شہزادہ ہیری کے افغانستان میں طالبان کو مارنے اور منشیات کے استعمال جیسے مزید سنسنی خیز دعوے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جیمز گریگری، شون کولن (شاہی نامہ نگار)
- عہدہ, بی بی سی نیوز
برطانوی شہزادہ ہیری کی سوانح عمری ’سپیئر‘ کے قبل از وقت سپین میں ریلیز ہو جانے کے بعد کتاب میں شائع شاہی خاندان کے بارے میں متعدد سننسی خیز دعوے سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں۔
شاہی خاندان اور ذاتی زندگی سے متعلق ہیری کے غیر معمولی دعووں سے بھرپور یہ کتاب 10 جنوری کو انگریزی میں ریلیز ہونی ہے۔
اس کتاب میں شہزادہ ہیری نے شاہی خاندان کے اندر شکایات اور تلخیوں کے ذکر کے علاوہ اپنی ماضی کی زندگی سے منسلک جو دعوے کیے ہیں ان میں 25 طالبان جنگجووٴ کو مارنا بھی شامل ہے۔
شہزادہ ہیری کی طرف سے سب سے زیادہ حیرت انگیز دعووں میں سے ایک، سب سے پہلے گارڈیئن اخبار کی طرف سے رپورٹ کیا گیا تھا کہ ’ان کے بھائی نے ان پر جسمانی طور پر حملہ کیا تھا۔‘
کنسنگٹن پیلس اور بکنگھم پیلس دونوں نے کہا ہے کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
بی بی سی نیوز نے سپین میں ’سپیئر‘ کی ایک کاپی حاصل کی ہے اور اس کا ترجمہ کیا جا رہا ہے۔ گارڈیئن نے بھی کتاب کی ایک کاپی حاصل کی اور جمعرات کی علی الصبح ایک اقتباس شائع کیا۔
کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری اور شہزادہ ولیم نے اپنے والد پر زور دیا تھا کہ وہ کمیلا سے شادی نہ کریں۔ اس کتاب میں ہیری نے بھائی کے ساتھ جھگڑوں میں ہاتھا پائی تک ہونے کی تفصیلات اور منشیات لینے کے تجربات کے بارے میں بھی بتایا ہے۔
کتاب میں ہیری کے تمام دعووں میں غم، شکایت اور الزام تراشی کا لہجہ موجود ہے۔
کتاب میں کیے جانے والے دعوے یہ ہیں :
افغانستان میں 25 طالبان مارنے کا دعویٰ
شہزادہ ہیری کے بقول سنہ 2012 اور 2013 کے دوران افغانستان میں ایک ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی حیثیت سے انھوں نے چھ مشنز میں حصہ لیا۔
انھوں نے لکھا ’یہ میرے لیے قابلِ فخر اعداد و شمار نہیں لیکن میں ان پر شرمندہ بھی نہیں۔‘
’جب میں نے خود کو لڑائی کی شدت اور الجھن میں گھرا پایا تو میں نے ان 25 افراد کے بارے میں نہیں سوچا، وہ بس شطرنج کے مہرے تھے جو بساط سے ہٹا دیے گئے، برے لوگوں کو اچھے لوگوں کو مارنے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔‘
ہیری کے ان دعووں کے بارے میں برطانوی فوج کے سابق کمانڈر ریچرڈ کیمپ نے بی بی سی سے کہا کہ ان کا یہ انکشافات کرنا ایک غلط فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا ایسا کر کے ہیری نے اپنی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ ایسے دعووں کے بعد رد عمل میں ان سے بدلہ لینے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔
والد سے کہا کہ وہ کمیلا سے شادی نہ کریں
