’ترکی میں مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں‘

ترکی کے نائب وزیراعظم نورتن کانیکلی نے کہا ہے کہ ناکام بغاوت کے بعد ملک میں ہونے والی گرفتاریاں بغاوت کرنے والے گروہ کے جلاوطن رہنما گولن کے حمایتیوں کی ملکی اداروں میں موجودگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔
ترکی کے نائب وزیراعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ بغاوت میں ملوث ہونے والے مزید افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو ترکی میں فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ ناکام ہو گئی۔ ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد حکومت کی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 60 ہزار سرکاری ملازمین کو معطل کیا جا چکا ہے۔
ترکی کے نائب وزیراعظم نے ترکی کے اتحادیوں پر تنقید پر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بےدلی سے بغاوت کرنے والوں کی مذمت کی ہے۔
خیال رہے کہ ترک حکومت امریکہ میں مقیم مبلغ فتح االلہ گولن پر الزام عائد کرتی ہے کہ ملک میں بغاوت ان کی ایما پر کی گئی ہے تاہم وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ 40 برسوں سے دہشت گرد ننظیم ملک کے مزید حصوں میں سرایت کر گئی ہے جس میں وزارتوں سمیت تمام ادارے اور نجی سیکٹر بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







