ترکی یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کو روک سکتا ہے اردوغان

،تصویر کا ذریعہEPA
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اگر ترک شہریوں کو یورپ میں ویزا کے بغیر سفر کی اجازت نہ دی گئی تو پارلیمان پناہ گزینوں کے مسئلے پر یورپی یونین کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو روک دے گی۔
ترکی کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترکی کو ابھی تک وہ فنڈز بھی جاری نہیں کیے جس کا یورپی یونین نے وعدہ کیا تھا۔
دوسری جانب یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ترکی کو اس حوالے سے مزید شرائط پوری کرنا ہوں گی جس میں دہشت گردی کے قوانین میں تبدیلی بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والےاس معاہدے کا مقصد یورپ میں لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کو روکنا ہے۔
اس بات کے امکانات بڑھ رہے ہیں کہ ترک شہریوں کو یورپ میں ویزا کے بغیر سفر کی اجازت دینے کا معاملہ رواں ماہ کے آخر تک ممکن نہیں ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے پیر کو رجب طیب ارددغان سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اس کے مکمل ہونے میں یہ وقت کافی نہیں ہو گا۔
خیال رہے کہ ترکی بار بار متنبہ کر چکا ہے کہ اگر اس کے مطالبات کو نہ مانا گیا تو پناہ گزینوں کے مسئلے پر یورپی یونین کے ساتھ ہونے والے معاہدہ ختم ہو جائے گا۔
ترکی کے شہر استنبول میں پہلی عالمی انسانیت دوست سربراہ کانفرنس کے اختتام پر اردوغان کا کہنا تھا ’یہ نہیں ہے کہ کیا ہو گا، اگر دوبارہ داخلے کے معاہدے کے فریم ورک میں کوئی فیصلہ اور کوئی قانون ترکی جمہوریہ کی پارلیمان سے باہر نہیں آئے گا۔‘
یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق 20 مارچ تک یونان میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے ایسے پناہ گزینوں کو واپس ترکی بھیج دیا جائے گا جو پناہ لینے کی درخواست نہیں دیں گے یا ان کا دعویٰ مسترد کر دیا جائے گا۔







