فرضی’مسلم دہشت گرد‘ پر پولیس کی معذرت

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ کے شہر مانچیسٹر میں پولیس کو اس وقت معذرت کرنا پڑی جب اس نے ایک فرضی دہشت گرد حملے کے دوران ایک شخص کو حملہ کرتے ہوئے اللہ اکبر کہتے ہوئے دکھایا۔ پولیس نے اپنی معذرت میں اسے نسل پر مبنی ایک گھسٹا پٹا انداز کہا۔
اس مشق پر تنقید ایک فرضی مسلم دہشت گرد کو استعمال کرنے پر کی گئی۔ یہ مشق ایسے حالات میں ہنگامی سروسز کا ردِ عمل دیکھنے کے لیے کی گئی تھی۔
اس ڈرل کو ممکنہ طور پر حقیقت کے قریب لانے کے لیے آٹھ سو رضاکاروں کی مدد حاصل کی گئی۔
گریٹر مانچیسٹر پولیس (جی ایم پی) کا کہنا تھا کہ ٹریفورڈ سینٹر میں ہونے والی اس مشق کا کسی خاص دہشت گرد خطرے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
مانچیسٹر میں امن کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن ڈاکٹر ایرنما بیل نے ’مسلم دہشت گرد‘ کے استعمال پر تنقید کی۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گرد کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ’ہمیں گھسے پٹے تصورات سے نکلنے کی ضرورت ہے۔‘
جی ایم پی کے نائب چیف کانسٹیبل گیری شیوان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایجنسیوں بشمول پولیس کی ضرورت ہے کہ وہ اس طرح کی مشقوں کے ذریعے تربیت دیتے رہیں اور تیاری کرتے رہیں، تاکہ اگر اس طرح کا ناقابلِ یقین واقع رونما ہو اور حملہ ہو جائے تو ہم اس پر ردِ عمل کے لیے بہترین ممکنہ پوزیشن میں ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اس مشق کا پس منظر انتہا پسند داعش کی طرح کی تنظیم کے فرضی حملے پر مبنی تھا اور اسے لکھنے والوں نے ویسے ہی حالات تصور کیے تھے جیسے اس قسم کے حملوں کے دوران ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف کانسٹیبل گیری شیوان نے کہا کہ سوچ بچار کے بعد ہم نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ فرضی خود کش بم حملے سے فوری پہلے کسی قسم کے مذہبی جملے کا استعمال ناقابلِ قبول ہے، جو واضح طور پر اس مشق کو اسلام سے جوڑ دیتا ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں اور اس غلطی سے پیدا ہونے والی کسی قسم کے تکلیف پر معافی مانگتے ہیں۔‘
یہ مشق رات کے وقت شروع ہوئی جب کالے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص زور سے کچھ کہتا ہوا ایک شاپنگ سینٹر میں داخل ہوا۔ اس کے بعد ایک دھماکہ ہوا اور لوگ زمین پر گر گئے۔
اکثر نے ایسا تاثر دیا کہ جیسے انھیں بہت زیادہ زخم آئے ہیں اور دوسرے چلاتے رہے جیسے شدید تکلیف میں ہوں۔
جی ایم پی نے کہا کہ یہ مشق کسی اہم دہشت گرد واقع کا ہنگامی ردِ عمل جاننے کے لیے کی گئی تھی۔







