ہما نواب: چھوٹے بالوں والی یا جینز پہنی ہوئی اداکارہ کا کریکٹر ڈھیلا ہی کیوں دکھاتے ہیں؟

ہما نواب
،تصویر کا کیپشنہما نواب
    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, صحافی، کراچی

’پاکستان ٹیلی وژن کے ڈرامے ’ہوائیں‘ کی کہانی کی وجہ سے لوگ اسے بینظیر بھٹو کی زندگی کے ساتھ مشابہت دیتے تھے، میں بینظیر تو نہیں بن سکتی لیکن اُن سے متاثر ضرور تھی۔‘

یہ کہنا ہے ماضی کے مشہور ہٹ ڈرامے ’ہوائیں‘ کے مرکزی کرداروں میں سے ایک کردار ادا کرنے والی فنکارہ ہما نواب کا۔

پاکستان ٹیلیویژن نے سنہ 1990 کی دہائی میں ہوائیں ڈرامہ ٹیلی کاسٹ کیا تھا جس کے ہدایتکار حیدر امام رضوی تھے اور اس فرزانہ ندیم سید نے تحریر کیا تھا جبکہ ہما نواب کے علاوہ بقیہ کاسٹ میں طلعت حسین، غزالہ کیفی، محمود علی، فرید نواز بلوچ، قیصر خان نظامانی، کومل رضوی اور قاضی واجد شامل تھے۔

اس ڈرامے کی کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے، جس کو قتل کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اور سارا خاندان بلخصوص بیٹی یہ الزام ختم کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ ان دنوں اکثر تجزیوں میں اس کہانی کو بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو سے جوڑا گیا تھا۔

ہما نواب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈرامے کی کہانی کہیں کہیں بینظیر سے مل رہی تھی، ایک لڑکی ہے، نڈر ہے۔۔۔ اب میں بینظیر تو نہیں بن سکتی ان سے متاثر ضرور تھی وہ کردار اچھا رہا تھا۔‘

ہما نواب سنہ 1982 سے ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ تھیں لیکن نوے کی دہائی کے بعد وہ اچانک سکرین سے لاپتہ ہو گئیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ بیرون ملک چلی گئیں تھیں اور وہاں انھوں نے دلچسپ ملازمتیں کیں اور آزادی کو ایکسپولائیٹ نہیں کیا بلکہ اس کو انجوائے کیا۔

’سٹوڈیوز کا ہارڈ ویئر سٹور تھا ہم وہاں انٹیریئر ڈیزائن دیکھا کرتے تھے۔ فارمیٹ بنانا، کلر سکیمز بنانا، وہاں 13 سال میں نے یہ ہی ملازمت اختیار کی اور یہ بہت دلچسپ تھی، مزا اس وقت دوبالا ہو جاتا ہے اگر ملازمت آپ کے شوق کے مطابق ہو۔‘

ہما نواب کے مطابق وہ سنہ 2014 میں واپس پاکستان لوٹیں۔ اس وقت ان کے والدہ کے انتقال کو ایک سال ہو چکا تھا، وہ کراچی آئیں اور دوبارہ ڈرامے کرنا شروع کیے۔ اُس کے بعد ان کا آنا جانا لگا رہا اور اب گذشتہ تین چار برسوں سے وہ پاکستان ہی میں ہیں۔

ہما نواب

،تصویر کا ذریعہHuma Nawab

،تصویر کا کیپشنہوائیں اپنے وقت کا مشہور ڈرامہ تھا جس میں ہما نواب کے کردار کو بہت پسند کیا گیا تھا

’چھوٹے بالوں والیوں کا کریکٹر ڈھیلا دکھائیں گے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان میں اسی اور نوے کی دہائی میں ڈرامے کی اداکاراؤں کے بال چھوٹے تھے، ہما نواب کے علاوہ مرینہ خان اور ثانیہ سعید اُن میں سرفہرست تھیں۔ ہما نواب کے مطابق ’ہمارے زمانے میں ایکٹنگ بیسڈ ڈرامہ ہوا کرتے تھے، سارا زور ایکٹنگ پر ہوتا تھا نہ کہ اس پر کہ بال چھوٹے ہیں یا بڑے۔‘

انھوں نے موجودہ دور کے ڈراموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’دو بہنیں ہیں، اُن میں ایک کے چھوٹے بال ہیں یا جینز پہنی ہوئی ہے تو اس کا کریکٹر ڈھیلا دکھائیں گے۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے، شاید یہ رائٹر کی مرضی ہے کہ لمبے بال ہوں۔‘

اداکارائیں خود کیوں چھوٹے بال نہیں رکھتیں اور نہ ایسے کردار لیتی ہیں؟ اِس پر ہما کا خیال تھا کہ ’چھوٹے بالوں والی لڑکیوں کا کردار کرنے والی اداکاراؤں کو ڈر لگتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ہیروئن کا رول نہ ملے۔‘

ہما کے مطابق اب ظاہری حلیے پر زیادہ توجہ ہوتی ہے۔ ’ٹی شرٹ اور جینز پہنتی ہیں، فزیکل دیکھا جاتا ہے، یہ رجحان اب بہت بڑھ گیا ہے۔ اداکارہ یمنٰی جو کردار ادا کر رہی ہے کہ اگر وہ لڑکی کے طور پر نکلتی تو ہراساں کیا جاتا ہے اور لڑکے کے طور پر کہا جاتا کہ ماچو بچہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی وی کا ماحول اچھا تھا ہمارا دل دھڑکتا تھا کہ بہترین سین کر دیا ہے۔ ڈائریکٹر سے ڈرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ پلیز ایک بار اور کر دیں جب وہ او کے کہتے تھے تو خوشی محسوس ہوتی تھی لیکن اب وہ سب نہیں بچہ پارٹی آ رہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’چائے لے آؤ: تنگ ہو گئے ہیں‘

