امریکی میزائل نظام کی تنصیب پر شمالی کوریا کی دھمکی

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے میزائل کے جدید دفاعی نظام کی تعیناتی پر رضامندی کے اعلان کے بعد شمالی کوریا نے اس کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ ٹرمینل ہائی الٹی چیوڈ ایریا ڈیفنس (ٹی ایچ اے اے ڈی) نظام صرف پیانگ یانگ کی جانب سے خطرے کے جواب کے لیے ہوگا۔
اس سلسلے میں شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا میں فوج کا ایک بیان سامنے آيا ہے جس میں فوج کی جانب سے ’بے رحم جوابی کارروائی‘ کی بات کہی گئی ہے۔
خیال رہے کہ شمالی کوریا امریکہ اور جنوبی کوریا کے خلاف اس طرح کی دھمکیاں اکثر دیتا رہتا ہے اور کشیدگی کے عروج کے زمانے میں اس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
گذشتہ ہفتے جب امریکہ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ-ان پر پابندیاں عائد کیں تو پیانگ یانگ نے اسے ’جنگ کا کھلا اعلان‘ قرار دیا تھا۔
’ٹی ایچ اے اے ڈی‘ نظام کے اعلان کے ایک دن بعد شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے دور ایک آبدوز سے ایک بلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا لیکن جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ تجربہ ناکام رہا۔

،تصویر کا ذریعہLockheed Martin
بہر حال ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ دفاعی نظام کہاں تعینات کیا جائے گا اور اس کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا۔
شمالی کوریا کے آرٹلری بیورو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جیسے ہی جنوبی کوریا میں ٹی ایچ اے اے ڈی نظام کی تعیناتی کے مقام کا پتہ چلے گا۔۔۔ اس کا جواب دیا جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس نظام کی روس اور چین دونوں مخالفت کرتے ہیں اور ان کے مطابق یہ علاقے میں امریکہ کی عسکری موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے ہے۔
جمعے کو چین نے کہا کہ اس نظام سے علاقے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچے گا اور بیجنگ نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے سفیروں کے سامنے اپنا احتجاج درج کروایا۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے بڑھتے خطرات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیوں کے باوجود پیانگ یانگ نے کئی میزائل کے تجربے کیے اور جنوری میں چوتھا جوہری تجربہ بھی کیا۔







