چین کے ناقد ماہر اقتصادیات امریکی تجارتی کونسل کے سربراہ مقرر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماہر اقتصادیات پیٹر ناوارو کو قومی تجارتی کونسل کا سربراہ مقرر کیا ہے۔
پیٹر ناوارو کا شمار چین کی تجارتی پالیسوں کے ناقدین میں ہوتا ہے۔
قومی تجارتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے پیٹر ناوارو ملک کی تجارتی اور صنعتی پالیسی کے ڈائریکٹر بھی ہوں گے۔
وہ انتخابی مہم کے دوران بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر تھے۔
انھوں نے کئی کتابین بھی لکھیں ہیں جن میں سے 'دی کم مینگ چائنہ وار' 'ڈیتھ بائی چائنہ' شامل ہیں۔ ان کتابوں میں چین کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔
انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی مسائل کو خاصی اہمیت دی تھا اور چین، میکسیکو کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر تنقید کی تھی۔
نو منتخب صدر کی ٹیم کا کہنا ہے کہ پیٹر ناوارو کی نامزدگی 'نو منتخب صدر کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ امریکیوں کو دوبارہ پیدواری شعبے میں عظیم بنائیں گے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی روزنامے سان فرانسسکو کرونیئکل میں پیٹر ناوارو کے حالیہ مضمون کے مطابق اپنی پہلی کتاب کے شائع ہونے کے بعد اُن کی ٹرمپ سے ملاقات ہوئی اور طویل بات چیت کے بعد وہ ٹرمپ کی مہم کے سینیئر پالیسی مشیر بنے۔
اپنے مضمون میں انھوں نے لکھا کہ 'گو کہ آزاد تجارت اچھی ہے لیکن اسے منصفانہ بھی ہونا چاہیے نہیں تو وہی ہو گا جو ہمارے ساتھ ہوا ہے۔امریکہ میں پیداوار ختم ہو گئی، گذشتہ 15 برسوں سے اجرتیں نہیں بڑھیں ا ور دو کروڑ امریکیوں اچھی ملازمتیں حاصل کرنے سے قاصر رہے۔'

،تصویر کا ذریعہUniversity of California, Irvine
یاد رہے کہ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان کے صدر سے فون پر بات کر کے امریکہ کی کئی دہائیوں پر مشتمل 'ون چائنہ' پالیسی کی خلاف ورزی کی تھی۔ چین نے بھی اس اقدام پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔
کئی دوسرے ماہرین اقتصادیات نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ چین کی تجارت کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام سے تجارتی جنگ چھڑ سکتی ہے جو سے دونوں ملک متاثر ہوں گے۔









