روس، یوکرین جنگ: کیا یوکرینی افواج کی حالیہ کامیابیاں روس کے ساتھ جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, پاول اکسینوف اور ایلیزاویتا فوخت
- عہدہ, بی بی سی روسی سروس
خارخیو کے علاقے میں یوکرین کے تیز رفتار حملوں نے فرنٹ لائن کو مشرق کی طرف بہت پیچھے دھکیل دیا ہے، لیکن کیا اس پیش رفت کے بعد اب یہ تنازعہ کسی اہم موڑ پر پہنچ گیا ہے؟
اس سلسلے میں دو کوششیں ہو چکی ہیں۔ پہلے روس کی کوشش تھی کہ یوکرین کے بڑے شہروں جیسے کیئو اور خارخیو پر قبضہ کر کے جنوب کی جانب پیش قدمی جاری رکھے۔ دوسری کیئو سے روسی انخلا اور سست پیش قدمی تھی جس دوران دونیتسک اور لوہانسک پر بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔
کیا یہ تیسرے مرحلے کا آغاز ہے؟
کئی مہینوں سے روس حملے کر رہا ہے اور یوکرین جواب دے رہا ہے۔ مگر اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ یوکرین کی فوج کارروائی کرتی ہے اور روسی فوجیں اس کا جواب دے رہی ہیں۔
اگست کے آخر میں یوکرین نے خیرسون اور پھر خارخیو میں روسی افواج پر شدید نوعیت کے حملے کیے اور روس بے قرار تھا کہ وہ ان حملوں کا جواب کیسے دے؟ کیا اس جنگ میں اب کردار اُلٹ رہے تھے؟
جنگ کی بدلتی صورتحال کے حوالے سے عسکری ماہرین کی مختلف آرا ہیں۔
اسرائیلی تجزیہ کار ڈیوڈ گینڈل مین نے بی بی سی کو بتایا کہ جب اگست میں خیرسون کے قریب لڑائی میں شدت آئی تو یوکرین کی فوج نے یہ نیا طریقہ کار اپنایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/SHUTTERSTOCK
لیکن چتھم ہاؤس میں روس اور یوریشیا پروگرام سے وابستہ سینیئر ریسرچ فیلو، میتھیو بولیگ اس حوالے سے اپنی رائے دیتے ہوئے بہت محتاط ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یوکرین کے حملے یا جوابی حملے سٹریٹیجک حوالے سے اہم اقدام ہیں، یا اُن کا تسلسل ٹوٹ جائے گا یا یہ رُک جائیں گے۔ یوکرین کس حد تک جا سکتا ہے اور روس کی جانب سے مزاحمت کا اندازہ لگانے کے لیے ہمیں ہفتوں تک کافی ڈیٹا اکٹھا کرنا ہو گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روسیوں کے لیے یہ حملے کس حد تک ناقابلِ یقین تھے؟
خارخیو کے علاقے میں ہونے والے حملوں کے بارے میں بہت سے سوال جواب طلب ہیں، لیکن یہ اہم نہیں ہے کہ یوکرین نے اسے کیسے خفیہ رکھا۔
اس کی منصوبہ بندی اور فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو اکھٹا کرنے میں ہفتے لگ گئے ہوں گے، لہذا بہت سے لوگوں کو اس کے بارے میں علم ہو گا اور آپریشنل سکیورٹی میں یقیناً کئی مسائل ہوں گے۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ روسی انٹیلیجنس کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، اور پھر بھی روسی فوجیوں کے لیے یہ سب ناقابلِ یقین تھے۔
گینڈل مین کہتے ہیں ’اگست کے آخر سے بالکلیہ کے علاقے میں فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی خبریں آ رہی تھیں۔ کیا روسی انٹیلیجنس نے اُن کا غلط معنی نکالا یا ان کے کمانڈر وقت پر فیصلہ نہیں کر پائے؟ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس علاقے میں روسی تیار نہیں تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بولیگ کے مطابق یوکرین نے ہوشیاری سے ماسکو کی توجہ جنوب کی طرف رکھنے کے لیے خیرسون میں لڑائی جاری رکھی۔ اور انھوں نے تیاریوں کو چھپانے کی زحمت اس لیے بھی نہیں کی کیونکہ روس کے پاس آنے والے حملے کو روکنے کے لیے فوجی افرادِ قوت اور دیگر ذرائع ہی نہیں تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ انٹیلیجنس کی ناکامی نہیں تھی۔ روس کے پاس تین محاذوں پر لڑائی جاری رکھنے کے لیے فوجی یا اڈے نہیں ہیں۔ کوئی بھی دونباس، خارخیو اور جنوب میں بیک وقت نہیں لڑ سکتا: یہ ناممکن ہے۔‘
