کیا ایرانی فوجی یوکرین کے خلاف ’خودکش‘ ڈرون حملوں میں روس کی مدد کر رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, جارج رائٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکہ نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے روس کے زیر تسلط کریمیا میں عسکری ماہرین بھجوائے ہیں جو یوکرین کے خلاف ڈرون حملوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاوس کے نیشنل سکیورٹی ترجمان جون کربی نے کہا ہے کہ ایرانی ماہرین تربیت اور تکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر سوموار کو کامیکازی خود کش ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا جو ایرانی ساختہ ہے۔
برطانیہ نے اس ڈرون کی سپلائی کے ذمہ دار کاروباری کمپنیوں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاوس کے نیشنل سکیورٹی ترجمان جون کربی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ ایرانی فوجی اہلکار کریمیا میں موجود ہیں اور ان حملوں میں روس کی معاونت کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایرانی ساختہ ڈرونز کو روسی اہلکار اڑا رہے ہیں لیکن ایرانی اہلکاروں کی ایک معمولی تعداد تکنیکی معاونت کر رہی ہے۔‘
جون کربی کے مطابق ’تہران اب ناصرف اسلحہ فراہم کر رہا ہے جس سے یوکرین میں عام شہری متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کے اہلکار اب براہ راست وہاں موجود ہیں۔‘
’امریکہ یوکرین کی عوام کے خلاف ایران کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی کو سامنے لانے اور اس کی مقابلہ کرنے کے لہے ہر ممکن راستہ اختیار کرے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روس کامیکازی ڈرون کیسے استعمال کر رہا ہے؟
یوکرین نے سوموار کے حملے میں ملوث ڈرون کی شناخت ایرانی ساختہ شاھد 136 کے طور پر کی تھی۔
ان کو کامیکازی اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ حملے کے بعد یہ تباہ ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ 'کامیکازی' جاپانی زبان کا لفظ ہے جو دوسری عالمی جنگ میں ان جاپانی پائلٹس کے لیے استعمال ہوتا تھا جو اپنے طیاروں کے ذریعے خودکش حملے کرتے تھے۔
اب تک یہ غیر واضح ہے کہ روس کے پاس ایسے کتنے ڈرون ہیں تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران ایسے سینکڑوں ڈرون روس بھجوانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
روس نے حالیہ دنوں میں میزائل کے ساتھ ساتھ ان ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے یوکرین میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس سے ملک کے ایک تہائی بجلی فراہم کرنے والے سٹیشن تباہ ہو چکے ہیں۔
ان حملوں کے بعد یوکرین میں جنگ کے بعد پہلی بار بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادھر برطانیہ نے تین ایرانی جرنیلوں اور ایک اسلحہ کمپنی پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی سیکرٹری خارجہ جیمز کلیورلی نے ان پر روس کے ’بھیانک حملوں سے مالی فائدہ اٹھانے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد حسین بغیری کے علاوہ ڈرون تیار کرنے والی شاھد ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ماسکو پر ایک اہم ڈیم میں دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ڈیم متاثر ہوا تو کریمیا سمیت پورا جنوبی یوکرین پانی سے محروم ہو جائے گا۔
بدھ کے دن سٹڈی آف وار تھنک ٹینک نے رپورٹ دی تھی کہ روس اس ڈیم پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کا الزام یوکرین پر لگایا جائے گا کیوں کہ روس کا ماننا ہے کہ اس ڈیم کے تباہ ہونے سے روسی افواج کی خیرسون علاقے سے پسپائی ممکن ہو جائے گی۔ یہ ڈیم خیرسون شہر سے ستر کلومیٹر دور واقع ہے۔
روس اس علاقے سے شہریوں کو نکال رہا ہے کیوں کہ یوکرین کی افواج کی پیش قدمی کے بعد جلد ان کا اس شہر پر کنٹرول ہو سکتا ہے۔











