کیا یوکرین جیسا چھوٹا ملک روس جیسی عالمی طاقت کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے؟

روسی ٹینک

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/SHUTTERSTOCK

    • مصنف, پون سنگھ اتل
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، نئی دہلی

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی افواج نے روس کے کنٹرول والے مزید علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے فوجیوں نے ماہ ستمبر میں مشرقی اور جنوبی حصوں میں روسی قبضے سے 6,000 مربع کلومیٹر (2,317 مربع میل) سے زیادہ کا علاقہ واگزار کروا لیا ہے اور اب اس پر یوکرین پر کنٹرول ہے۔

بی بی سی یوکرین کے صدر کے اِن دعوؤں اور اعداد و شمار کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

تاہم اس سے کئی سوال تو جنم لیتے ہی ہیں۔ مثلاً کیا یوکرین واقعی اس جنگ میں روس کے خلاف برتری حاصل کر رہا ہے؟

یوکرین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے فوجی خیرسون میں روسی سکیورٹی کی صفوں کو توڑ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ یوکرین نے ملک کے مشرقی علاقے کے کئی قصبوں کو روس سے دوبارہ حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

جبکہ دوسری جانب روس نے کہا کہ انھوں نے خود ہی اپنی افواج کو چند علاقوں سے واپس بلایا ہے تاکہ وہ دوبارہ منظم ہو سکیں۔

کیا یہ یوکرین کی مضبوط ہوتی ہوئی پوزیشن کی علامت ہے یا یہ روس کی سوچی سمجھی جنگی حکمت عملی ہے؟ اور یہ کہ اس جنگ میں یوکرین اور روس کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہو گا؟

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ گذشتہ 200 برسوں کی تاریخ میں ایک بہت بڑے اور ایک بہت چھوٹے ملک کے درمیان ہونے والی جنگ میں کسی چھوٹے ملک کی کامیابی کی شرح کیا ہو سکتی ہے؟ اگر کسی بڑے ملک کی آبادی چھوٹے ملک سے 10 گنا زیادہ ہو تو کیا آپ کے خیال میں بڑے ملک کی جیت یقینی ہے؟

ہم میں سے اکثر یہ سوچیں گے کہ کسی بڑے ملک کے جیتنے کے امکانات 100 فیصد ہو سکتے ہیں۔

مشہور امریکی مصنف میلکم گلیڈویل اپنی کتاب ’ڈیوڈ اینڈ گولیئتھ: انڈر ڈاگز، مسفٹس اینڈ دی آرٹ آف بیٹلنگ جائنٹس‘ میں لکھتے ہیں کہ ’سیاسی سائنسدان ایوان ایرنگوین نے ایک تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ بڑے ممالک کی جیت کا تناسب 71.5 فیصد ہے۔ لیکن اگر چھوٹے ملک نے روایتی جنگ لڑنے کی بجائے جنگ میں چھاپہ مار یا گوریلا جنگ لڑی ہے تو چھوٹے ملک کی جیت کا امکان 63.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔‘

تو کیا یوکرین تاریخ کے ان ایک تہائی ممالک کی فہرست میں جگہ بنا پائے گا جنھوں نے اپنے سے بہت بڑے مخالف کا سامنا کیا اور فتح سمیٹی؟

روس کمیونسٹ سپر پاور سوویت یونین کی مضبوط فوجی طاقت کا جانشین ہے۔ 70 سال تک اس کی فوج نے امریکہ اور مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

سویت عہد کا پوسٹر جس میں روسی فوجیوں کو نازیوں کے خلاف فتحیاب ہیروز کی طرح پیش کیا گيا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسویت عہد کا پوسٹر جس میں روسی فوجیوں کو نازیوں کے خلاف فتحیاب ہیروز کی طرح پیش کیا گيا

ایک وقت تھا جب ماسکو میں کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کے پاس دنیا کو کئی بار تباہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ایٹمی ہتھیاروں کا بٹن تھا۔ اس دور کو ’سرد جنگ‘ کا دور کہا گیا جو بذات خود ایک باہم متضاد جملہ ہے۔

وہ فوج جس کی دنیا بھر میں موجودگی تھی اور جس نے ہٹلر کی نازی انتظامیہ کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اسے سنہ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں اپنی پہلی شکست کا مزہ چکھنا پڑا تھا۔

نیٹو اور یورپی یونین کے انتباہ کے باوجود روس نے رواں سال 24 فروری کو یوکرین میں اپنے فوجی بھیجے تھے۔ روس نے اپنے اس اقدام کو فوجی مہم کہا لیکن یوکرین نے اسے ’حملہ‘ قرار دیا۔

شاید روس کو یہ امید تھی کہ کمزور یوکرین چند ہی دنوں میں اُس کی فوجی طاقت کے سامنے ڈھیر ہو جائے گا اور روس اپنے مقصد کو باآسانی پورا کر لے گی۔

فضائی، زمینی اور بحری تینوں ذرائع سے روس نے ابتدا میں ہی یوکرین کو بے بس سا کر دیا تھا۔ ایسا لگنے لگا تھا کہ صرف چند دنوں میں ہی یوکرین کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

مغربی ممالک اور امریکی انتظامیہ روس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رہے تھے، لیکن وہ سرد جنگ کے دور سے غیر تحریری قوانین کے تحت جنگ میں براہ راست شامل نہیں ہو رہے تھے۔

کیونکہ نیٹو کے جنگ میں شامل ہونے سے اس جنگ کی تصویر یکسر تبدیل ہو جاتی۔

امریکہ نے یوکرین کو یہ نیا راکٹ سسٹم دیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ نے یوکرین کو یہ نیا راکٹ سسٹم دیا ہے

نیٹو کو کس نے روکا؟

اس کا سادہ سا جواب جنگ کے پھیل جانے کا خوف ہے۔ مغربی رہنماؤں کے ذہنوں میں یہ خدشہ موجود ہے کہ کہیں روس یوکرین میں جوہری ہتھیار استعمال نہ کر دے یا یوکرین کا تنازع کسی بڑی یورپی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔

مغربی ممالک کے پاس جنگ میں براہ راست شامل ہونے کے علاوہ ایک ہی راستہ تھا۔ یعنی یوکرین کی فوجی امداد۔ امریکہ اور یورپ دونوں نے نیٹو کے قوانین کے تحت یوکرین کو گولہ بارود اور دیگر چھوٹے ہتھیاروں کی فراہمی شروع کر دی۔

ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم HIMARS یعنی M142 بھی ان ہتھیاروں میں شامل تھا۔ اس ایک قدم نے جنگ میں فیصلہ کن اثرات مرتب کیے۔ یہ نظام طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روس کو یہ بھی معلوم تھا کہ ہیمار راکٹ ان کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے امریکی فراہمی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مغربی ممالک نے یوکرین کو کیا کیا دیا؟

اب تک 30 سے زائد مغربی ممالک یوکرین کو فوجی امداد دے چکے ہیں۔ ان میں یورپی یونین سے ایک ارب یورو اور امریکہ سے 1.7 ارب ڈالر شامل ہیں۔

پہلے یہ امداد صرف ہتھیاروں تک محدود تھی جس کے تحت گولہ بارود اور دفاعی آلات فراہم کیے گئے۔ مثال کے طور پر اینٹی ٹینک اور اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم دیے گئے۔

ان میں شانوں پر رکھ کر مار کرنے والے جیولین میزائل بھی شامل ہیں۔ یہ ہتھیار گرمی کو پہچاننے والے راکٹ داغتے ہیں۔

سٹنگر میزائل بھی یوکرین کو دیے گئے ہیں۔ فوجی انھیں آسانی سے کہیں لے جا سکتے ہیں۔

افغانستان جنگ کے دوران سٹنگر میزائلز کا استعمال سوویت طیاروں کو مار گرانے کے لیے کیا گیا تھا۔

سٹار سٹریک پورٹ ایبل ایئر ڈیفنس سسٹم برطانیہ میں بنایا گیا، یہ نظام آسانی سے کہیں بھی لایا اور لے جایا جا سکتا ہے۔

نیٹو ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر یوکرین کو ٹینک اور لڑاکا طیارے دیے گئے تو اس سے نیٹو کے تنازع میں شامل ہونے کا خطرہ ہو گا۔

تاہم اس سب کے باوجود جمہوریہ چیک نے T-72 ٹینک یوکرین بھیجے تھے۔

ٹینک

،تصویر کا ذریعہEPA/OLEG PETRASYUK

یوکرین کی غیر روایتی جنگ

مغربی ممالک کی امداد اور روسی خطرات کے باوجود بیچ بیچ میں کئی مغربی ممالک کے رہنماؤں کے کیئو (یوکرین کے دارالحکومت) کے دورے نے یوکرین کے حوصلے بلند رکھے ہیں۔

مغربی ممالک یوکرین کے صدر اور سابق کامیڈین زیلنسکی کو ہر موقع پر سٹیج فراہم کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے اقوام متحدہ سے لے کر یورپی پارلیمنٹ تک خطاب کیا ہے۔

لیکن اُن کے علاوہ یوکرین نے جنگ لڑنے کے انداز میں ایک غیر متوقع تبدیلی کی ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں کے بعد یوکرین کی افواج نے کُھلے عام روسی فوج سے لڑنے کے بجائے جنگ کو شہری علاقوں میں لانے کا کام کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رائفلیں اور چھوٹے راکٹ لانچر عام لوگوں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ یوکرین کی مزاحمت کا مرکز کھلے میدانوں کے بجائے گنجان آباد شہری علاقے بن گئے ہیں۔

روس نے کیئو اور خارخیئو جیسے بڑے شہروں پر فضائی حملے کیے اور اب بھی ایسے حملے ہوتے رہتے ہیں لیکن روسی فوج شاید شہروں میں ہی جنگ لڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں لے کر آئی ہے۔

روس کی فتح اسی وقت ہو سکتی ہے جب یوکرین ہار جائے لیکن یوکرین نے اس جنگ کو طول دینے میں کامیابی حاصل کی ہے جسے کسی فتح سے کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ جنگ کے حتمی نتائج کے حوالے سے فریقین کے مختلف مقاصد اس جنگ کو مختلف بناتے ہیں۔

دوسری اہم بات عام لوگوں کا یوکرین کی فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑنا ہے۔ روس کو شاید اس کی توقع نہ تھی۔

روس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمغربی ممالک نے یوکرین کو اینٹی ٹینک ہتھیار فراہم کیے ہیں

کیا بازی پلٹ رہی ہے؟

اگر یوکرین کا تین ہزار ہزار مربع کلومیٹر واپس لینے کا دعویٰ درست ہے تو گذشتہ تین دنوں میں یوکرین کی فوج نے روس سے آزاد کرائے گئے علاقے کو تین گنا بڑھا دیا ہے۔ تاہم، بی بی سی آزادانہ طور پر یوکرین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکتا کیونکہ صحافیوں کو ان علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے جنھیں دوبارہ فتح کیا ہوا قرار دیا جا رہا ہے۔

سنیچر کے روز یوکرین کی افواج ملک کے مشرق میں روس کے زیر قبضہ لیزوم اور کوپیانسک میں داخل ہوئیں۔ ان شہروں کے ذریعے روسی فوج تک رسد اور ہتھیار پہنچتے رہے ہیں۔ یہ ایک طرح سے مشرقی یوکرین میں روسی جنگی مشینری کو رسد فراہم کرنے والا شہر ہے۔

روسی وزارت دفاع نے بھی لیزوم اور کوپیانسک سے انخلا کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن وزارت کا کہنا ہے کہ اس نے ایک بار پھر متحد ہونے کے لیے ایسا کیا ہے۔ روسی وزارت دفاع نے بلاکلیا نام کے ایک اور شہر سے اپنی افواج کے انخلا کا اعلان کیا ہے۔ یوکرین کی فوج جمعے کو شہر میں داخل ہوئی تھی۔

یوکرین کے جوابی حملے کی رفتار دیکھ کر روسی حیران ہیں۔ یہاں تک کہ چیچن رہنما رمضان قادروف جو پوتن کے بہت حامی ہیں وہ بھی پوتن کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا ایپ ٹیلی گرام پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں قادروف نے لکھا کہ اگر روس جنگ میں کمزور پڑ رہا ہے تو وہ ملکی قیادت سے اس کے لیے وضاحت طلب کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب یوکرین نے الزام لگایا ہے کہ روس مشرقی علاقوں میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر ایک بڑے علاقے کو تاریکی میں ڈبو رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جیریمی بوون نے 1994-95 میں چیچن جنگ کی کوریج کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جب روس کسی اپوزیشن کو مقابلہ کرتا دیکھتا ہے تو وہ اپنی بے لگام فائر پاور (فضائی اور میزائل حملے) کا استعمال کرتا ہے۔ شاید مشرقی یوکرین میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

اس سے قبل خارخیئو اور کیئو میں روسی فضائی حملے بھی ایسا ہی کر چکے ہیں۔ تاہم مشرقی یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ دارالحکومت کیئو سے روسی فوج کے انخلا کے بعد ایک بڑا واقعہ ہو گا۔

یوکرین جنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خطرات

تو آخر روس نے یوکرین پر حملہ کیوں کیا؟ روس کو یہ بات پسند نہیں کہ یوکرین یورپی یونین کے قریب جائے اور پھر نیٹو کے فوجی اتحاد کا حصہ بن جائے۔

روس کا اندازہ ہے کہ یوکرین کی نیٹو اور یورپی یونین تک رسائی اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ روس کو اپنے روایتی حریف فوجی اتحاد کو اپنی دہلیز پر دیکھنا ناگوار ہے۔

یوکرین پر حملہ کر کے روس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایسا ہونے سے روکنے کے لیے کوئی بھی خطرہ مول لینے کو تیار ہے۔

یوکرین کے لیے اس جنگ میں فیصلہ کُن فتح حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس وقت فوجی پیش قدمی سے اسے جو بھی سبقت مل رہی ہے وہ ملک کے مشرق میں ہے، جہاں روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند سرگرم ہیں۔ یوکرین کے باقی حصوں میں جنگ ابھی بھی جاری ہے۔ یوکرین کے لیے روسی فوج کو پورے ملک سے نکال باہر کرنا ایک مشکل کام ہے۔

روس کو فیصلہ کن فتح درج کرنے کی اجازت نہ دینا غالباً یوکرین کی فتح ہو گی کیونکہ روس اسے صرف ایک صورت میں فتح قرار دے سکتا ہے اور وہ ہے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو ہٹا کر کیئو میں اپنی پسند کے شخص کو اقتدار پر بٹھانا۔ جیسا کہ 90 کی دہائی میں جنوبی ریاست چیچنیا میں ہوا تھا۔

یوکرین کو ملنے والی مغربی امداد، یوکرین کی فوج کے جذبے، زیلنسکی کی مقبولیت، اور تھکی ہوئی روسی جنگی مشینری سے بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔

یوکرین جنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یوکرین کے سامنے چیلنجز

اب تک یوکرین نے مغربی ممالک کے ہتھیاروں کی مدد سے روس کو قدم جمانے نہیں دیا لیکن اگر وہ روس کو مکمل طور پر بے دخل کرنا چاہتا ہے تو اسے کچھ 'بڑا' کرنا پڑے گا۔

یوکرین کے زیادہ تر شہری اس وقت صدر ولادیمیر زیلنسکی کو جنگی ہیرو سمجھتے ہیں لیکن انھیں روسی جارحیت کے لیے تیاری پر تنقید کا بھی سامنا ہے۔

