یوکرین روس جنگ: روس کا یوکرین پر ’جوہری دھماکوں‘ کی تیاری کا الزام، صدر زیلنسکی کی تردید

روس، یوکرین

،تصویر کا ذریعہReuters

یوکرین نے روسی حکام کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا کہ ’کیئو تابکاری کے مواد سے لیس دھماکوں کا استعمال کر سکتا ہے۔‘

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ روس خود ایسی نوعیت کے حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ یوکرین کے اتحادیوں نے بھی ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ ایسے ہر دعوے کو مسترد کرتے ہیں جن کی بنیاد پر روس مزید جارحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے۔

روسی وزیر دفاع سرگئی شویگو نے برطانوی ہم منصب بین والس کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے دوران کہا تھا کہ انھیں کیئو کی جانب سے خطرناک بم کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے تشویش ہے۔

اتوار کو روسی وزیر دفاع نے امریکہ، فرانس اور ترکی کے وزرائے دفاع سے بھی فون پر رابطہ کیا اور انھیں ماسکو کی تشویش کے حوالے سے آگاہ کیا۔

اس کے ردعمل میں صدر زیلنسکی نے روس پر الزام لگایا کہ اس جنگ میں ہر خطرناک چیز کے پیچھے روس ہے۔

انھوں نے کہا کہ روس نے زاپوریژیا جوہری پلانٹ پر قبضہ کر کے دنیا کو ’تابکاری کی تباہی‘ کی دھمکی دی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ماسکو نے جنوبی یوکرین میں ایک بڑے ڈیم کو دھماکے سے اڑانے کی بھی دھمکی دی تھی۔

یوکرینی رہنما کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس پر سب سے سخت انداز میں ردعمل دینا ہوگا۔

دریں اثنا بین والس نے روسی وزیر دفاع کے الزامات کی تردید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے الزامات بے بنیاد ہیں کہ ’یوکرین برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک کی معاونت سے تنازع کو مزید ابھارنے کے اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔‘

امریکی وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن نے بھی روسی وزیر دفاع سے اتوار کے روز فون پر بات کی جو کہ حالیہ عرصے میں ان کی ایسی دوسری فون کال تھی۔

ایک مشترکہ بیان میں فرانس، برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں نے کہا کہ وہ روسی صدر پوتن کی ظالمانہ جارحیت کے سامنے یوکرین کی حمایت جاری رکھیں گے۔

دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ روسی فوج کی بڑی ناکامیوں کے بعد روس کی جانب سے ایسے الزامات سامنے آئے ہیں جبکہ یوکرینی دستوں نے ملک کے مشرق اور جنوب میں اپنے جوابی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ میں قائم سٹڈی آف وار نامی تنظیم نے کہا کہ روسی وزیر دفاع ممکنہ طور پر یوکرین میں مغربی فوجی امداد کی کمی یا معطلی چاہتے ہیں اور شاید وہ جنگ کا خوف پھیلا کر نیٹو اتحاد کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

روسی طیارہ
،تصویر کا کیپشنگذشتہ پیر کو ایک سخوئی ایس یو-34 ملٹری جیٹ یوکرین کے قریب جنوبی شہر ’یسک‘ میں ایک اپارٹمنٹ بلاک میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے

اس نے مزید کہا ہے کہ کریملن کی جانب سے اس جھوٹے اعلان پر کسی تیاری کا کم ہی امکان ہے۔

دریں اثنا اتوار کو یوکرین کی ریاستی توانائی کی کمپنی نے کہا کہ روس کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بجلی کی ترسیل جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔

روسی لڑاکا طیارہ سائبیریا میں گِر کر تباہ

دوسری جانب مقامی حکام نے بتایا ہے کہ ایک روسی فوجی طیارہ جنوبی سائبیریا میں رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔

علاقے کے گورنر ایگور کوبزیف نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کیا کہ سخوئی ایس یو 30 لڑاکا طیارہ ارکتسک شہر میں ایک دو منزلہ مکان پر گراۓ

گورنر نے کہا کہ وہ جائے وقوعہ پر تھے اور اس طیارے میں دونوں پائلٹ مارے گئے تھے، لیکن کوئی رہائشی زخمی نہیں ہوا۔

روسی وزارت برائے ہنگامی حالات کے مطابق جیٹ طیارہ آزمائشی پرواز پر تھا، جب وہ گرا۔

سوشل میڈیا پر فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ طیارہ آگ کے گولے میں گرنے سے پہلے تقریباً عمودی طور پر غوطہ لگا رہا ہے، جس سے آسمان میں سیاہ دھواں پھیل رہا ہے۔

ایک اور ویڈیو میں فائر فائٹرز کو آگ بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

روس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنSU-34

روس کی ریاستی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا ہے کہ اس نے فضائی حفاظتی قوانین کی خلاف ورزیوں کی فوجداری تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

چھ دنوں میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ پیر کو ایک سخوئی ایس یو-34 ملٹری جیٹ یوکرین کے قریب جنوبی شہر ’یسک‘ میں ایک اپارٹمنٹ بلاک میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