یوکرین اور روس کس طرح سے ’کامیکازی‘ ڈرون کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کی جانب سے روس پر کیئو میں ’کامیکازی‘ ڈرون حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی ساختہ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے ہیں اور روس ستمبر سے ایسے ڈرون حملے کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ ’کامیکازی‘ جاپانی زبان کا لفظ ہے جو دوسری عالمی جنگ میں ان جاپانی پائلٹس کے لیے استعمال ہوتا تھا جو اپنے طیاروں کے ذریعے خودکش حملے کرتے تھے۔
روسی کامیکازی ڈرون کیا ہے؟
ایرانی ساختہ ڈرون شاھد 136، جسے روس نے جیرانیئم 2 کا نام دیا ہے ایک طرح کا فضائی بم ہے۔ دھماکہ خیز مواد سے لیس یہ ڈرون ہدف کے آس پاس اس وقت تک اڑ سکتا ہے جب تک اسے حملے کا پیغام نہ ملے۔
ہدف سے ٹکرائے جانے پر دھماکہ خیز مواد پھٹ جاتا ہے جس کے نتجے میں ڈرون بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ شاھد 136 ڈرون تقریباً آٹھ فٹ دو انچ چوڑا ہے جس کا ریڈار کے ذریعے سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
عسکری امور کے ماہر جسٹن کرمپ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ڈرون بہت نیچا اڑتے ہیں اور ان کو لہروں میں بھیجا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے فضائی دفاع کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘
یوکرین کے دارالحکومت کے اردگرد موجود فضائی دفاعی ٹیمیں اینٹی ایئر میزائل کے ذریعے ان ڈرونز کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
اکتوبر کے آغاز میں یوکرین کی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ ان ڈرونز میں سے 60 فیصد ایرانی ساختہ ہیں جن کو وہ گرانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایرانی ساختہ یہ ڈرون نسبتاً سستا ہے جس کی لاگت 20 ہزار امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب تک یہ غیر واضح ہے کہ روس کے پاس ایسے کتنے ڈرون ہیں تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران ایسے سینکڑوں ڈرون روس بھجوانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
کیا یوکرین نے بھی کامیکازی ڈرون استعمال کیے ہیں؟
حال ہی میں مغربی کریمیا میں روسی فوجی اڈے، سیویسٹا پول میں فضائی اڈے اور اسی علاقے میں روسی بحری جہازوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔
لندن کے کنگز کالج میں دفاعی امور کی محقق ڈاکٹر مارینا میرون کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ ان حملوں میں ہونے والے دھماکوں کا بغور مشاہدہ کریں تو پتا چلے گا کہ یہ بہت چھوٹے چھوٹے دھماکے تھے۔‘
’مجھے شبہ ہے کہ یہ حملے دیسی ساختہ کامیکازی ڈرون سے کیے گئے جن سے دھاکہ خیز مواد باندھ دیا گیا تھا۔‘
یوکرین اور روس کے پاس اور کس قسم کے ڈرون ہیں؟
یوکرین کے پاس ترکی ساختہ بیرکتار ٹی بی 2 ڈرون موجود ہے۔ یہ ایک چھوٹے جہاز جتنا ہے اور کیمروں سے لیس ہوتا ہے۔ اس پر لیزر گائیڈڈ میزائل بھی نصب کیے جا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروس انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر جیل واٹلنگ کہتے ہیں کہ جنگ کے آغاز پر یوکرین کے پاس ایسے 50 سے کم ڈرون تھے۔
