چارلس برطانیہ کے بادشاہ مقرر، ان کا دورِ بادشاہت کیسا ہو گا؟

Charles

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شون کوفلن
    • عہدہ, شاہی امور کے نامہ نگار

برطانوی تاریخ میں تخت کے سب سے طویل عرصے تک وارث رہنے والے چارلس اب بادشاہ ہیں۔ 70 سال تک بطور وارث جاری رہنے والی تربیت نے انھیں تخت پر بیٹھنے کے لیے اب تک کی سب سے بہترین تیاری کا حامل اور سب سے بڑی عمر کا نیا بادشاہ بنایا ہے۔

73سالہ بادشاہ اپنی والدہ کے طویل دورِ حکمرانی کے دوران وہاں موجود تھے، اور انھوں نے کئی نسلوں کے عالمی رہنماؤں کو آتے جاتے دیکھا جن میں برطانیہ کے 15 وزرائے اعظم اور 14 امریکی صدور بھی شامل ہیں۔

ملکہ الزبتھ دوم کے شاندار اور عہد ساز دورِ حکمرانی کے بعد ہم کس طرح کے بادشاہ کی توقع کر سکتے ہیں؟ اور مسائل پر بات کرنے والے شہزادے بادشاہ کی غیر جانبداری کو کیسے اپنائیں گے؟

بادشاہ کے طور پر چارلس کے پاس اب اپنا پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہو گا یا عوامی سطح پر وہ کسی معاملے پر اپنی رائے کھل کر نہیں دے سکیں گے۔ بادشاہ ہونا ذات سے بڑھ کر ہے۔

معروف آئینی ماہر پروفیسر ورنن بوگڈانور کا خیال ہے کہ یہ مختلف کرداروں اور مختلف قوانین کا معاملہ ہے۔

پروفیسر بوگڈانور کہتے ہیں کہ 'وہ اپنے ابتدائی دنوں سے ہی جانتے ہیں کہ انھیں اپنا انداز بدلنا پڑے گا۔ عوام کسی قسم کی مہم چلانے والا بادشاہ نہیں چاہیں گے۔'

چارلس کم بولنے کی ضرورت کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں۔ انھوں نے 2018 میں بی بی سی کے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میں اتنا بیوقوف نہیں ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ شاہی حکمران ہونا ایک الگ مشق ہے۔ یہ خیال کرنا کہ میں بالکل اسی طرح معاملات جاری رکھوں گا، سراسر حماقت ہے۔‘

جب کوئی نیا بادشاہ تخت پر بیٹھتا ہے، تو سکوں پر موجود شاہی پروفائل کو مخالف سمت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ چارلس کے دور میں بھی توجہ مختلف طرف ہو گی۔

پروفیسر بوگڈانور کا کہنا ہے کہ شاہ چارلس جس ملک پر حکومت کریں گے وہ اپنی والدہ سے وراثت میں ملنے والے ملک سے کہیں زیادہ متنوع ہے، اور نئے بادشاہ ایک کثیر الثقافتی، اور کئی مذاہب والے برطانیہ کے حکمران ہوں گے۔

ان سے توقع ہے کہ وہ ایک متحد قوت کے طور پر کام کرنے کی کوشش کریں گے، نسلی اقلیتوں اور پسماندہ گروہوں کے ساتھ جڑنے کی زیادہ واضح کوششیں کریں گے۔

1px transparent line
Charles joins members of the British Asian Trust (BAT) for a short distance as they kick-start BAT's 'Palaces on Wheels' Sponsored Bike Ride, at Highgrove House in Tetbury, Gloucestershire on June 10, 2021

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگلوسٹر شائر کے ہائیگرو ہاؤس میں سپانسرڈ بائیک ریس کے آغاز میں برٹش ایشین ٹرسٹ کے ممبران کے ساتھ
1px transparent line

