مہنگائی کے باوجود لوگ ڈیٹِنگ ایپ پر زیادہ خرچ کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈیٹنگ کی ایپس کے حالیہ اعداد وشمار کے مطابق مہنگائی کے اس دور میں صارفین ویڈیو سٹریمِنگ جیسی تفریحی چیزوں سے لیکر کھانے پینے پر کم پیسے خرچ کر رہے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ اکثر لوگ ابھی تک ڈیٹِنگ پر اخراجات کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ڈیٹِنگ کی مشہور ایپ ’ٹِنڈر‘ کے مالک کا کہنا ہے کہ جولائی اور ستمبر کے مہینوں میں عالمی سطح پر پیسے دیکر ان کی سروس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں سات فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
ٹِنڈر، ’ہِنج‘ اور ’اوکپِڈ‘ سمیت کچھ دیگر ایپس کی مالک کمپنی ’میچ گروپ‘ کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں بحیثیت مجموعی ان کی سیل 810 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
لیکن میچ گروپ نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ ان کے کاروبار پر بھی عالمی معیشیت میں سست روی کے اثرات پڑنا شروع ہو جائیں گے۔
کمپنی کے مطابق بری معاشی صورت حال کے اثرات ان کی سستی ایپس پر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے کمپنی نے اپنی ڈیٹِنگ ایپ ’پلنٹی آف فِش‘ کی مثال دی جو کم آمدنی والے صارفین کی ضروریات پوری کرتی ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں دنیا کی مقبول ترین ڈیٹِنگ ایپس میں ایک، ٹِنڈر کی آمدن اور اس کے صارفین کے تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ کمپنی مفت خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔ ٹِنڈر کا کہنا ہے کہ اس کے صارفین میں اضافے کی ایک وجہ ان کا ایک نیا فیچر ہے جس میں صارفین اپنے کمپیوٹر کی ٹچ سکرین پر دائیں یا بائیں انگلی پھیر کے ویب سائٹس پر آگے پیچے جا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بحیثیت مجموعی ’میچ ‘ کے صارفین کی تعداد تقریباً دس کروڑ ہے جس میں ٹِنڈر کا حصہ بہت زیادہ ہے۔
اگرچہ حالیہ عرصے میں ٹِنڈر کے صارفین میں اضافہ ہوا ہے، تاہم کمپنی کا کہنا تھا کہ ان کے صارفین ٹِنڈر کے ’سُپر لائیک‘ اور ’بُوسٹ‘ جیسے فیچرز پر کم پیسے خرچ کر رہے ہیں جس سے یہ لگتا ہے کہ کمپنی کو بہت منافع ہو رہا ہے۔
میچ کی پیشنگوئی بھی یہی ہے کہ اس سال کی آخری سہ ماہی میں ٹِنڈر کے منافعے میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک سطح پر جا کر رک جائے گا۔
میچ کا دعویٰ ہے کہ اب تک سیکنڑوں ہزاروں صارفین کمپنی کی سہولیات سے مستفید ہو چکے ہیں۔ کمپنی کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں دنیا بھر میں اس کی مختلف ایپس کے پیسے دیکر خدمات حاصل کرنے والے صارفین کی کل تعداد ایک کروڑ 65 لاکھ ہو چکی تھی۔
یہ تعداد جولائی تک کے تین ماہ تک ایک کروڑ 30 لاکھ تھی، تاہم صارفین میں یہ اضافہ زیادہ تر امریکہ اور یورپی یونین کے ممالک کی بجائے دنیا کے باقی حصوں میں ہوا۔ اس دوران امریکہ اور یورپ میں صارفین کی تعداد میں تھوڑی کمی دیکھنے میں آئی۔
گزشتہ سہ ماہی میں صارفین کی تعداد میں اضافے سے پہلے ٹِنڈر قدرے مشکلات کا شکار رہا اور اسے اپنی انتظامیہ میں خاصا رد و بدل کرنا پڑا جس دوران اگست میں اس کے سربراہ ریناٹے نیوبروگ کو محض ایک سال کی ملازمت کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔
میچ کا کہنا تھا کہ اگست کے بعد اس کی انتظامیہ نے ٹِنڈر کے نئے چیف ایگزیکٹِو کی تلاش جاری رکھی، تاہم اس دوران انتظامیہ نے اس بات پر بھی توجہ مرکوز رکھی کہ خواتین صارفین کو بھی ٹِنڈر پر بہتر سے بہتر خدمات فراہم کی جائیں۔ یاد رہے کہ ٹِنڈر کو اس الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ اس ایپ پر خواتین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔
میچ کے تازہ ترین اعداد وشمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹیکنالوجی کی بڑی بڑی کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ عالمی معیشت کی بدحالی کی وجہ سے ان کے کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں۔
مثلاً گزشتہ ہفتے ایپل اور ایمازون، دونوں نے کہا تھا کہ جوں جوں لوگ اپنے اخراجات کم رہے ہیں ، ان کمپنیوں کو بھی خدشہ ہے کہ ان کی آمدن بھی کم ہو جائے گی۔
دونوں کمپنیوں نے کہا تھا کہ ان کی آمدن میں کمی کی وجہ یہی ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کی قوت خرید میں کمی ہو رہی ہے۔