روس میں لڑنے والے فوجیوں کی کمی کافی عرصے سے ایک مسئلہ رہا ہے، اور وہ اس خلا کو پر کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، یہاں تک کہ جیلوں سے بھی بھرتی کی گئی ہے یعنی قیدیوں کو اس کام کے لیے بھرتی کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گینڈل مین فرنٹ لائن پر روسی فوجیوں کی کم تعداد کو اصل وجہ سمجھتے ہیں: ’فرنٹ لائن پر کچھ حصوں میں سپاہیوں کے پیچھے کوئی بیک اپ نہیں ہوتا۔ اس لیے ایک بار جب آپ اس دفاع سے گزر جاتے ہیں، تو بنا کسی مزاحمت کے دو کلومیٹر سے زیادہ تک کے علاقے میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یوکرین کی فوج کو ایک علاقے میں کمزور دفاع ملا، اس نے اپنے فوجیوں کی توجہ وہاں مرکوز کیں اور روسیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔‘
ایک بار جب ایسا ہو گیا تو روسی ردعمل سست تھا۔
گینڈل مین کا کہنا ہے کہ روسی فوج کا کمانڈ سسٹم اور فوجیوں کا ردعمل سست ہو گیا ہے۔

بیرونی امداد
اتنے بڑے پیمانے پر آپریشن کی منصوبہ بندی میں پیچیدہ لاجسٹکس شامل ہیں۔
آپ کو گولہ بارود، ایندھن، فوجیوں کے لیے کھانے کا سامان، فیلڈ ہسپتالوں اور مرمتی اشیا کو منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو سپلائی لائنیں بنانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سب کچھ آسانی سے چلتا رہے۔ آپریشن اور فوجی یونٹوں کی تعیناتی کے طریقہ کار کی احتیاط سے منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے۔
اور یوکرین کے لیے، یہ سب کچھ بیرون ملک سے ملٹری ہارڈویئر کی سپلائی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے۔
جنگ شروع ہونے سے پہلے یوکرین کو غیر ملکی فوجی امداد مل رہی تھی، اور اس نے بڑی حد تک اپنی کی حکمت عملی کا تعین کیا۔
جب HIMARS راکٹ لانچرز اور GLMRS سیٹلائٹ گائیڈڈ راکٹ پہنچنا شروع ہوئے تو یوکرینیوں نے روسی فوج کی لائنوں کے پیچھے ہتھیاروں کے ڈپو پر فائرنگ شروع کر دی۔ جب انھیں اینٹی ریڈار میزائل ملے تو یوکرین کی فضائیہ نے روسی ریڈار سسٹم پر حملے شروع کر دیے۔
کیئو اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس حملے کی تیاری کر رہا تھا اور حملے کے لیے سامان اگست میں آنا شروع ہو چکا تھا۔
13 ستمبر کو نیویارک ٹائمز نے ایک مضمون شائع کیا کہ کس طرح یوکرین کی فوج ایزیم پر دوبارہ قبضہ کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔
آرٹیکل کے مطابق یوکرین کے کمانڈر، برطانوی فوجی حکام سے مسلسل روابط میں تھے اور کیئو میں امریکی دفاعی اتاشی یوکرین کے اعلیٰ افسران سے روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتیں کرنے لگے۔
تیاری کے دوران ہونے والی فوجی مشقوں میں پینٹاگون کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں ابتدائی طور پر تجویز کیا گیا کہ یہ حملہ ناکام ہو جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی کئی جنگی مشقوں کے بعد، ایسے متعدد اہداف کی نشاندہی کی گئی جن پر حتمی منصوبہ بندی میں توجہ دی گئی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ہیڈ کوارٹر میں امریکی انٹیلیجنس کو دو جگہوں پر حملوں کا خیال آیا: ایک خیرسون پر اور دوسرا خارخیو کے علاقے میں۔
یوکرینی فوج کا اگلا اقدام کیا ہو گا؟
یوکرین کے فوجیوں نے خارخیو اور ایزیوم کے آس پاس کے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور روسی یونٹوں کو دریائے اوسکول سے آگے مشرق کی طرف دھکیل دیا ہے۔ شمال میں بھی روسی اب سرحد کی طرف واپس چلے گئے ہیں۔
یوکرین نے اس حملے کے مقاصد پر کوئی بیان نہیں دیا اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ جہاں رُکے ہیں ان کا ارادہ وہیں قبضے کا تھا، کیا انھیں روسی افواج نے روکا ہے یا آیا اب وہ اس سے آگے جانے کا عزم کھو بیٹھے ہیں۔
