اٹلی میں زلزلے کی تباہی کے فضائی مناظر

اٹلی میں زلزے سے آنے والی تباہی کے مناظر کی فضائی جھلک

اٹلی کے وسطی حصے میں بدھ کو آنے والے شدید زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 265 سے تجاوز کر گئی ہے اور ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناٹلی کے وسطی حصے میں بدھ کو آنے والے شدید زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 265 سے تجاوز کر گئی ہے اور ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔
پانچ ہزار امدادی کارکنان ملبے میں دبے لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپانچ ہزار امدادی کارکنان ملبے میں دبے لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے
آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے اور جمعرات کو ایک اور شدید زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں کو پہلے سے متاثرہ عمارتوں سے لاپتہ افراد کی تلاش کے کام کو روکنا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے اور جمعرات کو ایک اور شدید زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں کو پہلے سے متاثرہ عمارتوں سے لاپتہ افراد کی تلاش کے کام کو روکنا پڑا۔
حکام کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں اماٹریس میں ہوئی جہاں 184 افراد ہلاک ہوئےجو زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں اماٹریس میں ہوئی جہاں 184 افراد ہلاک ہوئےجو زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہے۔
اماٹریس شہر میں عمارتیں خود بخود زمین بوس ہو رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناماٹریس شہر میں عمارتیں خود بخود زمین بوس ہو رہی ہیں۔
زلزلے سے بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہو گئیں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنزلزلے سے بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہو گئیں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
 امدادی کارکن سونگھنے والے کتوں کی مدد سے ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن امدادی کارکن سونگھنے والے کتوں کی مدد سے ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں
اب بھی کئی لوگ لا پتہ ہیں جن کے بارے پتا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناب بھی کئی لوگ لا پتہ ہیں جن کے بارے پتا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے