ٹنڈر: کیا ڈیٹنگ ایپس پاکستان کے روایتی رشتہ کلچر میں تبدیلی لا رہی ہیں؟

ٹنڈر
    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی

’کیا پاکستان میں بھی ٹنڈر پر رشتے ہوتے ہیں؟‘ گذشتہ مہینے جب میری نظر زرق برق لباس میں ملبوس ایک نوجوان جوڑے کی تصویر پر پڑی تو میرے منھ سے بے اختیار یہی نکلا۔

یہ جان کر مجھے خوشی کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی تھی کہ ’ہم نے ٹنڈر پر سوائپ رائٹ کیا اور کہا قبول ہے‘ کے عنوان اور ’وی میٹ آن ٹنڈر‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ تصویر پوسٹ کرنے والی لڑکی کوئی بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نہیں بلکہ کراچی میں ہی رہنے والی تھی۔

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں زیادہ تر رشتے ہمیشہ ماں، خالہ، پھوپیوں اور رشتہ آنٹیوں کے ذریعے ہی طے پاتے تھے، حالیہ چند برسوں میں اس حوالے سے کچھ حد تک تبدیلی آئی ہے اور اب اکثر یہ سُننے کو ملتا ہے کہ کسی کا رشتہ فیس بک گروپ کے ذریعے ہو گیا یا کسی نے خود اپنے پارٹنر کو کسی آن لائن فورم پر پسند کیا۔

مگر آج بھی ڈیٹنگ ایپ کا نام سنتے ہی لوگ آپ کو ایسی نظروں سے گھورنے لگتے ہیں جیسے خدانخواستہ آپ نے پتا نہیں کون سا گناہ کر لیا ہو۔ اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجیے کہ اس خبر کی اشاعت تک پاکستان میں ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر پر پابندی ہے لیکن تجسس کے مارے میں نے بھی ایک دو ایپس ڈاؤن لوڈ کیں مگر استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ یہی ڈر رہتا تھا کہ کہیں آس پاس کوئی دیکھ نہ رہا ہو کہ میں لڑکوں کی پروفائلز پر لیفٹ رائٹ کر رہی ہوں۔

پاکستان میں ٹنڈر اور اس جیسی دوسری ڈیٹنگ ایپس کے بارے میں کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور اکثر یہی تاثر لیا جاتا ہے کہ یہ ہک اپ ایپس (جنسی تعلقات کے لیے ساتھی تلاش کرنے والی ایپس) ہیں، شاید اسی لیے جب اس رپورٹ کے لیے ہم نے بمبل، ٹنڈر، مز میچ وغیرہ پر ملنے والے کئی جوڑوں سے رابطہ کیا تو وہ آف کیمرہ اپنی کہانی شئیر کرنے کو تو تیار تھے مگر اپنے اردگرد کے لوگوں کے ردِعمل کے ڈر سے باعث بیشتر جوڑوں نے آن کیمرہ بات کرنے سے معذرت کر لی۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کئی آن لائن پلیٹ فارمز کی طرح ان ڈیٹنگ ایپس پر پاکستانی لڑکے لڑکیاں اپنے لیے پارٹنر خود چُن رہے ہیں۔

ایسی ہی ایک مثال کراچی کے رہائشی پلوشہ سکندر اور فوزان محمد خان کی ہے جو ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر پر ایک سوائپ رائٹ سے ملے اور گذشتہ ہفتے یہ دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے (ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر پر سوائپ رائٹ کا مطلب ہے کہ آپ اس شخص یا خاتون کو پسند کرتے ہیں جبکہ لیفٹ کا مطلب ہے آپ کو ان کی پروفائل پسند نہیں آئی)۔

ٹنڈر

،تصویر کا ذریعہCourtesy Palwasha/Fozan

،تصویر کا کیپشنپلوشہ اور فوزان کی ٹنڈر پروفائلز کا سکرین شاٹ

’ڈیٹنگ ایپس پر ایسا کچھ نہیں ہے جیسی لوگوں نے باتیں بنائی ہوئی ہیں‘

پاکستانی معاشرے میں ڈیٹنگ ایپس کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کے باوجود پلوشہ نے کیا سوچ کر ٹنڈر استعمال کرنا شروع کیا؟ پلوشہ بتاتی ہیں کہ یہ سنہ 2019 کی بات ہے۔ ان کے دو چھوٹے بہن بھائیوں کی شادی ہو چکی تھی اور خود ان کا شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، مگر کزنز اور دوست ان کے پیچھے لگے رہتے تھے کہ ’تم شادی نہیں کرنا چاہتی تو ٹنڈر ڈاؤن کرو، لوگوں سے ملو،ان سے بات کرو، نہیں سمجھ آیا تو وہ الگ بات ہے لیکن ایک بار کوشش تو کرو۔‘

کزنز اور دوستوں نے یہ بھی سمجھایا کہ ’ڈیٹنگ ایپس پر ایسا کچھ نہیں ہے جیسی لوگوں نے باتیں بنائی ہوئی ہیں۔‘ ہر جگہ ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں اور اچھے بُرے لوگ تو آپ کو ہر جگہ ہی ملتے ہیں۔

لہذا پلوشہ نے کزنز کی باتوں میں آ کر جون 2019 میں ڈیٹنگ ایپ انسٹال کی۔

جبکہ ان کے شوہر فوزان بتاتے ہیں کہ وہ بس دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ ایپ ہے کیا اور انھوں نے نیٹ ورکنگ کے لیے ٹنڈر انسٹال کیا تھا۔

پلوشہ
،تصویر کا کیپشن31 سالہ پلوشہ کراچی کی ایک نجی کمپنی میں پی آر مینیجر ہیں

تو دونوں میں سے سوائپ رائٹ کس نے کیا؟

پلوشہ کے مطابق فوزان آج تک یہ نہیں مانتے کہ پہل انھوں نے کی تھی۔ ’وہ کہتا ہے تم نے پہلے سوائپ رائٹ کیا تھا، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ایک رات بوریت کا شکار سوائپ لیفٹ کر رہی تھیں کیونکہ عجیب و غریب پروفائلز سامنے آ رہی تھیں پھر اچانک فوزان کی پروفائل سامنے آئی جس پر انھوں نے سوائپ رائٹ کیا تو لکھا آیا کہ ’فوزان آل ریڈی لائکس یو‘ یعنی فوزان پہلے ہی آپ کو پسند کرتے ہیں اور آپ دونوں ایک دوسرے کا میچ ہیں‘۔ اور اس طرح اُن کی بات چیت شروع ہوئی۔

فوزان کی پروفائل میں کیا چیز پلوشہ کو پسند آئی تھی؟

پلوشہ کے مطابق ’فوزان نے بائیو (اپنے تعارف) میں صرف ایک لائن لکھی ہوئی تھی، ایک تصویر تھی اور بس نام لکھا تھا۔۔۔ کچھ لوگوں نے لمبے لمبے پیراگراف لکھے ہوتے ہیں اور اتنے لمبے مضمون مجھ سے نہیں پڑھے جاتے۔‘ اور بس یہی بات انھیں بھا گئی۔

دوسری جانب فوزان کو پلوشہ کی پروفائل خاصی پُراسرار لگی جس پر کچھ بھی نہیں لکھا تھا اور ساتھ ساتھ تصویر بھی پسند آئی، اسی لیے انھوں نے اس پر سوائپ رائٹ کیا تاکہ انھیں جان سکیں۔

ٹنڈر

کیا ایک دوسرے سے ملنے سے پہلے وہ ٹنڈر پر اور لڑکے لڑکیوں سے بھی ملے؟

پلوشہ کے مطابق کہ اپنے شوہر فوزان سے ملنے سے پہلے ان کا کافی لوگوں سے میچ ہوا، اچھی بات چیت رہی، موبائل نمبرز کا تبادلہ ہوا، ملاقاتیں بھی ہوئیں اور اچھا تعلق بنا مگر بات آگے نہیں بڑھی۔‘

فوزان کہتے ہیں کہ وہ کسی سے ملے تو نہیں البتہ ان کی کئی اور لڑکیوں سے بات چیت رہی، مگر بقول ان کے زیادہ تر وہ بور ہی ہوئے اور کسی سے ’کلک نہیں کر پائے۔‘

تو پلوشہ کو کب لگا کہ لڑکا سیریس ہے؟

پلوشہ بتاتی ہیں کہ بات چیت کا آغاز ہونے کے ایک دو دن بعد انھوں نے موبائل نمبروں اور سوشل میڈیا کا تبادلہ کیا اور ان میں بہت اچھی دوستی ہو گئی جو چھ سے سات ماہ تک چلی اور وہ ہر روز گھنٹوں بات کرتے، ہر بات، ہر مسئلہ ایک دوسرے سے شئیر کرنے لگے اور رومانوی رشتہ شروع ہونے سے پہلے ہی ان کا مضبوط تعلق بن چکا تھا۔