پروفیسر بوگڈانور توقع کرتے ہیں کہ بادشاہ چارلس کے دورِ حکومت میں فنون لطیفہ، موسیقی اور ثقافت کی زیادہ شاہی سرپرستی کی جائے گی یعنی زیادہ شیکسپیئر اور کم گھڑ دوڑ۔

لیکن سر لائیڈ ڈورفمین، جنھوں نے شاہ چارلس کے ساتھ ان کے پرنس ٹرسٹ کے خیراتی ادارے میں کئی سالوں تک کام کیا ہے کا خیال ہے کہ بادشاہ چارلس کے دور حکومت میں موسمیاتی تبدیلی اور نامیاتی کاشتکاری جیسے مسائل میں ان کی شرکت مکمل طور پر ختم نہیں ہو گی۔

سر لائیڈ کا کہنا ہے کہ 'وہ (بادشاہ چارلس) بہت زیادہ قابل، بہت زیادہ مؤثر ہیں، یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ جس دن وہ تخت کے حکمران ہو جائیں گے وہ ایک دم یہ سب کچھ چھوڑ دیں گے۔'

بادشاہ کی 'سلمڈ ڈاؤن' بادشاہت کو ترجیح دینے کے بارے میں کافی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ممکنہ طور پر شاہی ارکان کے ایک چھوٹے بنیادی گروپ پر زیادہ زور دیا جائے گا، جس میں مرکزی طور پر چارلس اور کمیلا، پرنس ولیم اور کیتھرین شامل ہیں۔

1px transparent line
Royal Family on the balcony of Buckingham Palace, June 2022

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجون 2022 میں بکنگھم پیلس کی بالکونی میں
1px transparent line

شاہی امور کی مبصر وکٹوریہ مرفی کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود، نئے دورِ حکومت کا غالب پیغام تسلسل اور استحکام ہو گا۔

وہ کہتی ہیں کہ 'کسی بڑے، تلخ اختلافات کی توقع نہ کریں۔ وہ بہت محتاط رہیں گے۔'

شاہی امور کے مبصر اور مصنف رابرٹ ہارڈمین کا کہنا ہے کہ 'ہم نے ہمیشہ ملکہ کو ہی قومی زندگی میں مستقل تصور کیا ہے، لیکن ان کے علاوہ، وہ (بادشاہ چارلس) عوامی زندگی کو کسی بھی سیاست دان سے زیادہ عرصے سے سمجھتے ہیں۔'

مورخ اور مصنف سر انتھونی سیلڈن کا خیال ہے کہ شاہ چارلس ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں تنبیہ جیسے مسائل پر درست ثابت ہونے سے مزید پر اعتماد ہوئے ہیں۔

سر انتھونی کا کہنا ہے کہ پہلے ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا مگر اب یہ ’ڈیوڈ ایٹنبورو کا دور‘ ہے۔

مثال کے طور پر 2021 میں گلاسگو میں موسمیاتی تبدیلی کے سربراہی اجلاس میں چارلس کو امریکی صدر جو بائیڈن جیسی شخصیات نے سنجیدگی سے لیا۔ ہارڈمین کے مطابق، عالمی سطح پر ان کا مقام بادشاہ کے عہدے پر ان کے بہت کام آئے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہ صرف بے معنی بات نہیں تھی۔ وہ دونوں ایک کونے میں اکٹھے بیٹھ گئے اور بائیڈن کہہ رہے تھے: ’یہ سب کچھ آپ ہی کی بدولت ہے۔‘

لیکن ہم نئے بادشاہ کو کیسے کردار میں دیکھیں گے؟

جو لوگ انھیں جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک حد تک شرمیلے، خود تک محدود رہنے والے شخص ہیں۔ اگر ان کی چند الفاظ میں تعریف بیان کی جائے تو وہ ایک 'حساس انسان' ہیں۔

1px transparent line
Official photograph to mark the prince's 18th birthday

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنشہزادے کی 18ویں سالگرہ کے موقع پر لی گئی سرکاری تصویر
1px transparent line

