ترک صدر کی توہین کے الزام میں صحافی گرفتار

ابرو عمر

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنابرو عمر کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا تاہم انھیں ترکی سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی

ایک ترکی نژاد ولندیزی صحافی کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے خلاف ٹویٹس کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایبرو عمر نے نیدرلینڈ کے اخبار ڈچ میٹرو کے لیے ایک کالم لکھا تھا جس میں انھوں نے ترک صدر کی جانب سے مخالفین پر سختی کی تنقید کی تھی۔

2014 کے بعد سے ترک حکام نے 1800 سے زائد صحافیوں پر صدر اردوغان کی توہین کے الزام میں مقدمات دائر کیے ہیں۔

گذشتہ ہفتے جرمنی نے ایک ممتاز ٹی وی مزاح نگار کے خلاف صدر اردوغان کی توہین کے الزام میں مقدمہ چلانے کی منظوری دی تھی۔

ژان بومرمین نے ٹیلی ویژن پر ایک نظم پڑھی تھی جس میں انھوں نے صدر اردوغان کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔

جرمنی اور نیدرلینڈ دونوں میں کسی دوست ملک کے سربراہ کی توہین کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ البتہ دونوں ملکوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے قوانین میں ترمیم کریں گے تاکہ آئندہ ایسا کرنا جرم نہ رہے۔

عمر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ جنوبی ترکی میں چھٹیاں منا رہی تھیں۔ ہفتے کی رات انھوں نے ٹویٹ کی کہ ترک پولیس ان کے دروازے پر موجود ہے۔

انھیں ایک قریبی مقام کسداسی لے جایا گیا جہاں ان سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا، تاہم انھیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