پھر ایک دن فوزان نے انھیں کہا کہ ’میں تمھیں پسند کرتا ہوں۔۔۔ تم سے محبت کرتا ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اس عمر میں انسان کو اندازہ ہوتا ہے اور مجھے پتا تھا کہ وہ سیریس ہے، کیونکہ پہلے بھی بات چیت میں وہ کئی بار شادی کا اشارہ دے چکے تھے اور فوزان نے یہ کبھی نہیں کہا تھا کہ ہم نے پہلے ڈیٹ کرنا ہے پھر دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، بلکہ وہ ہمیشہ سے ہی ڈائریکٹ شادی کی بات کرتے تھے۔‘

ٹنڈر
،تصویر کا کیپشن31 سالہ فوزان محمد خان بینک میں نوکری کرتے ہیں

گھر والوں کو کیسے بتایا کہ جس لڑکے سے شادی کرنی ہے اسے ڈیٹنگ ایپ پر ملی ہوں؟

اس کے جواب میں پلوشہ ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’میرے تو ممی پپا بھی رانگ نمبر پر ملے تھے‘۔ وہ کہانی پھر سہی مگر سب سے پہلے تو پلوشہ کو گھر والوں کو سمجھانا پڑا کہ ٹنڈر ہے کیا چیز۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ کو معلوم تھا کہ وہ کوئی ڈیٹنگ ایپ استعمال کر رہی ہیں اور ان کی گھریلو ملازمہ اکثر پوچھتی تھی کہ ’باجی آپ ہر وقت لڑکوں کی پروفائل پر لیفٹ رائٹ کیا کرتی رہتی ہیں‘ اور وہ اکثر اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ بیٹھ کر ان سے پوچھتی تھیں کہ اس لڑکے پر سوائپ رائٹ کروں یا لیفٹ۔

پلوشہ کا کہنا ہے کہ خاندان کو ان پر بہت بھروسہ ہے اور وہ بہت سپورٹ کرنے والے ہیں۔ ’انھیں معلوم ہے کہ میں ایسے ہی کسی لڑکے کو پسند کر کے گھر تک نہیں لے آؤں گی، تاہم انھوں نے تھوڑے بہت سوال جواب ضرور کیے کہ کون ہے، کیا کرتا ہے، تمھاری اصل میں بھی ملاقات ہوئی ہے یا نہیں وغیرہ۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے سب سے پہلے اپنی بہن، بھائی اور بھابھی کو اعتماد میں لیا، فوزان کو ان سے ملوایا اور پھر انھیں آگے کر دیا کہ اب تم لوگ جانو اور تمھارا کام۔ اور اس طرح یہ سارا معاملہ خوش اسلوبی سے طے پایا۔

ٹنڈر
،تصویر کا کیپشنپلوشہ کے مطابق ان کی والدہ کو معلوم تھا کہ وہ کوئی ڈیٹنگ ایپ استعمال کر رہی ہیں اور ان کی گھریلو ملازمہ اکثر پوچھتی تھی کہ 'باجی آپ ہر وقت لڑکوں کی پروفائل پر لیفٹ رائٹ کیا کرتی رہتی ہیں'

چونکہ ہمارے معاشرے میں ڈیٹنگ ایپس کے بارے میں بہت غلط تاثر موجود ہے تو دوست، کولیگز، سوشل سرکل کے لوگ یا رشتہ داروں کا کیا ردِعمل ہوتا ہے؟

اس کے جواب میں وہ کہتی ہیں کہ اکثر لوگ بہت پُرجوش ہو جاتے ہیں کہ ’اوہ واقعی ایسا ہوتا ہے؟ حقیقی اور اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں ڈیٹنگ ایپس پر؟ لوگ پوری کہانی جاننا چاہتے ہیں کہ کیسے ہوا، کیا ہوا، گھر والے کیا کہتے ہیں۔‘ پلوشہ کے مطابق یہ خبر بیشتر لوگوں کے لیے حیران کن ضرور ہوتی ہے مگر مثبت انداز میں۔

وہ کہتی ہیں ’پیٹھ پیچھے کوئی باتیں کرتا ہو تو اور بات ہے مگر میرے منھ پر تو بہت اچھا ردِعمل ملتا ہے۔‘

