’پابندی کے بعد برقینی کی فروخت میں 200 فیصد اضافہ‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اسلامی طرز کا مکمل تیراکی کا لباس ’برقینی‘ بنانے والی آسٹریلین خاتون کا کہنا ہے کہ پیرس میں برقینی پر پابندی نے اس کی فروخت میں مزید اضافہ کیا ہے۔
اس لباس میں جسے ’برقہ‘ اور ’بکینی‘ کے الفاظ کے امتزاج سے ’برقینی‘ کا نام دیا گیا ہے خواتین کے صرف چہرہ، ہاتھ اور پاؤں دکھائی دیتے ہیں۔
* <link type="page"><caption> کانز کے ساحلوں پر برقینی پہننے پر پابندی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160812_cannes_bans_burkinis_sr" platform="highweb"/></link>
آہدہ زنیتی جو برکینی یا بُرقینی نام کو اپنا ٹریڈ مارک قرار دیتی ہیں کا کہنا ہے کہ ان کے اس لباس کی فروخت میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سڈنی کی 48 سالہ خاتون کا کہنا ہے کہ تیراکی کا یہ لباس آزادی اور صحت مند زندگی کا ترجمان ہے نہ کہ جبر کا۔
زینتی کا کہنا ہے کہ اس لباس کے بنانے کا بنیادی مقصد مسلمان خواتین کو بھی آسٹریلیا کی ساحلی زندگی میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ان کا کہنا تھا ’میں چاہتی تھی کہ میری بیٹیاں بڑی ہوں تو ان کے پاس چیزوں کے انتخاب کی آزادی ہو۔‘
’مجھے فرق نہیں پڑتا اگر وہ بکینی کا انتخاب کرتی ہیں۔ یہ ان کی مرضی ہے۔ اس پوری دنیا میں کوئی مرد نہیں جو ہمیں یہ بتائے کہ ہم کیا پہنیں اور کیا نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بقول وہ کسی حد تک فرانس میں برقہ پر پابندی اور اسلام کے پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی کی خبروں سے متاثر ہوئی تھیں۔
فرانس کے بیشتر علاقوں میں حکام نے اس لباس پر یہ کہتے ہوئہ پابندی عائد کر دی ہے کہ یہ سکیولرزم کے قانون کے منافی ہے۔
یہ بحث فرانس میں حالیہ شدت پسند حملوں کے بعد زیادہ حساس ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty







