اٹلی: زلزلہ متاثرین کے لیے لکڑی کے گھر

اٹلی کی حکومت 24 اگست کے زلزلے کے متاثرین کے لیے اگلے تین ماہ میں 2500 لکڑی کے گھر تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
اٹلی کے میڈیا کے مطابق ان خیمہ نما لکڑی کے گھروں کے ڈیزائن کو خیموں یا شپنگ کنٹینروں پر ترجیح دی جا رہی ہے جن کو سنہ 2009 کے زلزلے کے بعد اونا میں استعمال کیا گیا تھا۔
بدھ کے روز آنے والے چھ اعشاریہ دو کی شدت کے زلزلے سے اماترس اور روم کے شمال مشرق میں پہاڑی علاقے میں واقع دو دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔
خیال رہے کہ اس زلزلے میں 209 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اٹلی کے وزیر اعظم متیو رینزی نے اتوار کے روز ملک کے ایک مشہور ارکیٹیکٹ رینزو پیانو سے ملاقات کی اور ان سے تعمیر نو کے کام کے بارے میں بات چیت کی۔
حکام کو اب اس چیلنج کا سامنا ہے کہ وہ کس طرح زلزلہ متاثرین کو سردیوں سے پہلے محفوظ اور آرام دہ رہائش گاہوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔

اٹلی کے اطالوی زبان کے اخبار کوریئر دلا سیرا کا کہنا ہے کہ لکڑی کے گھر لوگوں کے تباہ شدہ گھروں کے قریب تعمیر کیے جائیں گے کیونکہ زیادہ تر متاثرین وہیں منتقل ہونا چاہتے ہیں۔
نوتعمیر شدہ خیمہ بستیوں کے باوجود کچھ متاثرین اپنے گھروں کے قریب پارک شدہ گاڑیوں میں سونے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ ملبے تلے دبا ان کا قیمتی سامان چوری ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اماترس کے میئر سرگیو پیروزی کا کہنا ہے کہ جیسے ہی موسم سرد ہو گا متاثرین کو عارضی طور پر ساحل سمندر پر واقع ہوٹلوں میں کمرے دیے جائیں گے اور بعد میں انھیں ان خیموں میں منتقل کیا جائے گا۔
لکڑی کے بنے ہوئے گھروں میں ایک سے دو بیڈروم، ایک کچن اور ایک باتھ روم ہو گا اور ان کو بنانے کا خرچہ 1400 یورو فی مربع میٹر ہو گا۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایک چھوٹا سے لکڑی کا گھر بنانے پر پچپن ہزار یورو خرچ ہو گا جو اسی سائز کے ایک کنٹینر کی کئی گنا زیادہ ہے۔







