برطانوی بادشاہ چارلس میں کینسر کی تشخیص

چارلس

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشن75 سالہ برطانوی بادشاہ دورانِ علاج اپنی عوامی مصروفیات سے کنارہ کش ہو جائیں گے

بکنگھم پیلس کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے بادشاہ چارلس میں کینسر کی ایک قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔

شاہی محل کے مطابق یہ پروسٹیٹ کینسر نہیں لیکن اس کی تشخیص شاہ چارلس کے بڑھے ہوئے پروسٹیٹ کے علاج کے دوران ہوئی۔

بادشاہ کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ بادشاہ کو کس قسم کا کینسر ہے لیکن بیان کے مطابق بادشاہ نے پیر کو 'باقاعدہ علاج' شروع کر دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے شاہ چارلس کو بڑھے ہوئے پروسٹیٹ کے آپریشن کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا اور ان کی بیماری کو محل نے معمولی قرار دیا تھا۔

شاہی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 75 سالہ برطانوی بادشاہ اپنی عوامی مصروفیات ملتوی کر دیں گے اور شاہی خاندان کی سینیئر شخصیات ان تقریبات میں ان کی جگہ شریک ہوں گی۔

ایک بیان میں، شاہی محل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بادشاہ 'اپنے علاج کے بارے میں مکمل طور پر مثبت رویہ رکھتے ہیں اور جلد از جلد مکمل عوامی ذمہ داریاں نبھانے کی طرف واپسی کے منتظر ہیں۔'

کینسر کی تشخیص یا اس بارے میں کہ وہ کس مرحلے تک پہنچ چکا ہے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ ان کی کیموتھیراپی کی جائے گی لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کینسر ابتدائی مرحلے میں پکڑا گیا ہے۔

شاہ چارلس نے اپنے دونوں بیٹوں کو خود اپنے مرض کے بارے میں مطلع کیا اور بتایا جاتا ہے کہ شہزادہ ولیم مسلسل اپنے والد سے رابطے میں تھے۔

شہزادہ ہیری نے بھی جو امریکہ میں مقیم ہیں، اپنے والد سے بات کی ہے اور وہ آنے والے دنوں میں ان سے ملاقات کے لیے برطانیہ بھی آئیں گے۔

شاہ چارلس کو اتوار کے روز سینڈرنگھم میں ایک گرجا گھر کی دعائیہ تقریب میں دیکھا گیا تھا جہاں سے وہ پیر کو والس لندن آئے اور شاہی محل کے مطابق اسی روز ان کا علاج شروع ہوا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اگرچہ شاہ چارلس عوامی مصروفیات ترک کر دیں گے لیکن ریاست کے سربراہ کے طور پر اپنا آئینی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

برطانیہ میں ریاست کے سربراہ کے سرکاری ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کے قابل رہنے کی صورت میں ایک آئینی طریقۂ کار موجود ہے جس کے تحت ’ریاستی مشیران‘ کا تقرر کیا جا سکتا ہے جو شاہ کی ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں۔

اس وقت ان مشیران میں ملکہ کمیلا، شہزادہ ولیم، شہزادی این اور شہزادہ ایڈورڈ شامل ہیں جبکہ شہزادہ ہیری اور شہزادہ اینڈریو کو اب اس فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ شاہی خاندان کے غیر عملی رکن بن چکے ہیں۔

برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم نے بھی اپنی اہلیہ پرنسس آف ویلز شہزادی کیتھرین کے آپریشن کے بعد ان کا ساتھ دینے کے لیے حال ہی میں عوامی مصروفیات عارضی طور پر ترک کی تھیں لیکن پیر کو اعلان کیا گیا ہے کہ وہ اسی ہفتے عوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا آغاز کر دیں گے۔

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل لندن کے ایک نجی ہسپتال میں شاہ چارلس کے پروسٹیٹ کا علاج بھی ہوا تھا۔ بادشاہ نے اپنے پروسٹیٹ کے علاج کے بارے میں معلومات عام کرنے کا انتخاب کیا تھا، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ مردوں کو پروسٹیٹ کا معائنہ کروانے کی ترغیب دینا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ وہ اس مسئلے کے بارے میں بیداری پیدا کرنے پر خوش ہیں اور نیشنل ہیلتھ سروس کی ویب سائٹ کے مطابق پروسٹیٹ کی حالت کے بارے میں آگاہی کے بارے میں اضافہ ہوا ہے۔.

کینسر کی بہت سی اقسام ایسی ہیں جن کا شکار ہونے کا خطرہ عمر کے ساتھ بڑھتا ہے۔ برطانوی اعدادوشمار کے مطابق اوسطاً ہر برس 75 برس سے زیادہ عمر کے افراد میں کینسر کے 36 فیصد نئے مریض سامنے آتے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم رشی سونک کے علاوہ لیبر پارٹی کے رہنما سر کین سٹارمر اور دارالعوام کے سپیکر سر لنڈسے ہوائل نے بادشاہ کی مکمل اور جلد صحتیابی کی امید ظاہر کی ہے۔