ان کی شخصیت میں ایک اداس بچے کی شبیہ ملتی ہے جسے سکول میں دیگر بچوں نے تنگ کیا اور اپنے سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔

انھوں نے بچپن میں اپنے سکول ہاسٹل سے گھر بھیجے گئے ایک خط میں لکھا تھا کہ 'وہ رات بھر چپلیں پھینکتے ہیں یا مجھے تکیوں سے مارتے ہیں یا کمرے میں بھاگتے ہیں اور جتنا ہو سکے مجھے مارتے ہیں۔'

ان کی اہلیہ کمیلا، جو اب کوئین کنسورٹ ہیں نے ان کی شخصیت کو کچھ اس طرح بیان کیا، ' کافی بے صبرے، وہ چاہتے ہیں کہ گزرے دن کام ہو جائے، وہ اس طرح کام کرتے ہیں۔'

انھوں نے چارلس کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ عوامی سطح پر ان کی جو سنجیدہ شخصیت نظر آتی ہے، اس کے پیچھے ان کی شخصیت کا ایک زیادہ چنچل پہلو بھی ہے۔

کمیلا کا کہنا تھا کہ 'وہ انھیں ایک بہت سنجیدہ شخص کے طور پر دیکھتی ہیں، جو وہ ہیں بھی۔ لیکن میں چاہوں گی کہ لوگ ان کی شخصیت کے ہلکے پہلو کو بھی دیکھیں۔ وہ گھٹنوں کے بل جھکتے ہیں اور بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، ان کو ہیری پوٹر پڑھ کر سناتے اور آوازیں نکالتے ہیں۔'

چارلس جب عوامی سطح پر ملاقاتیں کرتے ہیں تو وہ ایک آسان اور قابل رسائی شخصیت بن جاتے ہیں، اپنے سامعین کو چند خود پسندانہ لطیفوں کے ساتھ خوش کرتے ہیں ۔ شاید یہ بادشاہ بن کر تبدیل ہو جائے گا، لیکن پرنس آف ویلز کے طور پر انھوں نے ایک ملنسار، دادا جی کے انداز کی شخصیت بنا رکھی ہے، جس میں کوئی سختی نہیں ہے۔

1px transparent line
Prince Charles with Prince Louis, June 2022

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجون 2022 میں پلاٹینم جوبلی کے موقع پر چارلس اپنے پوتے پرنس لوئس کے ساتھ
Charles and Camilla laughing during the Braemar Highland Gathering on 3 September 2022

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبادشاہ چارلس سوم اور کوئین کنسورٹ
1px transparent line

ایک ایسے آدمی کے طور پر جو 70 کی دہائی میں ہے، بادشاہ اپنی تیز رفتار فطرت میں تبدیلی لانے کا کوئی اشارہ ظاہر نہیں کرتے۔

کرس پوپ، جنھوں نے پرنسز ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ میں چارلس کے ساتھ کام کیا، نئے بادشاہ کو ایک مسلسل مصروف رہنے والا، کسی خیال کے پیچھے دل لگا کر کام کرنے والا شخص بیان کرتے ہیں ’توانائی کا بنڈل‘ جو کام کا بہت بڑا بوجھ اٹھا رہا ہے۔

پوپ کا کہنا ہے کہ ’وہ حقیقی طور پر اگلی نسل کی فلاح و بہبود کے لیے پرجوش ہیں۔ وہ ایسے بہت سے کام کرتے ہیں جن میں آپ کو یہ چیز نظر آئے گی۔‘

شہزادے کے خیراتی کاموں میں ورثے کی حفاظت اور روایتی دستکاری کی مہارتوں کا تحفظ شامل ہے — لیکن ساتھ ہی ساتھ جدت اور تبدیلی کی حوصلہ افزائی بھی اس کا حصہ ہے۔