ان کے شوہر فوزان بتاتے ہیں کہ وہ جب اپنے کولیگز یا دوستوں کو بتاتے ہیں کہ میں اپنی بیگم سے ٹنڈر پر ملا تو اکثر لوگ بے یقینی سے پوچھتے ہیں ’کیا پاکستان میں بھی لوگ ٹنڈر استعمال کرتے ہیں؟‘ کچھ لوگ شاباشی بھی دیتے ہیں کہ پتا نہیں کیا تیر مار لیا ہے جبکہ کئی یہ بھی کہتے ہیں کہ ’ہمارا تو آج تک میچ بھی نہیں ہوا اور تم ٹنڈر پر جا کر شادی کر لی۔‘ فوزان کے مطابق اگر کوئی judgemental ہوتا ہے تو وہ ان لوگوں کی پرواہ نہیں کرتے۔

’پاکستان میں ڈیٹنگ ایپس پر کیٹ فشنگ بہت عام ہے‘

اگر آپ کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا ٹاکسک (زہریلے مواد سے بھرپور) ہے، تو یقین مانیے آپ کو اندازہ نہیں کہ ڈیٹنگ ایپس پر کیا ہو رہا ہے۔

اگرچہ ڈیٹنگ ایپس کی پالیسی کے مطابق میچز کے لیے امپرسنیشن (کسی اور کا روپ دھارنا)، کیٹ فشنگ (سوشل میڈیا پر جعلی پروفائلز بنا کر لوگوں کو بیوقوف بنانا ممنوع ہے۔ کیٹ فشنگ ٹنڈر جیسی ڈیٹنگ ایپس پر سب سے زیادہ عام ہے جہاں لوگ کسی اور کی تصاویر کا استعمال کر کے جعلی شناخت سے لے کر افسانوی زندگی کی کہانیاں گھڑتے ہیں) اور ہراسانی سخت ممنوع ہے۔

لیکن پاکستان کی بات کی جائے تو کم از کم میں نے تو اب تک یہی دیکھا ہے کہ بمبل اور ٹنڈر جیسی ڈیٹنگ ایپس پر اکثر لوگوں نے غلط بائیو، کسی اور کی تصویر اور اِدھر اُدھر سے کافی کچھ کاپی پیسٹ کیا ہوتا ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور ایسے لوگوں کے ساتھ بات چیت اور ملنے کے دوران اکثر خواتین کو بدتمیزی سے لے کر ہراسانی جیسے واقعات کا سامنا بھی رہا ہے۔

ایسے ناخوشگوار واقعات منظرِعام پر آنے کے بعد اگرچہ بیشتر ڈیٹنگ ایپس نے صارفین کی حفاظت کے لیے کئی نئے ٹولز متعارف کروائے ہیں مگر اس کے باوجود نوڈ کونٹیٹ (برہنہ تصاویر بھیجنا) اور ہراسانی کے واقعات آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں۔

تو کیا پلوشہ کا ایسے کسی فیک شخص سے میچ ہوا یا انھیں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا؟

palwashasikandar

،تصویر کا ذریعہ@palwashasikandar

،تصویر کا کیپشنپلوشہ اور فوزان کے نکاح کے موقع پر لی گئی تصویر

پلوشہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیٹنگ ایپس پر کیٹ فشنگ بہت عام ہے۔ انھوں نے کئی لوگوں سے ڈیٹنگ ایپس کے بارے میں ملے جلے تبصرے سنے ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ باہر کے ممالک میں خواتین کو ہراسانی کا سامنا بھی رہا ہے، انھیں بھی کئی فیک پروفائلز بہت ملیں، کیٹ فشنگ کے کئی چھوٹے موٹے واقعات بھی پیش آئے مگر ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

تاہم انھوں نے خود کے ساتھ پیش آنے والا کیٹ فشنگ کا ایک واقعہ ضرور شیئر کیا۔

تو ہوا کچھ یوں کہ ایک مرتبہ پلوشہ نے کسی کی پروفائل پر سوائپ رائٹ کیا اور ٹنڈر تک ان کی بات چیت ٹھیک چل رہی تھی، مگر جب واٹس ایپ کا تبادلہ ہوا تو کسی اور شخص کی تصویر لگی ہوئی تھی اور وہ شخص انھیں جو تصاویر بھیج رہا تھا وہ کسی اور شخص کی تھیں۔۔ وہ آدمی کوئی نوجوان لڑکا نہیں بلکہ دبئی میں رہائش پذیر 60-65 سالہ شخص تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پلوشہ کے مطابق پروفائل اور فون پر بلاک کرنے کے باوجود وہ شخص مسلسل انھیں اپنی تصاویر اور پیغامات بھیجتا رہا جو ٹنڈر پروفائل سے بالکل مخلتف تھیں، وہ ایک نمبر بلاک کرتیں تو دوسرے سے کال اور میسجز آ جاتے اور یہ سلسلہ کچھ عرصے تک جاری رہا۔