روس کے پاس نسبتا ،چھوٹے اورلان 10 ڈرون بھی موجود ہیں جن میں کیمرے تو موجود ہیں تاہم ان پر زیادہ بڑے بم نصب نہیں کیے جا سکتے۔
عسکری ڈرون کس طرح استعمال کیے جا چکے ہیں؟
روس اور یوکرین، دونوں کے لیے ہی ڈرون توپ خانے کی گولہ باری کے لیے ہدف کی نشاندہی کے کام آئے ہیں۔
ڈاکٹر واٹلنگ کا کہنا ہے کہ ’روسی افواج اورلان 10 ڈرون کی مدد سے ہدف کی نشاندہی کے تین سے پانچ منٹ کے اندر گولے داغ سکتے ہیں جبکہ ڈرون کے بغیر ایسا کرنے میں 20-30 منٹ لگتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
ڈاکٹر مارینا میرون کا کہنا ہے کہ ’یوکرین کی محدود فوج ڈرون کی مدد سے وسیع تر آپریشن کر سکتی ہے۔‘
’ماضی میں اگر آپ نے دشمن کی پوزیشن کا پتا چلانا ہوتا تھا تو آپ کو اس کام کے لیے ایک خصوصی دستہ بھیجنا پڑتا تھا جس میں انسانی جانوں کا نقصان ہو سکتا تھا۔ اب صرف ایک ڈرون کے ذریعے ایسا کرنا ممکن ہو رہا ہے۔‘
جنگ کے آغاز کے بعد پہلے چند ہفتوں میں یوکرین کی جانب سے بیرکتر ڈرون کا استعمال دیکھا گیا۔ ڈاکٹر میرون کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ان ڈرونز کو اسلحہ مراکز پر حملے کرتے دیکھا اور روسی جنگی بحری جہاز موسکوا کو ڈبونے میں بھی ان کا کردار تھا۔‘
تاہم ان میں سے کئی ڈرون روسی فضائی دفاعی سسٹمز نے مار گرائے کیونکہ یہ حجم میں بڑے اور سست رفتار تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عام ڈرون کیسے استعمال ہو رہے ہیں؟
فوجی یا عسکری صلاحیت رکھنے والا ڈرون مہنگا ہوتا ہے۔ ایک بیرکتار ٹی بی 2 کی لاگت تقریبا 20 لاکھ ملین امریکی ڈالر ہے۔ اسی لیے دونوں اطراف سے، خصوصاً یوکرین کی جانب سے، ڈی جے آئی میوک 3 جیسے چھوٹے ڈرون کا استعمال کیا جا رہا ہے جن کی قیمت صرف 1700 پاؤنڈ ہوتی ہے۔
ان ڈرونز پر چھوٹے بم باندھے جا سکتے ہیں تاہم ان کو دشمن کے فوجی دستوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف حملوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر میرون کا کہنا ہے کہ ’یوکرین کے پاس روس جتنا اسلحہ نہیں۔ ہدف کی نشاندہی اور توپ خانے کی مدد کے لیے ’فضائی آنکھ‘ کا ہونا کافی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔‘
تاہم ایسے عام ملنے والے ڈرون جنگی مقاصد کے لیے زیادہ کار آمد نہیں۔ مثال کے طور پر ڈی جی آئی میوک صرف 30 کلومیڑ تک اور زیادہ سے زیادہ 46 منٹ تک اڑ سکتا ہے۔
ڈاکٹر میرون کا کہنا ہے کہ روس ایسے عام ڈرونز کے خلاف الیکٹرانک ڈیوائسز استعمال کرتا ہے۔
’روسی افواج کے پاس سٹوپر رائفل ہوتی ہے جو ایلکٹرو میگنیٹک پلسز فائر کرتی ہے۔ اس سے عام ڈرون کا جی پی ایس سسٹم غیر فعال ہو جاتا ہے۔‘
روسی افواج ’ایئرو سکوپ‘ جیسے آن لائن سسٹم بھی استعمال کر رہی ہیں جن کی مدد سے ڈرون اور آپریٹر کے درمیان رابطے کی نشاندہی کی جا سکتی ہے اور اس میں خلل ڈالا جا سکتا ہے۔
ایسے سسٹم کی مدد سے ڈرون کو زمین پر گرایا جا سکتا ہے یا پھر اسے اپنے اڈے پر واپس بھیجا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے معلومات کی فراہمی بھی روکی جا سکتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق یوکرین کی جانب سے استعمال کیا جانے والا ڈرون اوسطاً ایک ہفتے تک کام کرتا ہے۔











