تیل پر انحصار میں کمی کا سعودی منصوبہ منظور

،تصویر کا ذریعہAFP
سعودی عرب کی کابینہ نے ملکی معیشت کے تیل سے ہونے والی آمدن پر بڑی حد تک انحصار کو کم کرنے کی کوشش کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
اس منصوبے کے تحت ملکی معیشت کو متنوع بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
سعودی عرب میں حکومتی آمدن کا تقریباً 80 فیصد حصہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر مشتمل ہے اور گذشتہ برس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے سعودی معیشت متاثر ہوئی ہے۔
کابینہ کی جانب سے جس وژن 2030 کی منظوری دی گئی ہے اس کے تحت تیل کی سرکاری کمپنی ارامکو کے پانچ فیصد سے کم حصص بھی فروخت کیے جائیں گے۔
ٹی وی پر قوم سے خطاب میں ملک کے نائب ولی عہد محمد بن سلمان نے بتایا ہے کہ ارامکو کی قدر ڈھائی ٹریلیئن ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ارامکو کے حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم دو ٹریلیئن ڈالر کے خودمختار مالیاتی فنڈ کی تشکیل کے لیے استعمال ہوگی۔
وژن 2030 کے بارے میں مزید معلومات پیر کی شام تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ہفتے امریکی چینل بلوم برگ سے بات کرتے ہوئے شہزادہ محمد نے کہا تھا کہ ملک میں اشیائے تعیش اور زیادہ چینی والے مشروبات پر بھی ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ چند دن قبل یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ سعودی عرب تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی کے باعث بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ دس ارب ڈالر قرضے کا معاہدہ کرنے کے قریب ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تیل برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک سعودی عرب آٹھ ارب تک کا قرضہ لینا چاہ رہا تھا لیکن بڑھتی طلب کی وجہ سے وزیر خزانہ کو یہ رقم بڑھانا پڑی۔
سنہ 1990 میں کویت پر عراق کے حملے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی مارکیٹ کا رخ کیا ہے۔







