بن لادن گروپ کا 50 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAP
سعودی عرب کی ایک بڑی تعمیراتی کمپنی ’بن لادن گروپ‘ نے سعودی حکومت کی جانب سے تیل کی کم قیمتوں اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کے بعد اپنے 50 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی شاہی خاندان بن لادن گروپ کو کئی دہائیوں سے بڑے تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکے دیتا رہا ہے جس میں مسجد الحرام کا توسیعی منصوبہ بھی شامل ہے۔
تاہم اب سعودی حکومت کو عالمی منڈی میں عرصے سے تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا ہے اور اس نے متعدد تعمیراتی منصوبوں پر کام روک یا اسے منسوخ کر دیا ہے۔
کمپنی کے بعض منصوبوں میں کام کرنے والے ملازمین نے کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے الوطن اخبار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملازمت سے نکالے گئے ملازمین غیر ملکی ہیں۔ الوطن کے مطابق نکالے گئے ملازمین کو ملک سے نکلنے کا کہا گیا ہے لیکن ملازمین نے تنخواہ کی ادائیگی تک ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے ان میں سے بعض ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی اور یہ کمپنی کے مرکزی دفتر کے سامنے ہر روز احتجاج کرتے ہیں۔
بن لادن گروپ اسی خاندان کی ملکیت ہے جس سے شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن دلان کا تعلق تھا۔
سعودی عرب کی کابینہ نے رواں برس ہی ملکی معیشت کی تیل سے ہونے والی آمدن پر بڑی حد تک انحصار کو کم کرنے کی کوشش کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔
سعودی عرب میں حکومتی آمدن کا تقریباً 80 فیصد حصہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر مشتمل ہے اور گذشتہ برس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے اس کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی کابینہ کے منصوبے سے چند دن قبل یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں تھیں کہ سعودی عرب تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی کے باعث بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ دس ارب ڈالر قرضے کا معاہدہ کرنے کے قریب ہے۔