ہما نواب سوال کرتی ہیں کہ آخر ڈراموں میں چائے کو اتنا پروموٹ کیوں کیا جاتا ہے؟ وہ بتاتی ہیں کہ ’ڈرامے میں یہ لائن تو اب معمول بن چکی ہے کہ آپ فریش ہو جائیں میں چائے بنا کر لاتی ہوں، چائے اتنی دکھائی جا رہی ہے کہ اس کی حد نہیں۔ کریکٹر داخل ہوتا ہے تو وہ چائے لے کر آتا ہے بھائی یہ ضروری نہیں۔‘

’اب ڈائریکٹر کو بھی سوچنا چاہیے کہ کوئی اور بزنس رکھ لے، اب اس لائن سے بھی تنگ آ چکے ہیں کہ آپ جلدی سے جائیں چائے لے کر آ جائیں۔‘

ہما نواب کا کہتی ہیں کہ مواد کمزور ہو رہا ہے، ریسرچ کا فقدان نظر آتا ہے، بقول اُن کے ’کئی عجیب غیر منطقی چیزیں ہوتی ہیں جیسے بیٹا سامنے کھڑا ہے اور ماں کہتی ہے کہ بیٹا تم آ گئے؟‘

’بھائی آ گیا ہے تبھی تو کھڑا ہے! اسی طرح کسی کو ہارٹ اٹیک ہو رہا ہے تو کہا جاتا ہے جاؤ جلدی سے پانی لے کر آؤ۔ بھائی اس کے لیے پانی کی ضرورت نہیں تھوڑی سی سٹڈی کرنے کی ضرورت ہے کہ ہارٹ اٹیک ہو رہا ہے تو پانی دینا چاہیے کہ نہیں۔‘

انھوں نے کہانی بتانے کے انداز اور ڈراموں سے ملنے والے پیغامات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ’اب ہمیں ماؤں اور خالاؤں کے ہی کردار ملتے ہیں۔ اب تو چھوٹی بچیوں کے بھی بچے دکھا رہے ہیں، ڈرامے سے کم از کم کوئی پیغام تو نکلے اب سیکنڈ لاسٹ قسط میں کوئی پیغام آتا ہے۔‘

ہما نواب

،تصویر کا ذریعہHuma Nawab

ٹیلی ویژن کی نجکاری

ماضی میں پاکستان میں صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا جو اداکارؤں کا واحد وسیلہ بھی تھا۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سٹیشنز سے اپنے اپنے ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔

ہما نواب کہتی ہیں کہ ’گِنے چُنے اداکار تھے، پیسے اچھے ملتے تھے اور گزارا ہو جاتا تھا لیکن وہ کسی اور سٹیشن پر نہیں جا سکتا تھا اس کے لیے ہیڈکوارٹرز کی اجازت کی ضرورت ہوتی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے سوچا کہ ٹی وی کی نجکاری ہونی چاہیے اس کے لیے احتجاجی دھرنے شروع ہو گئے، کبھی کہاں تو کبھی کہاں اور آہستہ آہستہ ٹی وی پرائیوٹ ہو گیا۔ اس سے دیکھیں کتنے چینلز آ گئے ہیں اور کتنے لوگوں کا پیٹ بھر رہے ہیں۔‘

اس سوال پر کہ بعض پرانے فنکاروں کو اعتراض ہے کہ اِس عمل سے اُن کی رائیلٹی ختم ہوگئی تو ہما نے جواب دیا کہ یہ بالکل درست بات ہے۔ ’ہماری رائیلٹی ختم ہو گئیں، پوری دنیا میں نشرِ مکرر پر رائیلٹی ملتی ہے۔ ایکٹر ساری زندگی اسے کھاتے ہیں۔ یہاں رائیلٹی ہی ختم ہو جاتی ہے۔‘

انھوں نے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ پیسہ دے دیں یہ ان کی روزی ہے۔‘

’سوہائی ابڑو کو لوگوں نے بھکارن سمجھ لیا‘

ہما نواب کے مطابق وہ عام زندگی میں ہنسی مذاق کیا کرتی ہیں لیکن ایکٹنگ میں سنجیدہ ہوتی ہیں اور کام کے اوقات میں موبائل فون بھی استعمال نہیں کرتیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’سرخ چاندنی سیریل کر رہے تھے، اُس میں سوہائی ابڑو بھی تھیں۔ کہانی کے مطابق اُن کے چہرے پر تیزاب گِرجاتا ہے اور وہ چھپ رہی ہوتی ہے اپنے میاں سے بھی۔‘

ہما نے ایک قصہ بتایا کہ ’ہم نے صدر کے علاقے میں شوٹ کیا تھا۔ وہاں ہم نے سوہائی کو بٹھا دیا، لوگ سمجھے کہ کوئی بھیک مانگنے والی ہے اور آ کر اُن کو پیسے دینا شروع ہو گئے تھے۔‘

’لیکن پھر وہاں اسسٹنٹ آئے اور انھوں نے لوگوں کو بتایا کہ پیسے وغیرہ نہیں چاہیے ہیں، کیونکہ ہم شوٹنگ کر رہے ہیں۔‘