’حماس کے ٹھکانوں پر اسرائیل کا فضائی حملہ‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ ایک راکٹ حملے کے جواب میں اسرائیلی جنگی طیارے نے غزہ میں حماس کے دو ٹھکانوں کو سنیچر کی صبح نشانہ بنایا ہے۔
ابھی تک کسی نے بھی راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم سنہ 2014 سے جتنے بھی اس قسم کے حملے کیے جا رہے ہیں وہ اسلام پسند گروہوں کی جانب سے کیے جاتے ہیں لیکن اسرائیل ان کے لیے حماس کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا: ’جواب میں طیارے نے غزہ پٹی کے جنوب میں حماس کے دو دہشت گردانہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
حماس کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس حملے میں جنوبی شہر خان یونس میں دو اینٹ کے بھٹوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے املاک کو تو نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو میزائلوں سے شہر کے شمال میں واقع حماس کے فوجی ونگ کو نشانہ بنایا گيا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل جمعرات کو ایک اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ میں ایک فلسطینی خاتون اس وقت ہلاک ہو گئیں جب خان یونس میں ان کا گھر حملے کی زد میں آ گیا۔
خیال رہے کہ سنہ 2014 میں ہونے والی 50 روزہ جنگ کے بعد سے یہ اسرائيل اور حماس کے درمیان سب سے پر تشدد چوتھا دن ہے۔
اس سے قبل 50 روزہ جنگ میں 2215 فلسطینی اور 73 اسرائیلی مارے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے راکٹ داغے جانے اور اسرائیل کے فضائی حملے سے گذشتہ جنگ کے بعد سے جاری بے ضابطہ جنگ بندی کو خطرہ لاحق ہے۔