پوپ کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمیشہ اس بارے میں فکرمند رہتے ہیں کہ روایات ختم نہ ہو جائیں، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ کہیں کہ ہمیں گھڑی کو پیچھے کرنا پڑے گا۔‘

ایسا لگتا ہے کہ نئے بادشاہ کا کردار ان موضوعات کو ایک جگہ اکھٹا کرتا ہے جو مختلف سمتوں میں کھینچتے نظر آتے ہیں، تبدیلی کی خواہش رکھتے ہوئے وہ ورثے کا تحفظ چاہتے ہیں۔

1px transparent line
Prince of Wales poses during a visit to Shipton Mill, Tetbury in Gloucestershire - which holds the HRH Royal Warrant and specialises in high quality traditional milling - July 2020

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشاہ چارلس گلوسٹر شائر میں شپٹن مل میں، یہ مل شاہی وارنٹ رکھتی ہے
Charles addressing an Action on Forests and Land Use event on day three of the COP26 Climate Conference in Glasgow, November 2021

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچارلس نومبر 2021 گلاسگو میں COP26 موسمیاتی کانفرنس کے تیسرے دن جنگلات اور زمین کے استعمال سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے
1px transparent line

وہ کبھی کبھی سرخ گالوں والے زمیندار کی طرح لگتے ہیں جو 18ویں صدی کی پینٹنگ سے نکل کر سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ اور ابھی کبھار وہ ایک اصلاح کے حامی ایک مایوس شخص کی طرح دکھتے ہیں جو اس بات پر ناراض ہے کہ کس طرح کچھ کمیونٹیز کو نظرانداز کیا گیا ہے اور انھیں زمانے سے پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔

والدہ سے وراثت میں ملنے والا فرض کا احساس ان کے لیے بہت مددگار ہو گا لیکن بادشاہ چارلس نے ان سے مدہبی عقیدہ اور ان کی حسِ مزاح بھی وراثت میں پائی ہے۔

2007 میں برٹش ایشین ٹرسٹ کے قیام میں مدد کے بعد سے ہیتن مہتا نے ان کے ساتھ کام کیا ہے۔

مہتا کہتے ہیں ’وہ دل سے انسان دوست شخص ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگ انھیں کم سمجھتے ہیں کہ وہ کتنا خیال رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ اکثر اس دنیا کے بارے میں بات کرتے ہیں جسے وہ اپنے پوتے پوتیوں کے لیے چھوڑ کر جائیں گے۔ انھیں اس کی فکر ہے۔‘

مہتا کہتے ہیں کہ اس کا مطلب براہ راست کال ٹو ایکشن ہو سکتا ہے۔ ’جمعہ کی رات کے نو بجے ہوں گے جب مجھے ان کا فون آیا کہ میں نے ابھی پاکستان میں سیلاب کے بارے میں سنا ہے، ہم کیا کر رہے ہیں؟‘ ایسا نہیں ہے کہ وہ کوئی مصروف شخصیت نہیں ہے۔ لیکن انھوں نے اس مسئلے کے بارے میں سنا ہے اور وہ اس پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ واقعی پرواہ کرتے ہیں۔‘

شہزادہ ہیری نے اپنے والد کے بارے میں کہا کہ ’وہ ایسے آدمی ہیں جو رات کو بہت دیر سے کھانا کھاتے ہیں پھر اپنے کام والی میز پر جا کر کام کریں گے اور ادھر ہی کام کرتے کرتے نوٹس پر سر رکھ کر سو جائیں گے۔‘

1px transparent line
Princess Elizabeth of England and her husband Prince Philip, Duke of Edinburgh with their baby Prince Charles on July 1949 at Windlesham Moor, Surrey.

