’جوائے لینڈ‘: کراچی میں ’ہاؤس فل‘ لیکن پنجاب میں کیوں ریلیز نہ ہو سکی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عثمان غفور
- عہدہ, صحافی
تنازعات، افواہوں اور قیاس آرائیوں کے درمیان، متعدد بین الاقوامی فلمی میلوں میں ایوارڈز اور داد وصول کرنے والی پاکستانی فلم ’جوائے لینڈ‘ بالآخر گذشتہ روز ملک کے مختلف حصوں میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی۔
کراچی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے سب سے بڑے ملٹی پلیکس میں افتتاحی شوز ہاؤس فل رہے اور سینما میں آنے والے فلم بینوں نے اس فلم کی تعریف کی لیکن پنجاب کے عوام سینما گھروں میں فلم دیکھنے سے محروم ہیں کیونکہ وہاں فلم کی نمائش صوبائی محکمہ اطلاعات و ثقافت کی جانب سے آخری وقت پر روک دی گئی تھی، جس کی وجہ ’مختلف حلقوں کی جانب سے مسلسل شکایات‘ بتائی گئی ہے۔
17 نومبر کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ فلم ’اگلے احکامات تک‘ پنجاب کے سینما گھروں میں نہیں لگائی جا سکتی۔
’جوائے لینڈ‘ سے وابستہ افراد کے لیے یہ ایک دھچکے سے کم نہیں تھا۔
ایک روز قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے فل بورڈ کے بعد فلم کو چند کٹس کے ساتھ نمائش کی اجازت دی تھی، جس سے فلم دیکھنے کے خواہش مند لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی، اور سول سوسائٹی بھی اسے اپنی کامیابی مان رہی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال اگست میں پنجاب سینسر بورڈ نے ’جوائے لینڈ‘ کو ’عام نمائش‘ کے لیے موزوں قرار دیا تھا، جبکہ سندھ سنسر بورڈ نے اسے ’اے‘ سرٹیفکیٹ دیا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ فلم صرف بالغوں کے لیے ہے۔
تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے فلم کے معاون پروڈیوسر سرمد سلطان کھوسٹ کو جاری کیے جانے والا نوٹیفکیشن بہت غیر متوقع تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آخر ایسا کیا ہوا جو پنجاب نے یہ فیصلہ لیا؟
پنجاب حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے پیچھے کیا کوئی ممکنہ سیاسی مقاصد ہو سکتے یں یا نہیں؟ اس بحث میں صارفین نے سوشل میڈیا پر بھی اظہار خیال کیا جس میں ایک جانب کسی نے پنجاب حکومت کو سراہا تو دوسری جانب ایسے افراد بھی تھے جن کے خیال میں یہ ایک مکمل طور پر ’سیاسی فیصلہ‘ تھا جس کا کریڈٹ تحریک انصاف کی دوسرے درجے کی لیڈر شپ اور حامی اکاؤنٹ لیتے دکھائی دیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایک صارف نے لکھا کہ پنجاب حکومت مذہبی کارڈ کا استعمال کر رہی ہے اور پہلے بھی پنجاب حکومت ایسے فیصلے کر چکی ہے جن کا مقصد سیاسی طور پر فائدہ اٹھانا تھا۔ انھوں نے اس ضمن میں نکاح نامے میں ہونے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔
ثمن طارق نے لکھا کہ وہ تمام سیلیبرٹیز جو تحریک انصاف کی حمایت کرتی ہیں، ان کو سوال اٹھانا چاہیے کہ جوائے لینڈ کو پہلے اجازت دیے جانے کے بعد اس وقت کیوں بین کیا گیا؟
تاہم ایک اور صارف نے جواب میں لکھا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن وہاں فلم پر پابندی نہیں لگی، اس لیے اس معاملے میں پوری تحریک انصاف کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہو گا کیوں کہ پنجاب کے وزیر اعلی تو پرویز الہی ہیں۔
سابقہ فلم پروڈیوسر اور سینسر بورڈ کے رکن راشد خواجہ کے خیال میں اس کے پیچھے سیاسی محرکات ہو سکتے ہیں
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’چونکہ وفاقی حکومت نے فلم کی اجازت دی، (شاید اس لیے) پنجاب نے اسے روک دیا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کا تعلق ’سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘ سے بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس طرح پی ٹی آئی کی قیادت نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عوام کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
تاہم وزیر ثقافت پنجاب ملک تیمور مسعود کا کہنا ہے کہ اس فیصلے اور وفاقی حکومت کے فلم سے پابندی اٹھانے کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ہم فلم کا دوبارہ جائزہ لینے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے، ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ [اس] میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے ہمارے معاشرے پر منفی اثر پڑے۔‘
’جوائے لینڈ‘ لاہور کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے شادی شدہ نوجوان حیدر کی کہانی ہے، جو ایک ڈانس تھیٹر میں شامل ہوتا ہے اور ایک ٹرانس جینڈر بیبا سے محبت کر بیٹھتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مخصوص مذہبی جماعتوں کی جانب سے فلم میں ایک مرد اور ٹرانس عورت کے درمیان محبت کی تصویر کشی پر اعتراض کیا گیا جس کے بعد اسمبلی سے لے کر سوشل میڈیا تک اس پر زبردست وبال مچ گیا تھا۔
راشد خواجہ کے مطابق ایسا محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر کیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’جن لوگوں نے فلم دیکھی ہے اُن کے مطابق فلم میں کوئی معیوب بات نہیں کی جا رہی اور یہی وجہ ہے کہ ابتدائی طور پر تینوں سینسر بورڈز نے بھی اسے بغیر کاٹے پاس کر دیا تھا۔‘
دوسری جانب پابندی کی مذمت میں ہونے والا شور بھی بڑھنے لگا۔ ملالہ یوسفزئی جو حال ہی میں فلم کی ایگزیکٹیو پروڈیوسر کے طور پر سامنے آئیں نے بھی فلم کے حق میں آواز بلند کی۔
وفاقی حکومت کے نئے حکومتی اعلامیے کے مطابق چند الفاظ اور مناظر کو نکال دیا گیا ہے۔
جب ملک تیمور مسعود سے پوچھا گیا کہ پنجاب نے بھی ایسا راستہ کیوں نہیں اپنایا تو وہ بولے ’ہم فلم کو دوبارہ ریویو کرنے جا رہے ہیں جس کے بعد دیکھیں گے کہ اس کو ریلیز کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ہائی پروفائل کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ فلم پر کوئی ’پابندی‘ لگا دی گئی ہے۔











