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور بلوچستان۔

’لیکن انھوں نے اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات کو بھی بائے پاس کیا اور دباؤ کے حربے کے طور پنجاب اور سندھ سینسر بورڈز کو بھی یہ نوٹس جاری کیا تاکہ وہ بھی یہ فالو کریں۔ ہم نے ہر چیز قانون کے مطابق کی ہے البتہ وزارتِ نے ایک غیر قانونی کام کیا ہے۔‘

سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس پر رائے دی ہے کہ کسی فلم کے خلاف ایسی مہم سے ’کمزور وزیر دباؤ میں آ جاتا ہے‘ اور فیصلہ کرنے والے اکثر لوگ وہ ہوتے ہیں ’جنھیں پتا ہی نہیں ہو گا کہ فلم ہے کیا۔‘

’ٹائمنگ کا مسئلہ ہے‘

چیئرمین سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز محمد طاہر کا کہنا ہے کہ ’ٹرانس جینڈرز خطرے میں تھے۔ وہ پہلے ہی اتنی مشکل میں رہتے ہیں تو ہم نے سوچا کہ خدانخواستہ اُن کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو۔ یہ کام پیشگی حفاظت کے طور پر کیا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ٹائمنگ کا بھی مسئلہ ہے۔ ’(یعنی) یہ کس وقت پر ریلیز ہو رہی ہے۔ یہی فلم چھ ماہ پہلے یا چھ ماہ بعد آ جاتی تو ایسا نہیں ہوتا۔ رائٹ ٹو بزنس سب کا حق ہے اور ٹرانس جینڈر کا ہم استحصال نہیں کرسکتے۔‘

فلم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جوائے لینڈ فلم جس نے پاکستان میں ریلیز سے قبل دنیا میں نام کمایا

خیال رہے کہ پاکستانی ڈائریکٹر، رائٹر و اداکار صائم صادق کی فلم جوائے لینڈ کی کہانی ایک خواجہ سرا کی زندگی پر بنائی گئی ہے جس کو سرمد کھوسٹ اور اپوروا چرن نے پروڈیوس کیا ہے۔

اس میں لاہور کے محنت کش طبقے کے ایک شادی شدہ مرد اور ایک خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) کے درمیان بڑھتے ہوئے رشتے کو دکھایا گیا ہے۔ فلم میں ثروت گیلانی، ثانیہ سعید، علی جونیجو، ثنا جعفری، علینہ خان سمیت دیگر اداکاروں نے کام کیا۔

اس فلم کو بین الاقوامی شہرت ملی جب اسے پاکستان کی جانب سے آسکرز کے لیے نامزد کیا گیا اور کانز فلم فسیٹیول میں جیوری پرائز ملا۔

یاد رہے کہ ’جیوری پرائز ان دی ان سرٹن ریگارڈ‘ کو اس فلمی میلے کا دوسرا بڑا ایوارڈ تسلیم کیا جاتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

’کہانی ہمارے لوگوں کی ہے جو ہم ہی نے بنائی ہے‘

سوشل میڈیا پر جہاں جوائے لینڈ کی مخالفت ہو رہی ہے وہیں کئی سماجی اور شوبز کی شخصیات کھل کر اس کی حمایت بھی کر رہی ہیں۔

فلمساز جامی آزاد نے حکام سے جوائے لینڈ کو ریلیز کرنے کی درخواست کرتے ہوئِے کہا کہ ’پاکستان کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ایک فلم اتنا آگے تک گئی۔‘

’آسکر کی ریس میں بھی کافی اچھی جارہی ہے۔ کانز میں گئی ہے، ٹِف میں گئی۔ ٹرانس لوگ ہماری سوسائٹی کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ ہمیں کسی بھی انسان سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ جس طرح مُلا ہماری سوسائٹی کا لازمی حصہ ہیں جو کافی مثبت کردار بھی ادا کرتے ہیں اور کافی منفی کردار بھی ادا کیا مُلاؤں نے۔

’لیکن ہم برداشت کرتے ہیں۔ ہم نے نہیں کہا کہ اِن کو نکال کے باہر پھینک دیں۔ اُن پر پابندی لگا دیں۔‘

پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’فلم جوائے لینڈ کی طے شدہ ریلیز سے چند دن قبل سرٹیفیکیشن واپس لینے کا فیصلہ غلط ہے۔

’یہ خود ساختہ اخلاقی بریگیڈ کو مطمئن کرنے کے لیے خود کو پیچھے لے جانا ہے۔ یہ پروڈیوسرز کے اظہار رائے کی آزادی اور لوگوں کے انتخاب کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ پلیز اس فیصلے کو واپس لے لیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

حال ہی میں نیٹ فلکس کی مقبول سیریز ’دی کراؤن‘ میں کام کرنے والے پاکستان کے معروف اداکار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’جوائے لینڈ نے کانز فلم فیسٹیول میں جیوری پرائز جیتنے والی پہلی جنوبی ایشیائی فلم بن کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

’یہ ہمارے لوگوں کی کہانی ہے جو ہمارے لوگوں کےلیے ہمارے ہی لوگوں نے بنائی ہے۔امید ہے کہ اسے انہی لوگوں کے لیے قابل رسائی بنایا جائے گا۔‘

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور مصنفہ فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ ’جوائے لینڈ کی سینسرشپ بے مطلب (ناسمجھی) ہے۔ پاکستان فنکاروں، فلم سازوں، ادیبوں سے بھرا ہوا ہے اور اس کے پاس ایک ثقافتی دولت ہے اور اس سے بھی اہم بات وہ بہادری ہے جسے دنیا سراہتی ہے۔ایک سمارٹ (ہوشیار) ریاست اس کا جشن منائے گی اور اسے فروغ دے گی نہ کہ خاموش کرائے گی اور دھمکی دے گی۔‘

لمز کی پروفیسر اور سماجی کارکن ندا کرمانی لکھتی ہیں کہ ’ہمارے فیصلہ ساز اب بھی پاکستانیوں کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کر رہے ہی۔ اخلاقیات کی آڑ میں ہمیں فن اور ثقافت سے محروم کر رہے ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

پاکستانی اداکارہ ثروت گیلانی کہتی ہیں کہ پاکستانی سنیما کے لیے تاریخ رقم کرنے والی فلم جوائِے لینڈ کے خلاف ایک مہم چل رہی ہے۔ اسے تمام سنسر بورڈز سے پاس کردیاگیا لیکن اب حکام کچھ بدنیت لوگوں دباؤ میں آ رہے ہیں جنھوں نے یہ فلم دیکھی بھی نہیں ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے جوائے لینڈ کا سرٹیفیکیشن واپس لینے کے حکومتی فیصلے کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے اس عمل کو ٹرانس فوبِک قرار دیا اور اپنے بیان میں کہا کہ یہ حُکم نامہ فلم پروڈیوسرز کے آزادی اظہار کے حق کی بھی خلاف ورزی ہے۔