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنچارلس 1948 میں بکنگھم پیلس میں پیدا ہوئے
1px transparent line

چارلس فلپ آرتھر جارج 14 نومبر 1948 کو بکنگھم پیلس میں پیدا ہوئے تھے۔ جب بی بی سی نے ان کی پیدائش کا اعلان کیا تو خبر یہ نہیں تھی کہ ملکہ کے ہاں لڑکا ہوا ہے، بلکہ یہ کہ ان کی والدہ نے خیر خیریت سے شاہی اولاد کو جنم دیا ہے۔ چار سال بعد وہ وارث کے طور پر سامنے آئے۔

چارلس نے 2005 کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’میں جس خاص خاندان میں اور جس حیثیت سے پیدا ہوا ہوں، میں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہوں۔ اور جو کچھ میں مدد کر سکتا ہوں وہ کروں گا۔‘

وہ 400 سے زیادہ تنظیموں کے سرپرست یا صدر رہے ہیں اور 1976 میں انھوں نے رائل نیوی سے اپنی علیحدگی کی تنخواہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنا فلاحی ادارہ پرنسز ٹرسٹ قائم کیا۔

اس نے ملک کے غریب ترین حصوں میں سے تقریباً 90 لاکھ پسماندہ نوجوانوں کی مدد کی ہے اور چارلس کو سماجی مسائل کے بارے میں مزید آگاہی فراہم کی ہے۔

پرنسز ٹرسٹ کے لیے ان کے منصوبے جس کو وہ ’معاشرے میں ان لوگوں تک پہنچنا جن تک رسائی بہت مشکل ہے‘ کہتے ہیں، اس حوالے سے انھیں ہر مرتبہ کامیابی حاصل نہیں ہو پاتی۔

انھوں نے 2018 میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ’ہوم آفس کے خیال میں یہ بالکل اچھا خیال نہیں تھا۔ اسے شروع کرنا مشکل رہا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کے کام کی وجہ سے ان پر سیاسی مداخلت کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں جن میں خاص طور پر نام نہاد ’بلیک سپائیڈر میمو‘ ہے۔ اس کا نام چارلس کی سپائیڈری لکھائی کی وجہ سے رکھا گیا، یہ وہ نجی خطوط تھے جو سنہ 2004 میں چارلس کی جانب سے حکومتی وزرا کو لکھے گئے تھے۔

خطوط میں کاشتکاری، شہری منصوبہ بندی، فن تعمیر، تعلیم اور یہاں تک کہ پیٹاگونین ٹوتھ فش کی حفاظت جیسے مسائل کے حوالے سے حکومتی حکمتِ عملی پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

1px transparent line
Charles, known for his public views on architecture, at his Poundbury village development in Dorset in 1999

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچارلس کو فن تعمیر پر ان کے عوامی خیالات کے حوالے سے جانا جاتا ہے
1px transparent line

چارلس کی لابنگ کا سامنا کرنے والے کابینہ کے ایک سابق وزیر نے کہا کہ وہ خود کو بہت زیادہ دباؤ میں محسوس نہیں کرتے تھے، لیکن نئے بادشاہ کے بارے میں ان کی یادداشت کسی ایسے شخص کی ہے جنھوں نے پہلے سے اپنی رائے بنا رکھی ہو۔ انھوں نے چارلس کو پہلے سے طے شدہ خیالات کے ساتھ وہاں دیکھا۔ اور وہ مخالف فریق کے دلائل سننے یا اس سے مشاورت کرنے کے بجائے انھی خیالات کا تعاقب کرنا چاہتے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’میں نے انھیں ڈرانے یا دھمکانے والے شخص کے طور پر نہیں دیکھا۔ وہ اپنا خیال پیش کریں گے اور آپ کو خطوط لکھیں گے۔ وہ زور نہیں دیتے تھے نا ہی آپ کو زبردستی کام کرنے کا کہتے۔ میں نے انھیں بداخلاقی یا غیر مہذب رویہ اپناتے نہیں دیکھا۔‘

مداخلت کے دعوؤں کے حوالے سے 2006 کے ایک انٹرویو میں، چارلس نے کہا: ’اگر یہ مداخلت ہے، تو مجھے اس پر بہت فخر ہے۔‘ لیکن انھوں نے تسلیم کیا کہ انھیں جیت نہیں حاصل ہونے والی تھی۔

چارلس کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کچھ نہیں کرتے، کسی بارے میں کچھ نہیں کہتے تو تب بھی وہ آپ کی شکایت کریں گے، لیکن اگر آپ کوشش کر کے مدد کرنا چاہتے ہیں تو تب بھی وہ آپ کی شکایت کریں گے۔‘

بعد میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے پارٹی سیاست سے گریز کیا ہے، لیکن ’جن حالات میں لوگ رہ رہے ہیں‘ ایسے مسائل پر بات کرنے کے لیے خود کو مجبور پایا۔

سابق لیبر وزیر کرس مولن نے اپنی ڈائریوں میں چارلس کے ساتھ بریفنگ کے بارے میں بتایا کہ وہ کس طرح ان کی مستقل مزاجی اور کسی کام کے سلسلے میں سرکاری افسران کی ناراضگی مول لینے کو بھی تیار رہنے والی عادت سے حیران تھے۔ ’وہ اسی مقصد کے پیچھے لگے رہتے تھے کہ کس طرح نوجوانوں کے لیے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں، خاص طور پر ناامید، بدقسمت اور یہاں خود کو برا بھلا کہنے والے نوجوانوں کے لیے بھی۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں متاثر ہوں، یہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اگر ایک چیز کا انتحاب کر لیا تو بھلے ان کی تمام زندگی اس پر لگ جائے وہ اس مقصد کو پورا کرکے رہتے ہیں۔‘

1px transparent line
HRH Prince Charles Prince of Wales poses for an official portrait to mark his 70th Birthday in the gardens of Clarence House, with Their Royal Highnesses Camilla Duchess of Cornwall, Prince William Duke of Cambridge, Catherine Duchess of Cambridge, Prince George, Princess Charlotte, Prince Louis, Prince Harry Duke of Sussex and Meghan Duchess of Sussex, on September 5, 2018 in London, England.

،تصویر کا ذریعہChris Jackson / Clarence Hous via Getty images

،تصویر کا کیپشنکلیرنس ہاؤس کے باغات میں شاہ چارلس کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر ایک سرکاری پورٹریٹ
1px transparent line

انھیں کتنی عوامی حمایت حاصل ہوگی؟

چارلس نے کہا تھا کہ ’بادشاہت جیسی دلچسپ چیز زندہ نہیں رہ پائے گی جب تک کہ آپ لوگوں کے رویوں کو اہمیت نہیں لیں گے۔ اگر لوگ نہیں چاہتے تو یہ چیز نہیں رہے گی۔‘

دسمبر 2021 میں یوگوؤ کی طرف سے کی گئی تحقیق کے مطابق، ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، تقریباً دو تہائی لوگ ان کے حوالے سے مثبت سوچتے ہیں۔

لیکن رائے عامہ کے جائزوں نے انھیں مسلسل اپنی والدہ ملکہ الزبتھ دوم یا ان کے بیٹے شہزادہ ولیم سے کم مقبول دکھایا ہے، اس لیے انھیں ابھی عوام کے ایک بڑے حصے کا دل جیتنا ہے خاص طور پر نوجوانوں میں ان کی مقبولیت کم ہے۔

وکٹوریہ مرفی کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ٹی وی شوز اور فلموں میں چارلس کی پہلی بیوی، ڈیانا، پرنسز آف ویلز کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں ان کی غیر ہمدردانہ تصویر کشی ہو سکتی ہے، ڈیانا اگست 1997 میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

یہ حقیقت اور افسانے کا مجموعہ ہو سکتے ہیں، لیکن اس سب نے بہت زیادہ اثر ڈالا ہے۔

مرفی کا کہنا ہے کہ ’پچھلے چند سالوں میں جو بات واقعی دلچسپ رہی وہ یہ ہے کہ شاہی خاندان کے گرد ایک نظریے کی طرح ڈیانا کس طرح آگے بڑھتی جا رہی ہیں۔‘

لندن یونیورسٹی کے رائل ہولوے میں سینٹر فار دی سٹڈی آف ماڈرن مونارکی کے پروفیسر پولین میکلرن کا کہنا ہے کہ جیسے ہی چارلس تخت کے قریب پہنچے ہیں، عوامی تاثر کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پروفیسر میکلرن کہتے ہیں کہ جیسے کسی کامیڈی شوز میں ان کے مضحکہ خیز کردار کو آہستہ آہستہ ایک باوقار شخصیت میں تبدیل کیا جاتا ہے اور اب وہ ایک ایسی بزرگ شخصیت ہیں جو ماحول کے بارے میں سنجیدہ باتیں کرتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ عوام کی رائے تبدیل نہ ہو اور شاہی خاندان کے سربراہ کے طور پر انھیں شہزادہ ہیری اور میگھن، ڈچز آف سسیکس، اور شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں سنائی جانے والی کہانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

1px transparent line
The Prince of Wales follows the Land Rover Defender carrying the coffin of the Duke of Edinburgh ahead of the funeral of the Duke of Edinburgh at Windsor Castle, Berkshire, 17 April 2021.

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشن2021 میں اپنے والد شہزادہ فلپ کی آخری رسومات میں وہ بظاہر پریشان نظر آئے
1px transparent line

جب شاہی افراد کے بارے میں کہانیاں مشہور شخصیات کی زندگیوں جیسی لگنے لگیں، یہ ایسے معاملات نہیں ہیں جن میں چارلس کو دسترس حاصل ہے۔

شاہ چارلس کو خاندان میں دیگر سخت فیصلوں کا بھی سامنا ہے، جیسے کہ پرنس اینڈریو کے تصفیے کے معاہدے کے بعد جو ورجینیا جیفری کے جنسی استحصال کے دعووں کے بعد ہوئی — اب ان کا مستقبل میں کردار کیا ہو گا، یا ان کے کردار میں کس حد تک کمی لائی جائے گی۔

برطانیہ سے باہر، ایک بڑا چیلنج دولتِ مشترکہ کے ساتھ زیادہ جدید تعلقات کو از سر نو متعین کرنا ہوگا۔ کہ نئے سربراہ کے طور پر ان کا دولت مشترکہ کے ممالک کا دورہ کس طرح نوآبادیاتی دور کی مشکل میراث اور غلامی جیسے مسائل کو حل کر سکتا ہے؟

شاہ چارلس برطانیہ کے ساتھ ساتھ 14 ممالک کے سربراہ بن چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ دولت مشترکہ کے ممبروں کی حیثیت سے رہتے ہوئے جمہوریہ بننا چاہتے ہیں، اور شاہ چارلس نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ تبدیلی کے بارے میں بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

پہلے ہی ایسے فیصلے ہو چکے ہیں جنھوں نے ان کے نئے دور حکومت کی راہ ہموار کر دی ہے۔ وہ اس چیز سے ضرور خوش ہوئے ہوں گے جب ان کی والدہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کمیلا کو شہزادی کے بجائے ملکہ کونسورٹ کا خطاب استعمال کرنا چاہیے۔

ایک ایسی عمر میں جب زیادہ تر لوگ ریٹائر ہو چکے ہوتے ہیں، وہ دنیا کے اعلیٰ ترین عہدوں میں سے ایک پر کام کا آغاز کر رہے ہیں، ایسے میں کمیلا ایک اہم معاون ثابت ہوں گی۔

یہ لمحہ تمام زندگی سے ان کا منتظر رہا ہو گا۔

اب آگے وقت شاہ چارلس کا ہے۔