اسلام آباد میں عورت مارچ کے زیرِ حراست شرکا کی رہائی: ’20 قیدیوں کی گنجائش والے حوالات میں 80 افراد کو رکھا گیا‘

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے اُن 26 خواتین کو شخصی ضمانت پر رہا کر دیا ہے جنھیں گذشتہ روز نیشنل پریس کلب کے سامنے عورت مارچ کے دوران دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد میں عورت مارچ کے لیے جمع ہونے والے افراد کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے ہمراہ پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست لیا تھا۔

عورت مارچ کے منتظمین نے اتوار کے روز دن ایک بجے اسلام آباد کے علاقے ایف-سکس مرکز سے مارچ کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ تاہم عورت مارچ اسلام آباد کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری مختلف پیغامات کے مطابق پولیس نے عورت مارچ کے منتظمین اور مارچ میں شرکت کے لیے آنے والے کچھ شرکا کو گرفتار کیا تھا۔

اتوار کے روز ’عورت مارچ‘ میں شامل خواتین کے علاوہ کوریج کے لیے موجود بعض صحافیوں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا اور انھوں نے دوران حراست تشدد کا دعویٰ کیا ہے۔

صحافی فرحت فاطمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ویمن تھانے کی انچارج نے ’نہ صرف دیگر صحافی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ان سے پرس اور موبائل فون چھین لیے تھے۔‘

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے مظاہرین پر تشدد کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قانون کے مطابق مظاہرین کو حراست میں لیا گیا اور پھر قانون کے مطابق ہی ان کی رہائی عمل میں لائی گئی۔‘

تاہم فرحت فاطمہ کے بقول خواتین صحافیوں کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ پولیس ایکشن کے بعد تھانے میں گئی تھیں۔ اس دوران صحافیوں کو زیرِ حراست خواتین کے ساتھ ’ایک کمرے میں بند کیا گیا۔‘

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی کارکن فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ نہ صرف خواتین پولیس اہلکاروں نے بلکہ مرد پولیس اہلکاروں نے بھی ’مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے عورت مارچ میں شرکت کرنے والی خواتین کو ’اکٹھے ہی نہیں ہونے دیا اور جو بھی پریس کلب کے سامنے آتا تو اس کو گرفتار کرکے زبردستی پولیس وین میں ڈال کر تھانے منتقل کر دیا جاتا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ویمن تھانے کی حوالات میں ’80 کے قریب حوالاتی تھے۔ یہ حوالات 20 قیدیوں کے لیے بنائی گئی ہے۔‘

فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ تھانہ کوہسار اور تھانہ ابپارہ میں زیرِ حراست 35 افراد کو سحری کے وقت ’ضمانت پر رہا کیا گیا۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ دورانِ حراست مظاہرین سے ’جو نقدی، زیورات اور موبائل فون پولیس اہلکاروں نے چھینے تھے وہ ابھی تک واپس نہیں کیے۔‘

عورت مارچ کے این او سی کا تنازع

عورت مارچ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ریلی کے لیے این او سی حاصل کرنے کے لیے ایک ماہ پہلے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر نے اسے خارج نہیں کیا تھا۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ عورت مارچ کے منتظمین نے کوئی این او سی نہیں لیا تھا۔

ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کا کہنا ہے کہ عورت مارچ کی مرکزی قیادت اور متعدد حمایتی اسلام آباد کے جی سیون تھانے میں موجود ہیں۔

علی رضا کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے، جن کے خلاف سیکشن 188 کے تحت کاروائی ہوگی۔

مقامی پولیس کے مطابق فرزانہ باری سمیت 10 خواتین کو سیکشن 144کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا ہے کہ تھانے میں آ کر احتجاج کرنے والوں کو کارِ سرکار میں مداخلت کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔

علی رضا کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کا احترام کرتے ہوئے حیا مارچ اور شہیر سیالوی نے بھی اپنے احتجاج موخر کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے گذشتہ رات ان کو شوکاز نوٹس بھی دیے تھے۔

اس حوالے سے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر سے عورت مارچ کی آرگنائزر فرزانہ باری کو بھیجا گیا ایک مراسلہ بھی سامنے آیا ہے۔

سات مارچ کو بھیجے گئے اس مراسلے میں کہا گیا تھا اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی بھی طرح کے غیر قانونی اجتماع، ریلیوں اور احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امن کی صورتحال کے پیشِ نظر، بنا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی منظوری کے ریلی نہ نکالی جائے۔

’حکام کس چیز سے خوفزدہ ہیں؟ چند سو خواتین سے؟‘

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے عورت مارچ کے منتظمین اور شرکا کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہوئے کہا ہے کہ ’خواتین کا عالمی دن منانا تمام پاکستانی خواتین کا جائز حق ہے اور حکام کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔‘

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ ’امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر ایسے جابرانہ اقدامات انتہائی افسوسناک ہیں۔‘

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ ’پرامن مارچ کرنے کی خواہشمند خواتین کو گرفتار کرنا۔ حکام اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ اور کس چیز سے ڈرتے ہیں؟ چند سو خواتین [سے]؟‘

صحافی ابصا کومل ایکس پر لکھتی ہیں ’ایک ایسی ریاست جو اپنے ہی وفاقی دارالحکومت میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کے پرامن احتجاج کو برداشت نہیں کر سکتی اسے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں کسی کو لیکچر دینے کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔‘

ایک طرف جہاں سوشل میڈیا پر حکومت کی جانب سے عورت مارچ کے شرکا کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کی جا رہی ہے وہیں کچھ صارفین سے اسے غیر قانونی اقدام قرار دے رہے ہیں۔

ایک صارف لکھتے ہیں کہ کیا عورت مارچ کے منتظمین کو نہیں پتا تھا کہ دفعہ 144 نافذ ہے۔

ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ پاک، افغان سرحد پر جنگ جاری ہے، گیس کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہیں، ایسے میں یہ مارچ کچھ وقت کے لیے ملتوی کیا جا سکتا تھا۔