نیس حملہ: سابق فرانسیسی صدر کی حکومت پر تنقید

،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس کے جنوبی شہر نیس میں قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ہونے والے ٹرک حملے کے بعد ملک کے سابق صدر نکولا سارکوزی نے موجودہ حکومت پر مناسب سکیورٹی فراہم نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔
مرکزی دائیں بازو کی حزب اختلاف کی جماعت کے رہنما نکولا سارکوزی نے کہا ہے کہ انتہا پسند اسلام سے منسلک غیر ملکی شہریوں کو فرانس سے نکال دینا چاہیے۔
٭ <link type="page"><caption> نیس میں حملہ کرنے والا کون تھا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160715_who_was_nice_attacker_sh" platform="highweb"/></link>
٭<link type="page"><caption> ’حملہ آور پریشان مگر انداز جارحانہ تھا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160715_eyewitness_nice_shooting_zs" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو ایک تیز رفتار ٹرک سے ہجوم کو کچلے جانے کے واقعے میں بچوں سمیت 84 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔
نیس سمیت دیگر مقامات پر لوگوں نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے ہلاک شدگان کو خراج تحسین پیش کیا۔
85 زخمی افراد اس وقت زیر علاج ہیں جن میں سے 18 کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
اب تک صرف 35 لاشوں کی شناخت کی جا سکی ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کی صحیح شناخت کرنے کے لیے محتاط اقدامات لینا ضروری ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے نکولا سارکوزی نے کہا کہ ’جمہوریت کو کمزور بھی نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی یاد گار بننا چاہیے۔ جمہوریت کو یہ کہنا ہوگا کہ ہم یہ جنگ جیتیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے کہا کہ وہ انتہا پسند مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کے حق میں ہیں اور ان لوگوں پر الیکٹرانک ٹیگ بھی لگے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جو اس کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جہادی شدت پسندوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔
تاہم 18 ماہ میں تیسرا بڑا حملہ ہونے کے بعد ملک کے رہنماؤں کو تنقید کا سامنا ہے۔
یہ بات اب تک واضح نہیں ہوئی ہے کہ نیس حملہ آور محمد لحوايج بو ہلال ایک جہادی تھا یا نہیں۔
ان کے ہمسایوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک جارحانہ اور تنہائی پسند آدمی تھا جسے شراب پینا، ویٹ لفٹنگ اور سالسا ڈانسنگ کا شوق تھا۔
فرانس کے وزیر اعظم مینول والز نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ محمد لحوايج بو ہلال انتہا پسندی کی طرف اتنا جلدی راغب ہوا ہو کہ وہ حکام کی توجہ سے بھی بچ گیا۔







