شام میں امریکی فوجیوں کی تصاویر پر ترکی کا اظہار برہمی

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی نے شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں شامل امریکی فوجیوں کی کرد ملیشیا کے نشان کے ساتھ تصاویر منظرعام پر آنے کے بعد امریکہ سے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے امریکہ کو ’دو رخا‘ کہا ہے اور اس عمل کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔
٭ <link type="page"><caption> شام میں ’امریکی فوجیوں‘ کی تصاویر منظر عام پر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/05/160527_america_army_picture_syria_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ شام میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کو مقامی کرد جنگجوؤں وائی پی جے کے نشان کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔
پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک کا کہنا تھا کہ یہ عام سی بات ہے کہ امریکی فوجی مقامی پارٹنرز کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے فوٹو گرافر کی بنائی ہوئی ان تصاویر میں امریکی فوجیوں کو دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) اور ویمنز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جے) اور امریکہ کی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایف ڈی ایف) کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ واضح طور پر تسلیم کرتا ہے اس کے فوجی وائی پی جی کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن ایسا پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو ملیشیا کے نشان کے ساتھ پہلی بار دیکھا گیا ہے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کرد گروہوں کے پی کے کے گروہ کے ساتھ تعلق ہے، جسے ترکی، یورپی یونین اور امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوٹوگرافر کا کہنا تھا کہ امریکی سپیشل فورسز کے فوجیوں نے صحافیوں سے بات چیت نہیں کی تاہم وہ اپنے ارد گرد میڈیا کی موجودگی سے چوکس نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی فوج نے ان تصاویر پر براہ راست ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ شام میں تقریباً 300 فوجی تربیت اور معاونت کا کردار ادا کر رہے ہیں اور جنگی محاذوں میں حصہ نہیں لے رہے۔
یہ تصاویر دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر لی گئی ہیں اور ایس ڈی ایف کی جانب سے رقہ کے شمال میں عسکری کارروائی کے روز بعد منظر عام پر آئی ہیں۔







