ترکی میں صدارتی محافظوں کے دستے کو ختم کرنے کا فیصلہ

صدراتی محافظوں کی تعداد 2500 کے قریب ہے لیکن ان میں سے کم از کم 283 کو ناکام فوجی بغاوت کے بعد حراست میں لیا جا چکا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدراتی محافظوں کی تعداد 2500 کے قریب ہے لیکن ان میں سے کم از کم 283 کو ناکام فوجی بغاوت کے بعد حراست میں لیا جا چکا ہے

ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد اعلیٰ صدراتی محافظوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعظم بن علی یلدرم نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ صدارتی محافظوں کی ’اس ریجمنٹ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔‘

بن علی یلدرم ہبر ٹی وی چینل کو بتایا کہ ’یہاں اب صدارتی محافظ نہیں ہوں گے، ان کا کوئی مقصد نہیں، کوئی ضرورت نہیں۔‘

٭ <link type="page"><caption> ’ترکی میں مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160722_turkey_coup_hk" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ہزاروں نجی سکولوں اور تنظیموں کو بند کرنے کا حکم</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160723_turkey_school_clamped_sq" platform="highweb"/></link>

صدراتی محافظوں کی تعداد 2500 کے قریب ہے لیکن ان میں سے کم از کم 283 کو ناکام فوجی بغاوت کے بعد حراست میں لیا جا چکا ہے۔

اس سے قبل امریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کے بھتیجے کو ترکی میں گرفتار کیا گیا جبکہ صدراتی حکام کے مطابق فتح اللہ گولن کے ایک اہم ساتھی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

صدر طیب اردوغان کی جانب سے ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد شروع کیے جانے والے کریک ڈاؤن میں اب تک کم از کم 60 ہزار سرکاری ملازمین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو معطل کیا جا چکا ہے۔

گذشتہ ہفتے ترک حکومت کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد صدر رجب طیب اردوغان نے ملک میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت بھی نافذ کر رکھی ہے۔

امریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کے بھتیجے کو ترکی میں گرفتار کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنامریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کے بھتیجے کو ترکی میں گرفتار کیا گیا ہے

ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد صدر اردوغان کو پارلیمان کو بائی پاس کرنےاور بعض شہری حقوق معطل کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ تاہم انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ترک شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں گے۔

دوسری جانب ترکی کے نائب وزیراعظم نورتن کانیکلی نے کہا ہے کہ ناکام بغاوت کے بعد ملک میں ہونے والی گرفتاریاں بغاوت کرنے والے گروہ کے جلاوطن رہنما گولن کے حمایتیوں کی ملکی اداروں میں موجودگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔

ترکی کے نائب وزیراعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ بغاوت میں ملوث ہونے والے مزید افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ترک حکومت امریکہ میں مقیم مبلغ فتح االلہ گولن پر الزام عائد کرتی ہے کہ ملک میں بغاوت ان کی ایما پر کی گئی ہے تاہم وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ 40 برسوں سے دہشت گرد ننظیم ملک کے مزید حصوں میں سرایت کر گئی ہے جس میں وزارتوں سمیت تمام ادارے اور نجی سیکٹر بھی شامل ہیں۔