یمن میں ’ہسپتال پر فضائی حملہ، کم از کم 11 ہلاک‘

تاحال اتحادی افواج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتاحال اتحادی افواج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ایک ہسپتال کو فضائی حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

فلاحی طبی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ یہ حملہ صوبہ کے شہر عبس میں کیا گیا جس میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق اس حملے میں 19 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تاہم عبس کے رہائشیوں اور مقامی طبی عملے کا کہنا ہے اس حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ہیں۔

تاحال اتحادی افواج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز یمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ دھماکے سے نو افراد کی فوری ہلاکت ہوگئی جن میں ایم ایس ایف کے عملے کا رکن بھی شامل تھا جبکہ دو مزید مریض دوسرے ہسپتال میں منتقل کرنے کے دوران ہلاک ہوگئے۔ . خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں جاری جنگ میں تاحال 6400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں تقریبا نصف عام شہری ہیں جبکہ ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

 اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں جاری جنگ میں تاحال 6400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں جاری جنگ میں تاحال 6400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں

اس سے قبل پیر کو ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز یمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کیا کہ عبس میں ہسپتال کو ’فضائی حملے میں نشانہ‘ بنایاگیا ہے۔

صوبہ حجہ حوثی باغیوں گروہ سے رکھنے والے طبی عملے کے ایک اہلکار ایمن مزکور نے صبا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ کم از کم چھ افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں جبکہ مقامی حکام اور رہائشیوں نے خبررساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہے۔

غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق جب ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا تو وہاں ایک ہسپانوی خاتون ڈاکٹر بھی موجود تھیں.

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ عبس میں قائم ہسپتال میں جولائی 2015 سے 4600 مریضوں کا علاج معالجہ کیا جاچکا تھا۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق گذشتہ سال اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں صوبہ صعدہ میں اس کے ایک مرکز اور جنوبی صوبی تعز میں ایک موبائل کلینک کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

صوبہ صعدہ میں رواں سال جنوری میں گرانے جانے والے ایک بم میں چھ افراد کی ہلاک ہوئی تھی۔