کیٹ فشنگ سے کیسے بچا جائے اور یہ کیسے معلوم کیا جائے کہ کوئی پروفائل فیک تو نہیں؟

اگرچہ فیک پروفائلز کی شناخت آسان ہے کیونکہ اکثر لوگوں نے تو اداکاروں کی تصاویر لگا رکھی ہوتی ہیں تاہم اپنے تجربے کی بنیاد پر پلوشہ کا کہنا ہے کہ وہ کوشش کرتی ہیں کہ سب سے پہلے سوشل میڈیا (انسٹا گرام، فیس بک وغیرہ) کا تبادلہ کر لیں تاکہ پتا چل سکے کہ حقیقی بندہ وہی ہے۔

ٹنڈر
،تصویر کا کیپشنٹنڈر پر کنکشن بننے کے بعد پلوشہ اور فوزان کی پہلی ملاقات ایک ریستوران میں ہوئی

میرے سمیت آپ میں سے کئی لوگوں کے والدین کی ملاقات بھی شادی والے دن ہی ہوئی ہو گی اور لڑکا ہو یا لڑکی اب بھی اکثر رشتے کا انتخاب آپ کے والدین، پھوپیوں خالاؤں یا رشتہ آنٹیوں کی ذریعے ہی کیا جاتا ہے۔ تاہم پچھلے چند سالوں میں سوشل میڈیا کے باعث شادی کروانے والی ویب سائٹس، فیس بک گروپس جہاں آپ خود اپنے لیے رشتہ تلاش کرتے ہیں، وغیرہ سے بھی اکثر شادیاں ہوئی ہیں۔

میں خود ایسے کئی جوڑوں کو جانتی ہوں جن کا کنکشن ٹوئٹر، فیس بک یا انسٹاگرام پر بنا۔۔کچھ دن قبل ایک خاتون کی پوسٹ دیکھی جنھیں اپنے شوہر گذشتہ برس لانچ ہونے والی نئی ایپ کلب ہاؤس پر ملے۔

کیا ڈیٹنگ ایپس پاکستان کے روایتی رشتہ کلچر میں کوئی تبدیلی لا رہی ہیں؟

ٹنڈر
،تصویر کا کیپشنپلوشہ اور فوزان گذشتہ ہفتے اپنی شادی کے موقع پر

فوزان کا کہنا ہے کہ چاہے ایپ کے ذریعے ہو یا کسی دوست نے آپ کو ملوایا ہو، رشتہ کلچر میں تبدیلی تو یقیناً آ رہی ہے اور لوگ خود اپنے لیے ایسا پارٹنر چننا چاہتے ہیں جسے وہ پہلے سے جانتے ہوں اور جس کے ساتھ ان کی انڈرسٹینڈنگ ہو۔

جبکہ پلوشہ کا ماننا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں خاص کر کووڈ کی وبا کے بعد سے سوشل میڈیا نے لوگوں کے لیے ایک دوسرے سے ملنے اور جاننے کے کئی راستے کھولے ہیں اور اس سے مائنڈ سیٹ اور روایتی رشتہ کلچر میں بھی کافی حد تک تبدیلی آ رہی ہے اور ان کی جاننے والوں میں دو تین لوگوں کی شادیاں ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے ہی ہوئی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اب لوگ اپنے لیے خود جیون ساتھی کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں نا کہ رشتہ آنٹیوں کے ذریعے یا فلاں چاچا یا پھوپھی کی بھتیجی کو کوئی جانتا ہے تو چلو اس سے رشتہ کر لو۔۔ اب ایسا نہیں ہے اور آہستہ آہستہ ہی سہی مگر تبدیلی آ رہی ہے۔‘

تو پھر کیا خِیال ہے آج کسی ایک ڈیٹنگ ایپ پر پروفائل بنا کر قسمت آزما لی جائے؟