دولتِ اسلامیہ کے قصبے پر شامی باغیوں کا حملہ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی پشت پناہی میں لڑنے والے شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے عراقی سرحد کے قریب واقع ایک قصبے کی جانب پیش قدمی کی ہے جس پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے۔
نیو سیریئن آرمی (این ایس اے) کا کہنا ہے کہ ایک فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کے بعد اس نے البوکمال کے گرد و نواح میں دولتِ اسلامیہ کے کئی ٹھکانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
تاہم اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے علی الصبح کیے جانے والے ایک حملے کو پسپا کر دیا تھا۔
یہ حملہ منگل کو شروع کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ شامی اور عراقی علاقوں کو جانے والے ایک اہم راستے کو کاٹ دیا جائے۔
این ایس اے کا کہنا ہے کہ وہ یہ جنگ عراق کی سرکاری فوج کے تعاون سے لڑ رہے ہیں، جو سرحد کی دوسری طرف سے پیش قدمی کر رہی ہے۔
البوکمال پر حملے میں کئی سو باغی حصہ لے رہے ہیں، جو دیرالروز صوبے میں عراقی سرحد سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
این ایس اے اور انسانی حقوق کے نگراں شامی ادارے دونوں نے بدھ کی صبح کہا ہے کہ باغیوں نے ہمدان کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے، جو قصبے سے پانچ کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لڑائی قصبے کے قریب کھیتوں میں ہو رہی ہے اور شامی نگران ادارے کے مطابق اتحادی طیارے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
این ایس اے کے ترجمان مزاحم السلوم نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ البوکمال کے جنوبی مضافات میں چھاتہ بردار فوجی بھی اتارے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
این ایس اے نے بدھ ہی کو ایک بیان میں کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے ’البوکمال کے اندر دور تک حملہ کیا ہے۔ اس وقت جنگ جاری ہے، لیکن این ایس اے نے صحرا کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے، اور اسے نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہے۔‘
خبررساں ادارے روئٹرز نے دو باغی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ این ایس اے دولتِ اسلامیہ کے جوابی حملے کے بعد قصبے کے مضافات سے پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی۔
ایک ماخذ نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے باغیوں کو گھیرے میں لے لیا، اور ان کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔
این ایس اے ڈیڑھ سال قبل قائم ہوئی تھی اور یہ ان باغی دھڑوں پر مشتمل ہے جنھیں دولتِ اسلامیہ نے 2014 میں خودساختہ ’خلافت‘ کے قیام کے بعد مشرقی شام سے باہر دھکیل دیا تھا۔







