کیا تیل کی پیدوار منجمد ہو پائے گی؟

،تصویر کا ذریعہAFP

دنیا میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد تیل برآمد کرنے والے ممالک کی جانب سے اب پیدوار کے بارے فیصلے کا امکان ہے۔

اتوار کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے اراکین اور تیل برآمد کرنے والے دوسرے ممالک کا اجلاس ہو رہا ہے۔ جس میں پیدوار منجمد کرنے پر بات کی جائے گی۔

ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ قیمیوں میں کمی کے بعد اوپیک پیدواری میں فوری طور پر کمی کرتا تھا۔

دوحا میں ہونے والے اجلاس میں پیدوار میں کمی کی بات نہیں ہو گی بلکہ اجلاس کا مقصد تیل کی پیدوار کو موجودہ سطح پر منجمد کرنے پر غور کرنا ہے۔

یہ ممکن ہے کہ پیدوار منجمد کرنے کا فیصلہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کو روکنے میں اہم کردار ادا کرے۔ رواں سال کے دوران برینٹ کروڈ کی کم سے کم قیمت 27 ڈالر بیرل تک ریکارڈ کی گئی تھی۔

گو کہ اب قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ 45 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ قیمیوں میں معمول اضافہ کی وجہ یہ ہے کہ بعض خریداروں کے خیال میں قیمتیں گرنے پر تیل برآمد کرنے والے ممالک پیدوار کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ جون 2014 میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تھی۔

قیمتوں میں کمی سے تیل کی برآمد پر انحصار کرنے والے ممالک کی آمدن بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں بین الااقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے بہت سے ممالک کی آمدن اور مالیاتی استحکام کو نقصان پہنچا ہے۔

دوحا میں ہونے والے اجلاس میں اپیک کے رکن ممالک کے ساتھ روس جیسے ممالک بھی شرکت کریں گے جو تیل برآمد تو کرتے ہیں لیکن اوپیک کے رکن نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRTHK

غیر معمولی طور پر ان اراکین شرکت تیل کی کم قیمتوں پر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔

اس اجلاس میں تیل پیدا کرنے والے دو بڑے ممالک امریکہ اور چین شریک نہیں ہیں لیکن ان دونوں ممالک میں تیل سے وابستہ بڑی صنعتیں ہیں جن کی نصف پیدوار یہ خود ہی استعمال کرتے ہیں اور باقی رہ جانے والی مصنوعات برآمد کر دیتے ہیں۔

تیل کی کم قیمت دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے سود مند ہے۔ اس لیے امریکہ اور چین کے مفادات دوحا میں شریک کے اجلاس کے شرکا سے مماثلت نہیں رکھتے۔

دوحا میں شریک ممالک اگر پیدوار کے حوالے سے بہت سخت فیصلہ کرتے ہیں تب بھی تیل کی پیدوار طلب کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے پیدوارا کے بارے میں فیصلہ زیادہ اثرانداز نہیں ہو گا۔

ماضی میں بھی اوپیک ممالک کئی بار پیداوار میں کمی کرنے پت متفق ہوئے ہیں لیکن اس بار فیصلہ پیدوار میں کمی کے بجائے اُسے مزید نہ بڑھانے کے بارے میں ہو گا۔

دوحا کے اجلاس میں شریک بہت سے ممالک کے لیے پیدوار نہ بڑھانا موافق ہے لیکن اوپیک کا ایک رکن ملک ایران پیدوار بڑھانا چاہتا ہے۔

اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران تیل کی منڈی میں اپنا کھویا ہوا حصہ دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے وزیر تیل بیجان زگنے اجلاس میں شریک نہیں ہیں اور اُن کی نمائندگی دوسرے سرکاری اہلکار کریں گے۔

سعودی عرب کے ولی عہدنے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے تیل کی پیدوار منجمد کرنے پر ہی سعودی عرب اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا لیکن سعودی عرب کی جانب سے یہ حتمیٰ فیصلے ہے یا نہیں اس بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے۔

پیدوار میں کمی کے بارے میں سعودی عرب کا خدشہ یہ ہے کہ نان اوپیک ممالک بھی پیداوار کم کریں۔ اوپیک نے جب بھی پیدوار کم کی ہے اس میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس بار میں تیل کی منڈی میں اپنا حصہ کم کرنے پر سعودی عرب ہچکچا رہا ہے۔

پیدوار میں کمی کے لیے اگر تمام ممالک شامل ہوں تو شائد کسی ایک ملک کے لیے یہ فیصلہ کرنا اتنا مشکل نہ ہو۔ امریکہ اور روس جیسے تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک پیدوار میں کمی پر متفق نہیں ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر تمام ممالک پیداوار کو منجمد کرنے پر متفق ہو جاتے ہیں تو قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

لندن میں کنسٹینسی فرم لندن اکانامکس کا کہنا ہے کہ ’موجودہ سطح پر پیدوار کو منجمد کرنے سے اضافی رسد کو تو کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے قیمتوں پر بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

بین الاقوامی توانائی کی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ پیدوار میں کمی کے فیصلے کا زیادہ اثر امریکہ کی شیل اوئل پیدوار پر ہو سکتا ہے جو اب تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

در حقیقت یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب فوری طور پر کوئی بھی فیصلہ کرنے میں ہچکچا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے حریف امریکی شیل آئل کے کاروبار پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ کی شیل آئل نے تیل کی عالمی منڈی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکی پیدوار میں اضافہ، چین کی اقتصادی سست روی اور عالمی معیشتوں میں کساد بازاری وہ عوامل ہیں جن سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کمی ہوئی ہے۔

ان تمام محرکات کی وجہ سے دوحا میں ہونے والا اجلاس انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

فیصلہ سازی اور ممبران کو درپیش مسائل کے حل میں اوپیک بہت تاخیر سے فیصلے کرتا ہے۔

حال ہی میں دسمبر میں اوپیک کے اجلاس کے فیصلوں نے مبصرین کو حیران کر دیا۔ اوپیک ممالک ہمیشہ تیل کی پیداوار کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرتے ہیں لیکن حالیہ اجلاس میں پیدوار کی زیادہ زیادہ حد بھی مقرر نہیں کی گئی۔

دوحا میں ہونے والے اہم اجلاس کے بارے میں برکیلے ریسرچ کے سربراہ نے کہا کہ ’اوپیک کا دسمبر میں ہونے والا اجلاس ناکام رہا تھا لیکن دوحا میں تنظیم کو اپنے آپ کو دوبارہ سے اہم ثابت کرنے کا موقع ملا ہے۔‘