اسرائیلی فوجی نے ’غلطی‘سے فلسطینی کو گولی مار دی

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مقبوضہ غربِ اردن میں اس کے فوجیوں نے غلطی سے ایک فلسطینی شہری کو گولی مار کر ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کر دیا ہے۔
ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فلسطینی مرکزی شاہراہ پر فوجیوں پر پتھر اور پٹرول بم پھینکے جا رہے تھے جس سے تین شہری زخمی ہوئے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان فلسطینیوں کا پیچھا کرتے ہوئے غلطی سے عام شہریوں پر گولیاں چل گئیں‘۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا 15 سال کا لڑکا ہے جو اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا جب اس کو گولی ماری گئی۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں ہلاک کیے جانے والے فلسطینی کے بارے میں کہا تھا کہ وہ حملہ آور تھا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جو یروشلم کے باہر واقع گاؤں بیت سیرا میں پیش آیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب تل ابیب اور یروشلم کو ملانے والی اہم شاہراہ پر فلسطینیوں کے پتھراؤ کے باعث دو غیر ملکی اور ایک اسرائیلی معمولی زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے ابتدائی بیان میں کہا گیا تھا کہ بیت سیرا کے قریب موجود سکیورٹی اہلکاروں نے شاہراہ پر موجود گاڑیوں کی حفاظت کے لیے پتھراؤ کرنے والوں پر گولیاں چلائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تصدیق کی کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک حملہ آور ہلاک ہوا جبکہ دو مشتبہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا گیا۔
تاہم بعد میں اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ ابتدائی انکوائری سے معلوم ہوا ہے کہ اس فائرنگ میں ایک عام شہری ہلاک ہوا۔
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا اور قریبی گاؤں بيت عور التحتا کے میئر نے ہلاک ہونے والے لڑکے کی شناخت کی۔
بيت عور التحتا کے میئر عبدالکریم قاسم نے روئٹرز کو بتایا کہ محمود بدران دیگر مسافروں کے ہمراہ سوئمنگ پول سے واپس آ رہا تھا اور گاڑی میں بیٹھا تھا جب اس کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔







