’غیرت کے نام پر قتل‘، ناز شاہ کا نواز شریف کو خط

ناز شاہ نے اس سلسلے میں پاکستان کے وزیرِاعظم کو خط لکھا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنناز شاہ نے اس سلسلے میں پاکستان کے وزیرِاعظم کو خط لکھا ہے

برطانوی رکنِ پارلیمان ناز شاہ نے وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے ایک پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کو پاکستان میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سامعہ شاہد نامی 28 سالہ خاتون کی موت رواں ماہ کی 20 تاریخ کو پاکستان کے ضلع جہلم میں ان کے آبائی گاؤں میں واقع ہوئی تھی اور ان کے شوہر مختار کاظم نے الزام عائد کیا ہے کہ سامعہ کے گھر والوں نے اسے خاندان سے باہر شادی کرنے کی وجہ سے قتل کیا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی رکنِ پارلیمان ناز شاہ نے اس سلسلے میں پاکستان کے وزیرِ اعظم کو خط لکھ کر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

گارڈین کے مطابق ناز شاہ کی جانب سے میاں محمد نواز شریف کو بھیجے گئے خط میں برطانوی رکنِ پارلیمان نے لکھا ہے کہ ’ اگر یہ قتل غیرت کے نام پر کیا گیا ہے تو ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ سامعہ کے ساتھ انصاف ہو اور اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ایسا واقعہ دوبارہ کبھی نہ ہو۔‘

سامعہ کے شوہر نے ضلع جہلم کی پولیس کے پاس اپنی اہلیہ کے قتل کا مقدمہ درج کروایا ہے اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 اور 109 کے تحت درج کیے جانے والے مقدمے میں سامعہ کے والدین، ان کی بہن اور ایک کزن کو نامزد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سامعہ کے والدین اور ان کی بہن بھی برطانوی شہری ہیں۔

صائمہ کے شوہر سید مختار کے مطابق ان کو مقتولہ کے خاندان والوں کی جانب سے بتاگیا ہے کہ صائمہ کی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے تاہم انھیں اس بیان پر یقین نہیں اور یہ کیسے مان لیا جائے کہ ایک ہنستی کھیلتی 28 سالہ خاتون کی اچانک اس طرح موت ہو جائے۔

مدعی سید مختار کاظم کا کہنا ہے کہ ’سامعہ شاہد نے اپنے سابقہ شوہر سے طلاق لے کر سنہ 2014 میں ان سے شادی کی تھی جس کے بعد وہ دبئی میں ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے تاہم سامعہ کے والدین مرضی کے بغیر خاندان سے باہر شادی کرنے پر ان سے ناراض تھے اور فون پر ان کی بیوی کو قتل کی دھمکیاں دیا کرتے تھے۔‘

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فون پر ہی صلح صفائی اور رابطوں کے بعد سامعہ کو والد کی بیماری کا بہانہ بنا کر پاکستان بُلایا گیا اور زہر دے کر قتل کر دیا گیا۔‘

تاہم اس مقدمے کے تفتیشی افسر ایس ایچ او منگلا محمد عقیل عباس نے بی بی سی کی شمائلہ خان کو بتایا کہ ’20 جولائی کو سامعہ کے انتقال کے بعد ان کے والد کے کہنے پر پولیس نے لاش کا ابتدائی معائنہ کیا تھا لیکن اُس پر نہ ہی کوئی چوٹ تھی اور نہ ہی کوئی نشان۔‘

مقتولہ کے شوہر سید مختار کاظم کی جانب سے قتل کا الزام سامنے آنے کے بعد برطانوی پولیس نے بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ادھر برطانوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ہم پاکستان میں ہلاک ہونے والے ایک برطانوی شہری کے خاندان والوں کو مکمل تعاون فرہم کر رہے ہیں اور ہم مقامی حکام سے رابطہ کر کے مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں۔‘