اخبار دی سن نے بھی اس کتاب کی سپین میں شائع ہونے والی کاپی حاصل کر لی ہے۔ یہ کتاب وہاں ہسپانوی زبان میں شائع کی گئی ہے۔
دی سن کے مطابق ہیری نے کتاب میں لکھا ہے کہ انھوں نے اور ولیم نے اپنے والد کی منت کی کہ وہ کمیلا سے شادی نہ کریں کیونکہ انھیں خوف تھا کہ وہ ایک بری سوتیلی ماں بنیں گی۔ کمیلا اب کوین کونسورٹ ہیں۔
ہیری کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کا خیال تھا کہ وہ ایک ’بری سوتیلی ماں‘ ہوں گے لیکن وہ اور ان کے بھائی انھیں اس صورت میں دل سے معاف کردیں گے اگر وہ بادشاہ چارلس کو خوش رکھتی ہیں تو۔
دی سن میں شائع رپورٹ کے مطابق ان کے والد اور کمیلا کی شادی سے قبل ان کی اور ان کے بھائی ولیم کی کمیلا کے ساتھ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں۔ تاہم اس بارے میں تفصیل نہیں دی گئی ہے کہ یہ ملاقاتیں کب ہوئیں اور اس وقت ہیری کی عمر کیا تھی۔
عامل خاتون نے ڈیانا کا پیغام دیا
ہیری نے بتایا کہ کس طرح اپنی ماں شہزادی ڈیانا کی وفات کے بعد وہ اداس رہنے لگے اور انھوں نے ایک خاتون سے رابطہ کیا جس کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس خاص طاقتیں ہیں۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس خاتون سے کب اور کہاں ملاقات ہوئی۔
ہیری کا کہنا تھا کہ اس خاتون نے مجھے بتایا ’تمہاری ماں کہہ رہی ہے کہ تم وہ زندگی جی رہے ہو جو وہ نہیں جی سکی۔ تم وہ زندگی جی رہے ہو جو وہ تمہارے لیے چاہتی تھی۔‘
جب 1997 میں ایک کار حادثے میں ڈیانا ہلاک ہوئیں تو ہیری کی عمر 12 برس تھی۔
گارڈیئن کے مطابق ہیری نے اپنی والدہ کے ساتھ ایک گفتگو کی تفصیل بھی لکھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
ولیم نے انھیں ’فرش پر پٹخ دیا‘
ہیری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بھائی نے لندن کے ایک گھر میں انھیں گریبان سے پکڑا، اور فرش پر پٹخ دیا۔ اس دوران ان کے گلے میں جو ہار تھا وہ بھی ٹوٹ گیا۔
کتاب میں دونوں بھائیوں کی ایک تکرار کا بھی ذکر ہے جو ہیری کے مطابق میگھن کے بارے میں ولیم کے کسی تبصرے پر شروع ہوئی تھی۔
ہیری نے لکھا ہے کہ ان کے بھائی میگھن پر تنقید کرتے تھے اور میگھن کو ’مشکل، بدتمیز اور تلخ‘ قرار دیتے تھے۔
ہیری کے مطاب اس کے بعد ان دونوں میں ہاتھا پائی ہوئی۔
ہیری نے لکھا ’انھوں نے پانی کا گلاس زمین پر پھینکا، مجھے کسی دوسرے نام سے پکارا، پھر میری طرف آئے، یہ سب بہت جلدی ہوا، بہت تیزی سے۔‘
’انھوں نے مجھے کالر سے پکڑ لیا، میرا گلے کا ہار ٹوٹ گیا اور مجھے زمین پر پٹخ دیا۔‘
انہوں نے آگے لکھا ’میں کتے کے کھانے کے برتن پر گرا جو میرے کمر کے نیچے ٹوٹا، اس کے ٹکڑے میرے جسم میں چبھ گئے، میں ایک لمحے کو وہیں پڑا رہا، صدمے میں، پھر میں کھڑا ہوا اور انھیں وہاں سے چلے جانے کو کہہ دیا۔‘
ولیم اور کیتھرین ہیری کے نازی لباس پر ہنسے
کتاب میں بیان کیے گئے ایک واقعے کے مطابق سنہ 2005 میں ایک فینسی ڈریس پارٹی میں جب وہ نازی وردی پہننے کے بعد واپس گھر آئے تو ولیم اور کیتھرین انھیں دیکھ کر ہنسنے لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پارٹی کے لیے لباس کا انتخاب دونوں سے مشورہ کر کے کیا تھا۔ ان کے پاس ایک پائلٹ اور نازی فوجی کے لباس تھے جن میں سے ایک کا انہیں انتخاب کرنا تھا۔
انھوں نے لکھا:
میں نے ولی اور کیٹ سے پوچھا ان کا کیا خیال ہے؟
انھوں نے کہا ’نازی وردی‘
’میں نے وہ کرائے پر لی اور مضحکہ خیز مونچھیں پہن کر گھر واپس آیا۔‘
’وِلی اور کیٹ ہنس رہے تھے یہ ویلی کے تیندوے والے لباس سے زیادہ برا تھا۔ بہت زیادہ برا۔‘
اگلے روز دی سن اخبار میں اس لباس میں ہیری کی صفحہ اول پر تصویر شائع ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
17 برس کی عمر میں کوکین اور گانجے کا نشہ
ہیری کا کہنا ہے کہ جب وہ 17 سال کے تھے تو کسی کے گھر پر انھیں کوکین کی پیش کش کی گئی جس کے بعد کئی دوسرے مواقع پر بھی انھوں نے کوکین کا نشہ کیا۔ اگرچہ انھیں اس کا لطف نہیں آیا۔
انھوں نے لکھا ’یہ زیادہ مزیدار نہیں تھا۔ اس نے مجھے اس طرح خوش نہیں کیا جیسے عموماً دوسرے لوگ ہوتے ہیں لیکن اس سے مجھے مختلف محسوس ہوا اور یہی میرا مقصد تھا۔‘
’میں ایک 17 سال کا نوجوان تھا جو روایتی طور طریقوں کو بدلنے کے لیے کچھ بھی کرنا چاہتا تھا۔‘
وہ کتاب میں ایٹن کالج کے باتھ روم میں بھنگ پینے کا بھی ذکر کرتے ہیں اور ٹیمز ویلی پولیس کے افسران ان کے محافظوں کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے عمارت کے بیرونی حصے میں گشت کیا کرتے تھے۔
ولیم کو ہیری کا ایٹن میں ہونا پسند نہیں تھا
ہیری کا کہنا ہے کہ جب وہ ایٹن کالج جانے لگے تو ولیم نے ان سے کہا ’تم مجھے نہیں جانتے اور میں تمہیں نہیں جانتا۔‘
ہیری کے مطابق ان کے بھائی نے انھیں سمجھایا ’دو سال تک ایٹن ان کے لیے ایک محفوظ ٹھکانہ رہا ہے۔'
ہیری کا کہنا ہے کہ ’ایسا اسلیے تھا کیوں کہ وہ عرصہ ایک چھوٹے بھائی کے بوجھ کے بغیر گزرا تھا، جو اب اس سے سوالات کر کے یا اس کی سماجی زندگی میں دخل اندازی کر کے اسے پریشان کرتا۔ ‘
ہیری کے بقول انھوں نے اپنے بھائی سے کہا تھا ’فکر نہ کریں۔ میں بھول جاؤں گا کہ میں آپ کو جانتا ہوں! ‘
چارلس نے ڈیانا کی وفات پر ’ہیری کو گلے نہیں لگایا‘
ہیری یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ڈیانا کی وفات پر ان کے والد چارلس نے انہیں گلے نہیں لگایا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یاد ہے ان کے والد نے نیند سے جگا کر بس اتنا بتایا کہ ان کی والدہ کا کار ایکسیدینٹ ہو گیا ہے۔
ہیری اپنے والد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ عام حالات میں بھی اپنے جزبات کا اچھی طرح اظہار نہیں کر پاتے، اس روز بھی انہوں نے گلے سے نہیں لگایا۔