خاص طور پر امریکہ کی طرف سے بار بار انتباہ کے باوجود زیلنسکی نے یہ کہتے ہوئے کارروائی کرنے سے انکار کر دیا کہ اس سے خوف پیدا ہو گا اور یوکرین کی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ یوکرین کو درپیش چیلنجز کی ایک اور مثال 'کیئو انڈیپنڈنٹ' کے نیوز روم میں نظر آتی ہے۔

انگریزی زبان کی اس نیوز ویب سائٹ نے حملے سے چند ہفتے قبل ہی کام شروع کر دیا تھا۔ ویب سائٹ کی ایڈیٹر انچیف اولگا روڈینکو نے کہا: 'فروری میں (جب جنگ شروع ہوئی) جب حالات بہت غیر یقینی تھے، ہمیں نہیں معلوم تھا کہ پورے ملک پر حملہ کیا جائے گا یا ہم زندہ بھی رہ پائیں گے۔ آج بھی یہاں رہنا آزادی منانے کا موقع ملنے سے سب کچھ قابل قدر لگتا ہے۔'

ایک حالیہ معاہدے سے یوکرین کو ایک بار پھر بحیرہ اسود کے راستے اناج برآمد کرنے کی اجازت ملی ہے۔ جنگ کے آغاز سے ہی اسے سفارتی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ کچھ اسے امن معاہدے کی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن گذشتہ چار پانچ دنوں کی لڑائی میں یوکرین نے اپنی جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بات یقینی ہے کہ خود کو آزاد رکھنے کے لیے یوکرین کا اب بھی دوسرے ممالک کی مدد پر انحصار ہے۔

لیکن یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جن مقاصد کے لیے روس نے یوکرین میں فوج بھیجنے کا خطرہ مول لیا تھا وہ بمشکل ہی پورا ہو سکا ہے۔

ڈیوڈ اور گولیئتھ

،تصویر کا ذریعہCORBIS/CORBIS VIA GETTY IMAGES

فتح ہمت کی یا طاقت کی؟

بائبل یعنی انجیل میں ڈیوڈ اور گولیئتھ کی کہانی میں ایک غریب چرواہا ڈیوڈ اپنے سے کہیں بڑے جنگجو گولیئتھ کو شکست دے دیتا ہے۔ گولیئتھ کے پاس ڈھال، تلوار، نیزہ، فوجی لباس اور فوجی شان و شوکت تھی۔ وہ ایک طاقتور عظیم الجثہ اور تجربہ کار جنگجو تھا جس نے کئی جنگیں لڑی تھیں۔ داؤد کے پاس صرف ایک غلیل اور پانچ پتھر تھے۔

جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے امریکی مصنف میلکم گلیڈویل نے مشہور کتاب 'ڈیوڈ اینڈ گولیئتھ: انڈر ڈوگز، مسفٹس اینڈ دی آرٹ آف بیٹلنگ جائنٹس' لکھی ہے۔

وہ دلیل دیتے ہیں کہ 'ہم ڈیوڈ کے ہتھیاروں اور اس کی صلاحیتوں پر شک کرتے ہیں، لیکن گولیتھ کی خامیاں ہمیں نظر نہیں آتیں۔ انجیل میں درج ہے کہ گولیئتھ ایک معاون کی مدد سے لڑنے کے لیے ڈیوڈ کے پاس پہنچے۔ بائبل میں یہ بھی لکھا ہے کہ گولیئتھ بہت آہستہ چل رہا تھا۔ شاید اسے دور تک نظر بھی نہیں آتا تھا۔

’جو چیز گولیئتھ کو مضبوط بناتی تھی وہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی تھی۔ اس میں ہمارے لیے ایک اہم سبق ہے۔ بڑے نظر آنے والے لوگ ہمیشہ اتنے مضبوط اور طاقتور نہیں ہوتے جتنا ایک سادہ غلیل والا چرواہا۔‘

روس اور یوکرین کی جنگ میں بائبل کی اس کہانی سے مماثلت ہو یا نہیں، لیکن اتنی بات تو ہے کہ ایک مضبوط جنگجو کے لیے بھی جنگ میں اپنے دشمن کی طاقت کا غلط اندازہ زندگی اور موت کا سبب ہو سکتا ہے۔