یورپی یونین سے علیحدگی، اب کیا ہوگا؟

برطانیہ بات چيت کے بعد یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے تب بھی اسے خصوصی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والے اختیارت نہیں ملنے والے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ بات چيت کے بعد یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے تب بھی اسے خصوصی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والے اختیارت نہیں ملنے والے

برطانیہ میں جن لوگوں نے یورپی یونین سے الگ ہونے کی مہم چلائی وہ کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ اب برطانیہ کو یورپ کی 28 ممالک پر مشتمل یونین سے الگ ہونا پڑےگا۔

تو یورپی یونین سے نکل جانے سے برطانیہ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

سب سے پہلا نقصان تو یہ ہوگا کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ فروری میں یونین کے ساتھ بات چيت کے ذریعے جو خصوصی معاہدہ طے کیا تھا وہ اب ختم ہو جائےگا۔

اس معاہدے کے تحت برطانیہ کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اگر وہ بعض معاملات پر یورو زون سے باہر بھی رہے تو بھی اس کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتا جائے گا۔

ریفرنڈم کے نتائج کے بعد برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنریفرنڈم کے نتائج کے بعد برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے

اب اگر برطانیہ بات چيت کے بعد یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے تب بھی اسے خصوصی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والے اختیارت نہیں ملنے والے۔

علیحدگی کے پیچیدہ عمل پر بات چيت

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ یورپی یونین سے الگ ہونے کے لیے شرائط طے کرنے کی غرض سے مذاکرات کے طور یورپی یونین کی دفعہ 50 کا استعمال کریں گے۔ لیکن اب جبکہ وہ خود مستعفی ہوچکے ہیں یہ عمل اور پیچیدہ ہوگیا ہے۔

کنزرویٹیو پارٹی اس کے حوالے سے شدید اختلافات کا شکار ہے اور یہ مذاکرات اب ملک کے نئے وزیر اعظم کو کرنے ہوں گے۔ آرٹیکل 50 کے تحت یونین سے الگ ہونے کے لیے دو برس کا وقت مقرر ہے جس کا اس سے پہلے استعمال بھی نہیں ہوا ہے۔ یہ بہت مختصر معیاد ہے اور اس میں توسیع بھی تبھی ممکن ہے جب تمام 28 ممالک متفق ہوں۔

،تصویر کا ذریعہPA

الگ ہوتے وقت جائیداد کی تقسیم، یونین کا بجٹ اور یورپی یونین کے شہری جو برطانیہ میں ہیں اور جو برطانوی شہری یونین ممالک میں ہیں ان کا کیا ہوگا، جیسے بہت سے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔

یونین ممالک کے ساتھ نئے تجارتی روابط

یورپی یونین سے علحیدہ ہونے کے لیے جو مذاکرات شروع ہوں گے اسی کے ساتھ ہی تجارتی روابط پر بھی بات چیت کی جا سکتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو۔

اگر نئے تجارتی روابط پر بات چیت طویل ہوتی ہے اور کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو اس مدت تک برطانیہ کو یونین کے ساتھ عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او کے اصول و ضوابط کے تحت تجارت کرنی پڑےگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کی سب سے بڑی فری مارکیٹ میں برطانیہ کو چین اور امریکہ کی طرح تجارت کرنی پڑیگی جس تک اسے اب تک آزادانہ رسائی حاصل تھی۔

یورپی یونین نے دنیا کے جن دیگر ممالک کے ساتھ خصوصی تجارتی معاہدے کیے تھے برطانیہ اس سے بھی محروم ہوجائے گا اور اسے ان مفادات کے لیے خود سے متعلقہ ممالک سے بات چیت کرنی پڑےگي۔

یورپی یونین کے بحٹ سے آزادی

یہ بات ضرور ہے کہ ایک بار یونین سے باہر آنے کے بعد برطانیہ کو یورپی یونین کو بجٹ دینا نہیں پڑےگا۔ برطانیہ یورپی یونین کو سالانہ تقریباً ساڑھے 12 ارب ڈالر کی رقم فراہم کرتا ہے۔ یہ رقم اب گھر میں رہے گی اور اس کا استعمال فلاحی کاموں میں کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اس کے بدلے میں برطانوی کسانوں کو یورپی یونین کی جانب سے ملنے والی براہ راست امداد روک دی جائےگی۔ 2015 میں یہ امداد تقریباً چار ارب ڈالر تھی۔ اس کے لیے یونین کی جانب سے ملنے والی دیگر فنڈنگ بھی نہیں ملے گی۔

امیگریشن چیلنجز

برطانیہ یورپی یونین سے آنے والے تارکین وطن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اعلیٰ درجے کے ماہرین کو ترجیح دی جائے کی جبکہ نچلے درجے کے کام کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کی جائےگی۔

،تصویر کا ذریعہPA

یورپی یونین سے برطانیہ میں کام کی تلاش میں آنے والے بہت سے لوگوں کو ملک سے نکل جانے کو بھی کہا جائےگا۔

اس وقت یورپی یونین کے 20 لاکھ سے زیادہ افراد برطانیہ میں ہیں اور اس کے لیے برطانیہ کو پہلے ان کی پوزیشن واضح کرنی ہوگی۔ یہ بھی بڑا پیچیدہ عمل ہے جو اتنا آسان نہیں ہوگا۔

ابھی دو برس تک جب تک الگ ہونے سے متعلق مذاکرات پورے نہیں ہوجاتے اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھانا مشکل ہوگا۔