ہیری کے مطابق انہوں نے پیرس میں کار سے وہ سفر دہرایا جس میں ان کی والدہ کی موت ہوئئ تھی، تاکہ انھیں سوالات کے جواب مل سکیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کے ذہن میں ڈیانا کی ہلاکات کی وجوہات کے بارے میں متعدد نئے سوال کھڑے ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
ہیری کی شادی کے لیے ولیم نے گاؤں کے چرچ کا مشورہ دیا
ہیری کا دعویٰ ہے کہ شاہی خاندان نے میگھن کے ساتھ ان کی شادی کی تاریخ اور مقام پر اپنی مرضی چلانے کی کوشش کی۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے ویسٹ منسٹر ایبی یا سینٹ پال کیتھیڈرل میں شادی کے امکان کے بارے میں اپنے بھائی سے مشورہ کیا تو ولیم نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ بالترتیب چارلس اور ڈیانا اور ولیم اور کیتھرین کی شادیوں کے مقامات تھے۔
ہیری کا کہنا ہے کہ اس کے بجائے ولیم نے ایک ایسے چرچ کا مشورہ دیا جو ان کے والد کے گاؤں کوٹسوولڈ میں گھر کے قریب تھا۔
ہیری اور میگھن مئی 2018 میں ونڈزر محل کے سینٹ جارج چیپل میں شادی کے بندھن میں بندھے۔
عوام کے سامنے آنے سے پہلے 'خوفناک' گھبراہٹ
ہیری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’ 2013 کے موسم گرما کے اختتام تک، میں ایک برے وقت سے گزر رہا تھا، خوفناک گھبراہٹ کے حملوں سے۔‘
ہیری کے مطابق وہ اس وقت اپنے فرائض میں شامل انٹرویو دینے اور تقاریر کرنے جیسے بنیادی کاموں کو انجام دینے کے قابل نہیں تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ تقاریر سے کچھ دیر پہلے ان کا جسم پسینے سے شرابور ہو جاتا تھا اور سوٹ پہنتے ہی انھیں گھبراہٹ شروع ہو جاتی تھی۔
’جب تک میں اپنا بلیزر پہنتا اور اپنے جوتے باندھتا، میرے گالوں اور پیٹھ پر پسینہ بہہ رہا ہوتا تھا۔‘
چارلس نے ’ولیم اور ہیری سے لڑائی نہ کرنے کی بھیک مانگی‘
ہیری نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ 2021 میں ان کے دادا ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فیلپ کی آخری رسومات کے بعد دونوں بھائیوں کا جھگڑا ہوا۔
گارڈیئن کی رپورٹ کے مطابق ہیری نے بتایا کہ اس دوران چارلس دونوں بھائیوں کے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے اور ان سے کہا ’پلیز بچوں، میری زندگی کے آخری سالوں کو عزیت آمیز مت بناوٴ۔‘
ہیری لکھتے ہیں کہ بیس برس کی عمر میں انہیں پتہ چلا کہ چارلس نے ان کی والدہ ڈیانا سے کہا تھا ’زبردست! تم نے مجھے ایک ایئر اور ایک سپیئر (یعنی ایک وارث اور ایک فالتو) دیا ہے۔ تمہارا جو کام تھا تم نے وہ کر دیا۔‘
گارڈیئن کی جانب سے خبر شائع کیے جانے کے بعد اس کتاب میں لگائے گئے دیگر الزامات بھی منظر عام پر آ رہے ہیں۔
یہ دعوے ناراضگی سے بھرپور ہیں اور تاج پوشی میں چند ماہ باقی ہیں اور اب ہیری کے حوالے سے یہ بات ہوگی کی وہ آئیں گے یا نہیں۔
حالانکہ یہ طے ہے کہ اگلی مرتبہ شاہی خاندان کے لیے کسی موقعے پر ہیری کی موجودگی کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگا۔






