’جنوبی بحیرۂ چین میں روکا گیا تو جنگ چھڑ سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے جنوبی بحیرۂ چین میں ان مصنوعی جزائر تک چین کی رسائی کو روکنے کی کوشش کی جنھیں چین نے حالیہ برسوں میں بنایا ہے تو اس سے تباہ کن محاذ آرائی شروع ہو سکتی ہے۔
چین کے دو سرکاری اخبارات، گلوبل ٹائمز اور چائنا ڈیلی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اس سے ایک خوفناک جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا ردعمل امریکہ کے نامزد وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کو چین کی جنوبی بحیرۂ چین کے جزائر تک رسائی کو روکنا ہوگا۔
امریکہ کے نامزد وزیر خارجہ نے اپنے بیان کی وضاحت نہیں کی ہے کہ امریکہ بحیرۂ جنوبی چین میں جزائر تک چین کی رسائی کو کیسے روکے گا۔
گلوبل ٹائمز نے اپنے اداریے میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے بحیرۂ جنوبی چین میں جزائر تک چین کی رسائی کو روکنے کی کوشش کی تو اس سے خوفناک جنگ جنم لے گی۔
امریکہ اور مغربی دنیا کے مطابق بحیرۂ جنوبی چین میں کئی چٹانوں پر مصنوعی جزیرے تیار کر کے وہاں اپنے فوجی اڈے قائم کر رہا ہے۔
چین تمام بحیرۂ جنوبی چین کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان اور ویت نام سمیت علاقے کے کئی دوسرے ممالک چین کے حق کو تسلیم نہیں کرتے۔
امریکہ کے نامزد وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے چین کی جانب سے بحیرۂ جنوبی چین میں چین کے جزائر کو یوکرائن کے جزیرے کرائمیا سے موازنہ کیا جسے روس نے یوکرائن میں پیدا ہونے والی بدامنی کےبعد اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریکس ٹلرسن نے سینیٹ کمیٹی کی سماعت کے دوران کہا 'ہمیں چین کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ اسے جزائر کی تعمیر کو روکنا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا:'چین کو ان جزائر تک رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔'
نامزد امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر چین کا سرکاری ردعمل دھیما اور محتاط تھا۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لوگانگ نے کہا کہ چین کو اپنے علاقوں میں ہر کارروائی کا حق ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان سے جب خصوصی طور پر امریکہ کے نامزد وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرنے لیے کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ مفروضوں پر مبنی سوالوں کے جواب نہیں دیں گے۔
لیکن چائنا ڈیلی اور گلوبل ٹائمز کے تبصرے غیر مبہم اور واضح ہیں۔
چائنا ڈیلی نے کہا کہ ریکس ٹلرسن کا بیان نامزد وزیر خارجہ کی چین۔امریکہ تعلقات کی باریکیوں اور سفارت کاری میں ان کی ناتجربہ کاری کی غمازی کرتا ہے۔
چائنا ڈیلی نے کہا کہ ایسے بیانات نامزد وزیر خارجہ کی 'سادگی، کوتاہ نظری، گھسے پٹے تعصبات اور غیر حقیقی سیاسی خوابوں کا ایک مجموعہ ہے جسے زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ '
چائنا ڈیلی نے مزید لکھا کہ اگر امریکہ نے حقیقت میں ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔
گلوبل ٹائمز نے لکھا کہ ریکس ٹلرسن نے یہ بیان اس لیے دیا کہ سینٹیروں کو خوش کر کے اپنی نامزدگی کی توثیق کرو ا سکیں۔
گلوبل ٹائمز نے لکھا کہ چین اس کو یقینی بنائے گا کہ ان کی جنگجوانہ باتوں کو عملی شکل نہ دینے دے۔
گلوبل ٹائمز نے لکھا کہ اگر امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ باقاعدہ جنگ کے بغیر ہی چین کی بحیرۂ جنوبی چین کے جزائر تک رسائی روک سکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔
اوباما انتظامیہ نے بحیرۂ جنوبی چین میں چینی کارروائیوں پر سخت موقف اپنائے رکھا اور اپنے بحری جہازوں کو ان علاقوں میں بھی بھیجا لیکن اس نے کبھی بھی چین کی ان جزائر تک رسائی کو روکنے کی بات نہیں کی ہے۔