جنگ جاری ہے اور دونوں فریقین منصوبے بنا رہے ہیں اور حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
گینڈل مین کا کہنا ہے کہ یوکرین کے پاس دوبارہ حملہ کرنے کے لیے افرادی قوت اور ذرائع موجود ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’اس سے پہلے کہ دشمن کو دفاع کی نئی لائنوں کو دوبارہ بنانے یا اپنے قدم جمانے کا موقع ملے اور اس سے پہلے کہ موسم خزاں کی بارشوں اور کیچڑ کی وجہ سے پیش رفت سست ہو جائے۔ مستقبل میں ایک اور حملہ مزید کامیابیاں لائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن خطرات ہیں: فوجی تھک سکتے ہیں اور انھیں آرام کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یوکرین آگے کیا کرے گا۔
بولیگ کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ یوکرین لوہانسک میں اپنا حملہ جاری رکھے، لیکن وسیع پیمانے پر رابطہ کاری انھیں روسی افواج کے ساتھ جھڑپوں کی جانب دھکیل سکتی ہیں، جو اس کے بعد جوابی حملے شروع کر سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا روسی دوبارہ منظم ہو کر لڑتے ہیں یا اپنی سابقہ پوزیشنوں پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں، مگر اس وقت ہم یہ نہیں جانتے۔‘
روس کیا ارادہ رکھتا ہے؟
روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ روسی افواج دوبارہ منظم ہوں گی، لیکن یہ کیسے اور کب ہو گا اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ یہ بولیگ کے لیے بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
وہ پوچھتے ہیں ’وہ دوبارہ کب منظم ہوں گے؟ کیا ان میں ایسا کرنے کی طاقت ہے؟ اور کیا یہ ایک حملہ ہو گا یا جوابی حملہ؟‘
جیسا کہ بولیگ کہتے ہیں کہ دونوں فریقین کے لیے سردیوں اور پہلی برفباری سے قبل بہترین پوزیشنز پر قابض ہونا ضروری ہے۔
نومبر میں سردیوں کا آغاز متوقع ہے، لیکن اس سے پہلے ہی بہت ٹھنڈ پڑ سکتی ہے، جس سے نقل و حرکت میں مشکلات ہو سکتی ہیں، کیونکہ کیمپ بنا ہوا ہو تو فوجیوں کے لیے کھانا، سونا اور خود کو گرم رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
کیا تنازعہ بڑھنے کا امکان ہے؟
اتوار کی شام کو روسی حملوں کے بعد خارخیو اور دونیتسک، زپوریزہیا، دنیپرو اور سومی کے علاقے مکمل طور پر بجلی سے محروم ہو گئے۔
حملے سے خارخیو میں پاور سٹیشن فائیو کو نقصان پہنچا جو علاقے کے ایک بڑے حصے کو بجلی فراہم کرتا ہے۔
اس حملے کے بعد یوکرین کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے روس پر سخت تنقید کی گئی کہ وہ زندگی کی بنیادی سہولیات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
روس کے حامی نیٹ ورکس پر پوسٹ کیے گئے پیغامات میں پورے یوکرین پر بمباری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ ملک کو روسی تسلط میں لایا جا سکے، جبکہ دوسروں کو شک تھا کہ اس سے یوکرینی قائل ہو جائیں گے۔
گینڈل مین بتاتے ہیں کہ پاور سٹیشن پر حملہ یوکرین کی کامیابیوں پر پانی پھیرنے کے مترادف تھا لیکن روس نے اس حملے اور دیگر میزائل حملوں (جن میں ایک ڈیم کو نشانہ بنایا گیا تھا) سمیت اب تک بڑے پیمانے پر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔
مغربی حکومتیں یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے معاملے میں محتاط ہیں۔ یوکرین کو ابھی تک مغرب کی جانب سے ٹینک اور ٹیکٹیکل میزائل سسٹم نہیں ملا ہے جس کی رینج 300 کلومیٹر تک ہے۔
شاید روس اور مغرب کی کوشش ہے کہ جنگ کو کچھ حد تک روکا جائے لیکن اگر ماسکو منظم طریقے سے زندگی کی بنیادی سہولیات اور شہری انفراسٹرکچر پر بمباری شروع کر دیتا ہے تو تنازع پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔









