سعودی عرب میں دھماکوں کی تحقیقات، 12 پاکستانی گرفتار

،تصویر کا ذریعہTwitter
سعودی عرب کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا شخص سعودی شہری تھا جو منشیات کا عادی تھا۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پانچ جولائی کو ہونے والے تین خودکش حملوں کی تحقیقات میں 19 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 12 پاکستانی ہیں۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مسجد نبوی کے قریب دھماکہ کرنے والا 26 سالہ سعودی شہری نائر مسلم حماد النجیدی تھا جو منشیات کا عادی تھا۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مدینہ میں کیے گئے خود کش دھماکے میں نائٹروگلیسرین کے نمونے ملے ہیں۔
واضح رہے کہ پانچ جولائی کو سعودی عرب کے تین شہروں میں خودکش حملے کیے گئے تھے۔ سب سے پہلا جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر، دوسرا شیعہ اکثریتی علاقے قطیف اور تیسرا مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب ہوا تھا۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ قطیف میں حملہ کرنے والے 23 سالہ عبدالرحمان العمر، 20 سالہ ابراہیم العمر اور 20 سالہ عبدالکریم الحسنی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ جدہ میں امریکی قونصل خانے کے باہر خودکش دھماکہ کرنے والا شخص ایک پاکستانی تھا تاہم پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے فی الحال اس امر کی تصدیق سے انکار کیا ہے کہ مذکورہ شخص پاکستانی شہری ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
یہ دھماکہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سحری کے وقت ہوا تھا اور اس میں خودکش حملہ آور ہلاک اور اسے روکنے کی کوشش کرنے والے دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔
منگل کو سعودی وزارتِ داخلہ کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤئنٹ سے جاری کیے جانے والے پیغامات میں کہا گیا تھا کہ حملہ آور کا نام عبداللہ گلزار خان ہے جو ایک پاکستانی شہری ہے اور 12 برس قبل ڈرائیور کی نوکری کرنے کے لیے سعودی عرب آیا تھا۔
پیغام کے مطابق 15 ستمبر 1981 کو پیدا ہونے والا عبداللہ گلزار خان سعودی عرب میں اپنی اہلیہ اور ان کے والدین کے ہمراہ مقیم تھا۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے ان پیغامات کے ساتھ ہی عبداللہ گلزار خان کی تصویر بھی جاری کی تھی۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے حکام نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ عبداللہ گلزار خان نامی یہ شخص پاکستانی ہے۔







