جب دانت صاف کرتے ہوئے زندگی داؤ پر لگ گئی: ’ٹوتھ برش کا اگلا حصہ ٹوٹ کر حلق میں پھنس گیا اور میرا گلا بند ہونے لگا‘

اپنے دانت صاف کرنا بظاہر ایک نہایت معمول کا عمل محسوس ہوتا ہے تاہم اس عام سے دکھائی دینے والے کام کو کس قدر احتیاط سے کرنا ضروری ہے اس کا احساس پریم لال نامی شخص کو اُس وقت ہوا جب وہ ایک تکلیف دہ حادثے سے دوچار ہوئے اور جان کے لالے پڑ گئے۔
چند روز قبل صبح کے وقت وہ دانت صاف کرنے کے لیے باتھ روم گئے اور برش کرتے کرتے اچانک پھسل کر گر پڑے۔
یہ لمحہ اُن کے لیے نہایت خوفناک ثابت ہوا۔ گرنے کے دوران اُن کے منہ میں موجود برش دو حصوں میں ٹوٹ گیا اور اس کا اگلا حصہ اُن کے حلق میں پھنس گیا۔
ٹوٹے ہوئے ٹوتھ برش کو حلق سے نکالنا ڈاکٹرز کے لیے بھی آسان نہ رہا اور ان کی جان بچانے کے لیے آخر کار ایک چیلنجنگ آپریشن کیا گیا جس کے بعد ہی اس ٹوتھ برش کو نکالنے میں وہ کامیاب ہو سکے۔
سری لنکا کے ضلع ماتارا کے رہائشی 63 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم پریم لال کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے کے بعد بی بی سی سنہالا نے اُن سے گفتگو کی اور اس تلخ تجربے کی تفصیل جانی۔
ٹوتھ برش حلق میں اترنے کی کہانی
23 جنوری کی صبح ملازمت پر جانے سے پہلے پریم لال اپنے دانت صاف کرنے کے لیے باتھ روم میں گئے۔
انھوں نے بتایا کہ ’میں دانت صاف کرتے ہوئے باتھ روم گیا تاہم اس دوران پاؤں پھسل جانے کے باعث میں گرا اور میرا ہاتھ زمین پر جا لگا۔‘
پریم لال نے بتایا کہ ’جوں ہی میں گرا ساتھ ہی برش مکمل طور پر میرے منہ کے اندر چلا گیا اور صرف ایک چھوٹا سا کونا ہونٹ کے باہر رہ گیا۔ میں نے بار بار کوشش کی لیکن وہ باہر نہیں آیا۔ برش کا اگلا حصہ اندر ہی پھنس گیا اور ہینڈل میرے ہاتھ میں رہ گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھیں فوراً اندازہ ہو گیا کہ وہ نہایت خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں۔
اس کے بعد وہ فوری طور پر ماتارا کے ایک پرائیویٹ ہسپتال گئے تاکہ گلے میں پھنسے برش کے حصے کو نکالنے کے لیے طبی امداد لے سکیں تاہم اُن کے بقول وہاں کے ڈاکٹروں نے علاج کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ معاملہ نہایت خوفناک ہے۔
پریم لال نے مزید بتایا کہ پھر وہ ماتارا کے سرکاری ہسپتال گئے جہاں ایمرجنسی یونٹ میں انھیں داخل کیا گیا۔ وہاں ان کے مختلف ٹیسٹ ہوئے لیکن برش کا حصہ تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ڈاکٹروں نے انھیں کہا کہ اگر وہ چاہیں تو گھر واپس جا سکتے ہیں۔
تقریباً ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد اُن کی حالت مزید خراب ہونے لگی۔ ’میرا گلا بند ہونے لگا، سانس لینے میں دشواری ہوئی اور خون کے ساتھ کھانسی آنے لگی۔‘
اس موقع پر انھوں نے ایک قریبی ڈاکٹر لکمال سے رجوع کیا۔ ڈاکٹر لکمال نے انھیں مشورہ دیا کہ پہلے ایکسرے کروائیں اور پھر گال شہر کے ہسپتال جائیں۔
ایکسرے رپورٹ میں واضح طور پر نظر آیا کہ برش کا ٹوٹا ہوا حصہ اُن کے حلق میں موجود ہے۔ پریم لال نے کہا کہ ’یہ بالکل آئینے میں چہرہ دیکھنے جیسا تھا، ایکسرے میں صاف دکھائی دیا کہ برش اندر ہے لیکن ماتارا ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا کہ پلاسٹک ایکسرے میں عام طور پر نظر نہیں آتا۔‘
یوں وہ ماتارا سے گال منتقل ہوئے تاکہ مزید علاج کروا سکیں۔
کامیاب سرجری

