اٹلی: زلزلے میں ہلاک شدگان کی یاد میں یوم سوگ

اٹلی میں زلزلے میں ہلاک ہونے والے 278 افراد کے یاد میں سنیچر کو قومی سطح پر یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔

اٹلی کے وسطی حصے میں بدھ کو آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ اب بھی متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان افراد کے زندہ بچنے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ آخری لاپتہ افراد کی تلاش تک امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

امدادی سرگرمیوں میں زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

اٹلی کے وزیراعظم میتیو رینزی اماٹریس میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شامل ہوں گے۔

حکام کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں اماٹریس میں ہوئی جہاں 184 افراد ہلاک ہوئےجو زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہے۔

اس سے پہلے حکام نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جبکہ وزیرِ اعظم متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات کے لیے پانچ کروڑ یورو فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

جمعرات کو 4.3 شدت کے ایک زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں کو پہلے سے متاثرہ عمارتوں سے لاپتہ افراد کی تلاش کے کام کو روکنا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

اماٹریس میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں گرد اور دھول کا ایک بگولہ ہوا میں بلند ہوتا دیکھا گیا۔

بی بی سی نامہ نگار جینی ہِل کے مطابق امدادی کارکنوں نے صحافیوں اور وہاں موجود دیگر افراد سے کہا ہے کہ اماٹریس سے فوری اٹلی کے وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

زلزلے سے بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہو گئیں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پیسکارا ڈیل ٹورنٹو گاؤں کے علاوہ اماٹریس نامی قصبہ بھی زلزلے سے شدید متاثر ہوا ہے اور وہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینالڈ جو اس وقت اماٹریس میں موجود ہیں، کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن سونگھنے والے کتوں کی مدد سے ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقامی حکام یہ پتہ لگانے میں مصروف ہیں کہ ابھی تک کتنے لوگ لاپتہ ہیں۔

ماضی کے زلزلوں کے اعداد و شمار کے مطابق خدشہ ہے کہ یہ زلزلہ بھی کافی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