تیل کی قیمتوں کے دوبارہ بڑھنے کا امکان

،تصویر کا ذریعہGetty
توانائی کے بین الاقوامی ادارے کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں مستحکم ہو رہی ہیں اور ان کے دوبارہ بڑھنے کا امکان ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک میں تیل کی حالیہ کم پیداوار کا مقصد تیل کی فراہمی میں ہونے والے اضافے پر قابو پانا ہے۔
آئی ای اے کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے تیل کی سپلائی بھی خدشے سے کم ڈرامائی تھی۔
تیل کی قیمتیں اگست 2014 تک 70 فیصد تک بڑھ گئی تھیں تاہم اس کے بعد یہ 27 ڈالر فی بیرل تک گر گئیں۔
صنعتی ممالک کے ساتھ توانائی کے امور پر معاونت کرنے والے ادارے آئی ای اے کا کہنا ہے کہ اوپیک تنظیم سے باہر کے ممالک کی پیداوار سنہ 2016 میں ساڑھے سات لاکھ بیرل یومیہ تک کم ہوگی جبکہ پہلے اندازہ تھا کہ یہ چھ لاکھ بیرل یومیہ ہوگی۔
امکان ہے کہ امریکہ کی پیداوار 530000 میں بیرل یومیہ کی کمی واقع ہو گی۔
حالیہ برسوں میں امریکہ میں تیل کی تلاش کے لیے کی جانے والی گہری کھدائی (فریکنگ) کے باعث تیل کی ضرورت سے زیادہ پیداوار ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسی اثنا میں تیل پیدا کرنے والے اوپیک ممالک نے پیداوار میں اس ڈر سے کمی نہیں کی کہ وہ مارکیٹ نہ کھو دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھی دو وجوہات کی بنا پر سنہ 2014 کے اختتام اور پورے سنہ 2015 میں تیل کی قیمتیں گرتی رہیں۔
بین الاقوامی منڈی میں اشیا کے دوسرے بڑے خریدار چین کی جانب سے تیل کے کم طلب سے بھی تیل کی قیمتیں متاثر ہوئیں جن سے عالمی معیشت کے سست ہونے کے خدشوں میں اضافہ ہوا۔
گذشتہ 18 ماہ کے دوران کئی بڑی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، سرمایہ کاری اور تحقیق کی مد میں مختص رقوم کم کی گئیں، اور کم سے کم پانچ ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں۔
رواں برس جنوری میں تیل کی قیمتیں 12 سال کی کم ترین سطح پر آگئیں جس کے بعد روس اور اوپیک کے بڑے رکن ملک سعودی عرب نے پیداوار نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد تیل کی قیمتیں قدرے مستحکم ہوئیں اور 40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔







