جرمنی میں نوعمر افغانوں کی نئی زندگی

نوعمر افغان لڑکے کشی رانی کی تربیت حاصل کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشننوعمر افغان لڑکے کشی رانی کی تربیت حاصل کر رہے ہیں

جب ان افغان لڑکوں نے ایشیا سے ہوتے ہوئے یورپ تک سفر کا آغاز کیا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ان کی زندگیاں اس قدر بدل جائیں گی۔

مشرقی جرمنی کے بیچوں بیچ بہنے والے دریائے ملدے کے کنارے وہ فنِ کشتی رانی کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

وہ اس میدان میں ابھی اناڑی ہیں اور انھیں جرمن زبان بھی نہیں آتی، لیکن وہ بہاؤ کی مخالف سمت میں پانی میں چھپاکے مارتے چلے جا رہے ہیں اور ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھری ہوئی ہیں۔

گھر سے ہزاروں میل دور یہ اکیلے لڑکے خوش و مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔

وہ ایک ایسے عمل کا حصہ ہیں جو پورے براعظم پر محیط ہے۔

امدادی اداروں کا تخمینہ ہے کہ یورپ بھر میں دو ہزار کے قریب ایسے نوعمر پناہ گزین موجود ہیں جن کے ساتھ کوئی سرپرست نہیں ہے۔

بچوں کے ادارے سیو دا چلڈرن کے مطابق جرمنی میں رواں برس جنوری اور فروری کے مہینوں میں پناہ کی ایک لاکھ 20 ہزار درخواستوں میں سے 31 فیصد کم عمر نوجوانوں کی طرف سے آئی تھیں۔

لڑکپن کے جوش و خروش کے باوجود ان لڑکوں کا شمار یورپ کے سب سے کمزور پناہ گزینوں میں ہوتا ہے۔

14 سالہ پستہ قد حاجت اللہ کہتے ہیں: ’مجھے نہیں معلوم کہ میں کبھی افغانستان واپس جا پاؤں گا یا نہیں۔‘ جبکہ 16 سالہ خسرو کہتے ہیں: ’میں خود کو پہلی بار محفوظ تصور کر رہا ہوں۔‘

گیتھین شہر میں واقع پال گوئنتھر سکول میں فروری میں شامی اور افغان پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ سکول نے انھیں جذب کرنے کے لیے تیزی سے تبدیلیاں کیں۔

اب انھیں جرمن زبان سکھائی جاتی ہے۔ ان کے استاد ٹامس سالفیلڈ پیشے کے لحاظ سے مترجم ہیں، اور انھوں نے فروری ہی میں پڑھانا شروع کیا تھا۔ وہ ان طلبہ کو جلد از جلد جرمن زبان میں مہارت دلوانا چاہتے ہیں تاکہ وہ دوسری کلاسوں میں تعلیم حاصل کر سکیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ لڑکے سفنج کی مانند جذب کرتے جا رہے ہیں اور تیزی سے جرمن سیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بچے انھیں اپنے باپ کی جگہ سمجھتے ہیں۔

حاجت اللہ یہاں بہت خوش ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا: ’میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن افغانستان میں اس کا موقع ہی نہیں ملا۔‘

14 سالہ حاجت اللہ پچھلے سال تنِ تنہا جرمنی پہنچے تھے
،تصویر کا کیپشن14 سالہ حاجت اللہ پچھلے سال تنِ تنہا جرمنی پہنچے تھے

وقفے کے دوران یہ لڑکے زیادہ تر خاموش رہتے ہیں۔ انھیں یہاں آئے ہوئے چند ہفتے ہی ہوئے ہیں اور اس چھوٹے سے قصبے کو کبھی اتنی تعداد میں باہر سے آنے والوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ لائپسگ جیسے قریبی شہروں میں پناہ گزینوں کی مخالفت کا جذبہ پایا جاتا ہے۔

قصبے کی باسی 16 سالہ لارا شلوسر کہتی ہیں: ’پناہ گزین اس لیے نہیں آ رہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جرمنی بہت اچھا ملک ہے، وہ جنگ اور بحران کی وجہ سے آ رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔‘

گیتھلن کے چھوٹے سے روایتی قصبے نے کھلی بانہوں سے ان پناہ گزینوں کو گلے لگایا ہے۔ لیکن یہاں کا ہر شہری پناہ گزینوں کے بارے میں چانسلر انگلیلا میرکل کے خیالات سے متفق نہیں ہے۔

کلاؤس ڈیٹر آگسٹن جوتوں کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’یہ ٹھیک نہیں ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس طرح سرحدیں کھول کر ایک لاکھ لوگوں کو بلا روک ٹوک داخلے کی اجازت نہیں دیتا۔‘

سکول سے چھٹی کے بعد افغان لڑکے گھاس پر بیٹھ کر تاش کھیلتے ہیں یا موسیقی سے دل بہلاتے ہیں۔ کبھی کبھار وہ اپنے خاندان والوں سے فون پر بات بھی کر لیتے ہیں۔

وہ قصبے میں آزادانہ طور پر جا سکتے ہیں لیکن انھیں صرف دس یورو فی ہفتہ جیب خرچ ملتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زیادہ عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

ڈیٹلیف روڈ اپنی صحافت کی نوکری چھوڑ کر ان بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ریاست کو زیادہ فیاض ہونا چاہیے۔

’ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے۔ ایسا کرنے کے لیے ہمارے پاس پیسہ موجود ہے۔‘

وہ چانسلر میرکل کی تعریفوں کے پل باندھنے سے نہیں کتراتے۔ ’جب انھوں نے کہا تھا کہ میں پناہ گزینوں کی مدد کروں گی تو انھوں نے ایک طرح سے سیاسی خودکشی کر لی تھی۔ وہ یقینی طور پر میری چانسلر ہیں!‘

فی الحال افغان لڑکے محفوظ ہیں، ان کا خیال رکھا جا رہا ہے، وہ وہ آہستہ آہستہ جرمنی کے اس خاموش اور پرسکون خطے میں جذب ہوتے جا رہے ہیں۔