پریم لال کے گلے میں پھنسے ہوئے برش کے حصے کو تلاش کرنے کے لیے گال کے سرکاری ہسپتال میں کان، ناک اور گلے کے ماہر ڈاکٹر انورُدھ وکرما سنگھے کی نگرانی میں اگلے دن صبح نو بجے اینڈوسکوپی کی گئی تاہم اُس وقت برش کا حصہ نظر نہیں آیا۔
پریم لال کے مطابق ’آپریشن تھیٹر سے باہر آنے کے بعد میں بہتر محسوس کر رہا تھا اور بات بھی کر سکتا تھا۔‘
تاہم کچھ ہی دیر بعد پرانی علامات دوبارہ ظاہر ہونے لگیں۔
’میرا گلا پھر بند ہونے لگا اور کھانسی کے ساتھ خون آنے لگا۔ اس کے بعد دوبارہ ایکسرے اور پھر سی ٹی سکین کیا گیا، جس میں واضح ہوا کہ برش کا ٹوٹا ہوا حصہ اب بھی اُن کے جسم میں موجود ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق برش کا یہ حصہ پریم لال کے حلق کو نقصان پہنچا کر باہر نکل گیا تھا اور گلے میں موجود بڑی شریان کے قریب جا کر رُک گیا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس حالت کے باوجود وہ کھانا کھا رہے تھے اور بات چیت بھی کر رہے تھے۔
بالآخر 25 جنوری کی رات اُنھیں آپریشن کے لیے لے جایا گیا۔

پریم لال نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ کیس کس طرح آگے بڑھے گا، اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایسا واقعہ نہ تو سری لنکا میں رپورٹ ہوا اور نہ ہی بیرونِ ملک۔ اس میں جان کو بڑا خطرہ ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے ہمت نہیں ہاری، میرے بچوں اور اہلیہ نے بھی حوصلہ دیا۔‘
رات گئے ان کا آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا۔ اگلی صبح جب وہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں تھے تو برش کا نکالا گیا ٹکڑا اُن کے پاس موجود تھا۔

’چاہتا ہوں یہ واقعہ ہر کسی کے لیے سبق بنے‘
آپریشن کے بعد تقریباً ایک ہفتہ ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے والے پریم لال اب صحت یاب ہو کر اپنے گھر واپس آ گئے ہیں۔
بی بی سی سنہالا سے گفتگو کے دوران بھی اُن میں کسی قسم کی کمزوری یا دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ وہ نہایت جوش و جذبے کے ساتھ بات کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’اب مجھے ایسا لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔‘
تاہم انھوں نے اس گفتگو کے اختتام پر زور دیا کہ ایک مصروف دنیا میں جہاں کوئی بھی لمحہ غیر متوقع ہو سکتا ہے، ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ بظاہر معمولی دکھائی دینے والے روزمرہ کے کام بھی انسانی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
پریم لال نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ یہ واقعہ سب کے لیے مثال بنے۔ ایسا واقعہ کہیں رپورٹ نہیں ہوا۔ شاید کبھی ہوا ہو مگر اس پر توجہ نہ دی گئی ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ سب لوگ اس سے آگاہ ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑے خطرے کا باعث بن سکتی ہے اور ہمیں روزمرہ معمولات میں احتیاط برتنی چاہیے۔












