یوکرین جنگ: کیئو کا کہنا ہے کہ روس نئے سال میں بڑے زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے

یوکرینی ٹینک

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیوکرینی فوجی بخموت کے محاذ پر جہاں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں

یوکرین نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ فوجی ناکامیوں کے باوجود روس نئے سال کے شروع میں وسیع پیمانے پر زمینی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

صدر ولادمیر زیلنسکی اور سینئر حکام نے متنبہ کیا ہے کہ کیئو اور اس کے اتحادیوں کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔

اعلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مشرقی ڈونباس کے علاقے میں، جنوب میں، یا کیئو پر بھی ہو سکتا ہے۔ مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی کامیاب جارحانہ زمینی کارروائیوں کی صلاحیت تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔

برطانیہ کے سب سے سینئر فوجی افسر ایڈمرل سر ٹونی راڈاکن نے اس ہفتے کہا تھا کہ جنگ ماسکو کے لیے مزید خراب ہو گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب اسے توپ خانے کے اسلحے کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات کے شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ روس، جسے میدان جنگ میں متعدد نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایک وسیع پیمانے پر نئے حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

ان کے اندازے کے مطابق ایسا فروری میں ہوسکتا ہے جب اکتوبر میں یوکرین کی جنگ کے لئے بھرتی کردہ 300،000 روسی فوجیوں میں سے نصف تربیت مکمل کر لیں گے.

ریزنیکوف نے برطانوی روزنامے گارڈین کو بتایا ’دوسرے مرحلے پر تقریبا 150،000 فوجیوں کو متحرک کرنے میں کم سے کم تین ماہ لگیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پچھلے سال کی طرح فروری میں ممکنہ طور پر جارحیت کی اگلی لہر شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ان کا منصوبہ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’کریملن فتح حاصل کرنے کے لئے نئے طریقے ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ روس مزید شہریوں کو متحرک کر سکتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جریدے دی اکانومسٹ نے جمعرات کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ماسکو کا نیا حملہ جنوری کے اوائل میں ہوسکتا ہے لیکن زیادہ خدشہ موسم بہار میں ہے۔ یہ اندازہ صدر زیلنسکی، جنرل ویلیری زلوژنی اور جنرل اولیکسنڈر سیرسکی کے حالیہ انٹرویو کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

یوکرین کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل زلوژنی کا کہنا تھا کہ روس تقریباً 200,000 نئے فوجی تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ’سو فیصد تیار ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ یوکرین کا ’بہت اہم سٹریٹجک کام حملے کی تیاری کرنا ہے جو فروری میں ہوسکتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ مارچ میں۔‘

دونوں فریقین نے کرسمس کے موقع پر جنگ بندی سے انکار کیا ہے اور فی الحال تنازع کو ختم کرنے کی غرض سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں تعطل پیدا ہو سکتا ہے، چاہے شدید لڑائی جاری ہو، خاص طور پر ڈونیسک کے علاقے میں، جہاں روسی افواج بخموت شہر پر قبضہ کرنے کے لئے زور لگا رہی ہیں.

یوکرین نے مغربی حمایت سے روسی میزائلوں کے خلاف اپنے فضائی دفاع کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے، لیکن وہ مزید جدید ہتھیاروں کا مطالبہ کر رہا ہے۔

جمعرات کے روز مغربی اتحادیوں نے اضافی فنڈنگ اور فوجی تربیت کے ساتھ اپنی حمایت میں اضافہ کیا۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے اگلے سال یوکرین کو 18 بلین یورو کی مالی اعانت فراہم کرنے پر اتفاق کیا اور ماسکو پر مزید پابندیوں کا اعلان کیا۔

واشنگٹن میں امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ جرمنی میں یوکرین کے فوجی اہلکاروں کی تربیت میں توسیع کرے گی۔ جنوری سے ہر ماہ میں 500 فوجیوں کو تربیت دی جائے گی۔ یہ ان 15،000 یوکرینی فوجیوں کے علاوہ ہوں گے جنھیں امریکہ اور اس کے اتحادی اپریل کے بعد سے اب تک تربیت دے چکے ہیں۔