’روس اور ترکی نے تعلقات کے نئے باب کا آغاز کیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی اور روس کے سربراہانِ مملکت کا کہنا ہے کہ انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے جو ترکی کی جانب سے روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد سے متاثر ہوئے تھے۔
یہ بات ترک اور روسی صدر نے سینٹ پیٹربرگ میں منگل کو ہونی والی ملاقات کے بعد کہی۔
روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوغان سے کہا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ معاشی تعلقات اور رابطوں کی بحالی کے لیے تیار ہیں۔
٭ <link type="page"><caption> اردوغان پوتن ملاقات سے مغرب کے اوسان خطا </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160809_erdogan_unnerves_west_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ شام پر ترک پالیسیوں کے حوالے سے اختلافات کو حل کرنا ممکن ہے۔
انھوں نے ترک صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو جامع اور فائدہ مند قرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ ترک صدر اپنی حکومت کے خلاف ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد اپنے پہلے بیرونی دورے پر روس میں موجود ہیں۔
صدر اردوغان ایک ایسے وقت روس کا دورہ کر رہے ہیں جب انھیں ملک میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد کی جانے والی کارروائیوں پر مغربی ممالک کی تنقید کا سامنا ہے۔
روس روانگی سے پہلے اردوغان نے روسی صدر ولادی میر پوتن کو اپنا ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات کا نیا دور شروع کرنا چاہتے ہیں۔
اردوغان نے روس کی خبر رساں ایجنسی تاس کو بتایا کہ’ہمارے دو طرفہ تعلقات میں مجھے یہ دورہ ایک سنگِ میل کے طور پر دکھائی دے رہا ہے اور ہم ایک بار پھر صاف نیت سے اس کی ابتدا کر رہے ہیں۔‘
ترکی کی جانب سے گذشتہ سال شام کی سرحد کے قریب روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد روس نے ترکی پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ روسی شہریوں پر سیاحت کے لیے ترکی جانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
روس کے صدارتی محل نے رواں برس جون میں کہا تھا کہ ترک صدر اردوغان نے جنگی طیارہ مار گرانے پر معافی مانگ لی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی کے صدر نے روسی صدر کے نام ایک پیغام بھیجا تھا جس میں انھوں نے تباہ ہونے والے روسی طیارے کے پائلٹ کے خاندان والوں سے ہمدری اور تعزیت کا اظہار کیا تھا۔
امید کی جا رہی ہے کہ روس اور ترکی کے درمیان منگل کو ہونے والے مذاکرات کا محور تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ سیر و سیاحت جیسے اہم تعلقات کی بحالی پر ہو گا۔
روس میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ روس ترکی میں گذشتہ ماہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی اور مغربی ممالک کے سرد تعلقات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
خیال رہے کہ ترکی کی جانب سے فوجی بغاوت کے مشتبہ افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر یورپی یونین اور امریکہ کی تنقید نے اردوغان کو ناراض کر دیا تھا۔
ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعد 18,000 ہزار گرفتاریاں عمل میں لائی جا چکی ہیں۔
سرکاری اداروں میں کام کرنے والے 66,000 افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔







