’آنسو، پیاروں کی تلاش اور مدد کا جذبہ‘

فرانس کے جنوبی شہر نیس میں جمعرات کی شب ٹرک حملے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نہ صرف افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے بلکہ نیس کے رہائشیوں نے اپنے گھروں کے دروازے علاقے میں پھنسے متاثرین کے لیے کھول دے ہیں۔
ٹوئٹر پر حملے کے بعد ٹرینڈ وائرل ہو گیا جس میں پہلے ژا سوئی شارلی یا ہم شارلی #JeSuisCharlie، پھر ژا سوئی پیرس #JeSuisParis تھا اور اب #JeSuisNice ژا سوئی نیس یا ہم نیس ہیں۔
لوگ سماجی رابطوں پر افسوس کے اظہار کے علاوہ بعض معاملات میں اپنی مدد کی پیشکش بھی کر رہے ہیں۔

پورت اورت یا کھلا دروازہ ٹرینڈ کو نیس کے رہائشیوں نے متعدد بار استعمال کیا ہے جس میں ان لوگوں کو اپنے گھروں میں آنے کی پیشکش کی گئی ہے جنھیں شہر میں حملے کے بعد محفوظ پناہ کی ضرورت تھی۔
اس کے ساتھ صارفین ایک دوسرے کو یہ یاد دہانی کراتے رہے کہ وہ آن لائن اپنے گھر کے پتے کے بارے میں تفصیلات دینے سے گریز کریں لیکن مدد کے خواہاں کسی شخص کو براہ راست اپنے گھر کے پتے کے بارے میں بتایا جا سکتا ہے۔
ہیش ٹیک #Nice06 میں نیس کے اس علاقے کے ایک پوسٹ کوڈ کا حوالہ دیا گیا جہاں پر حادثہ رونما ہوا۔
ٹوئٹر صارفین کے مطابق نیس کے ٹیکسی ڈرائیور علاقے میں موجود لوگوں کے لیے مفت سروس کی پیشکش کر رہے ہیں۔
اپنے پیاروں کی تلاش

ہیش ٹیگ #RechercheNice یا رشیرشے نیس پر ہزاروں کی تعداد میں صارفین نے ٹویٹ کیا ہے تاکہ اپنے پیاروں کو تلاش کر سکیں اور ان کی خیریت کے بارے میں معلوم کر سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشل میڈیا پر ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ افراد کی تصاویر جاری کی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہر ایک کے بارے میں مختصر تفصیل مہیا کی گئی ہے۔
ایک اکاؤنٹ کو حملے کے فوری بعد ہی بنایا گیا جس میں لاپتہ افراد کے بارے میں بتایا گیا اور اسے حملے کے بعد سے پانچ سو بار دوبارہ ٹویٹ کیا جا چکا ہے۔
گمشدہ بچہ

فیس بک پر خاتون ٹیوا بینر کی پوسٹ کو بہت زیادہ شیئر کیا گیا جس میں انھوں نے اپنے لاپتہ ہونے والے بچے کے بارے میں بتایا تھا۔
ٹیوا کی پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ’ہم نے اپنے 8 ماہ کے بچے کو کھو دیا ہے۔ نیس میں موجود دوستو اگر آپ نے اس دیکھا ہے، اگر آپ وہاں ہیں اور آپ نے اسے اٹھایا ہے تو پلیز ہم سے رابطہ کریں۔‘
اس پوسٹ کے کچھ دیر بعد انھوں نے ایک پوسٹ میں اپنے بچے کے ملنے کے بارے میں مطلع کیا۔جس میں ایک خاتون جوئے رویژ کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔
’فیس بک شکریہ اور ان تمام لوگوں کا جنھوں نے اس پیغام پر مدد کی اور اس کے ساتھ انھوں نے نیس حملے کے بارے میں ہیش ٹیگ کو شیئر بھی کیا۔
ژا سوئی نیس ہیش ٹیک

ژا سوئی کا ہیش ٹیگ سب سے پہلے پیرس میں جریدے شارلی ایبڈو پر مسلح حملے کے بعد سامنے آیا تھا اور اس کے بعد سے کسی بھی شدت پسند حملے کے بعد اس ہیش ٹیگ کو استعمال کیا جاتا ہے۔
نیس میں حملے کی خبر سامنے آتے ہی #JeSuisNice ژا سوئی نیس یا ہم نیس ہیں کا ہیش ٹیگ آن لائن ہو گیا اور اس میں لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
نیس کے لیے دعا

ہیش ٹیگ #PrayForNice بھی حملے کے فوری بعد ٹویٹ پر بن گیا جس میں لوگ اپنے غم اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حملے کی مذمت کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ اس ہیش ٹیگ پر مشہور شخصیات نے نیس حملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔







