اوپیک تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اور کوشش کرے گی

،تصویر کا ذریعہAFP
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک رواں ہفتے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بہتری لانے کے اقدامات پر اتفاق رائے کی ایک اور کوشش کرے گی۔
الجزائر کے وزیر توانائی نورالدین بوتیفا نے کہا ہے کہ ملک میں توانائی پر ہونے والی کانفرنس کے دوران اوپیک کے رکن ممالک غیر رسمی مذاکرات کریں گے۔
٭ <link type="page"><caption> چار ممالک کا تیل کی پیداوار نہ بڑھانے پر اتفاق</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/02/160216_oil_output_freeze_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں تیل کی پیدوار میں کمی یا اسے موجودہ سطح پر منجمد کرنے پر غور کیا جائے گا۔
نورالدین بوتیفا نے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں ہم خالی ہاتھ واپس نہیں آئیں گے۔
2014 کے وسط تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ تھیں تاہم بعد میں تیزی سے گراوٹ آئی اور ایک موقع پر قیمتیں 30 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے گر گئیں۔
اوپیک تنظیم کے 14 ارکان دنیا کی تیل کی ضروریات کا ایک تہائی مہیا کرتے ہیں اور یہ ممالک تاحال تیل کی پیدوار میں کمی لانے کے کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔
نورالدین بوتیفا کے مطابق اوپیک ممالک میں سے سعودی عرب پہلے پیداوار میں کمی کا مخالف تھا تاہم اب وہ بھی پیدوار میں کمی کے فیصلے پر رضامندی ظاہر کر سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ہے کہ اگرچہ بدھ کو ہونے والی ملاقات غیر رسمی ہے لیکن اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یہ مذاکرات رسمی شکل اختیار کر جائیں۔
’اس میں یا تو ہم ایک سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے، جو اچھا ہو گا، اور یا تو ہم سمجھوتے کے نکات پر متفق ہو جائیں گے اور یہ بھی اچھا ہو گا۔ ہر رکن ملک قیمتوں میں استحکام لانے پر رضامند ہے۔ اس میں ایک ایسا طریقہ تلاش کرنا باقی ہے جس پر سب مطمئن ہوں۔ اس میں بہترین حل پیداوار کو منجمد کرنا ہے۔‘
خیال رہے کہ اقتصادی تھنک ٹینک گولڈمین سیکس نے کہا تھا کہ سنہ 2016 کے اختتام پر خام تیل 50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گا جب کہ سنہ 2017 میں تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک ہو گی۔







