ترک صحافیوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی میں ایک اخبار کے دو معروف صحافیوں پر ملک کے خفیہ راز کو افشاں کرنے کے الزام میں قائم مقدمے کی عدالتی کارروائی جمعے سے شروع ہو رہی ہے۔
استنبول سے شائع ہونے والے روزنامہ جمہوریت کے مدیر جان دو ندر اور اور انقرہ میں اخبار کے بیورو چیف اردم گل کوگذشتہ نومبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ترکی کی حکومت کو شام میں برسر پیکار شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو اسلحہ فراہم کرتے ہوئے دکھایا تھا۔
استغاثہ نے ان پر ایک امریکی نژاد مولوی کے ساتھ مل کر ترک حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
صحافی اس الزام سے انکار کرتے رہے ہیں لیکن اگر وہ قصوروار پائے گئے تو انہیں عمر قید سزا ہوسکتی ہے۔
ترکی کے صدر طیب اردوغان نے بذات خود ان کے خلاف مجرمانہ شکایت درج کروائی تھی۔
گرفتاری کے بعد مقدمے کی سماعت سے قبل کافی دنوں تک انہیں حراست میں رکھا گیا لیکن عدالت کے ایک حکم کے بعد انہیں گذشتہ فروری میں رہا کر دیا گیا تھا۔
صحافیوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ترکی میں پریس کی آزادی کا ایک اہم امتحان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو ملک کی درجنوں سرکردہ شخصیات نے ملک کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کو خط لکھ کر جمہوریت اخبار کے صحافیوں کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی اپیل کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس میں کہا گیا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ جان دوندر اور اردم گل کو صرف اس لیے عمر قید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ انہوں نے صحافی کی حیثیت سے درست کام انجام دیا ہے۔‘
صحافیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے سبب عالم برادری کی جانب سے ترکی پر نکتہ چینی بھی ہوتی رہی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن راٹس واچ کا کہنا تھا کہ ’وہ دونوں صحافی ہونے کے طور پر صرف اپنا کام کر رہے تھے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘
گذشتہ سال جمہوریت اخبار نے ویڈیو فوٹیج شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ترکی کی انٹیلیجنس ایجنسی ایم آئی ٹی نے شام میں شدت پسندوں کو ٹرکوں کے ذریعے اسلحہ پہنچایا تھا۔
ترکی کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسی کے ٹرک شام میں موجود ترکمان اقلیت کے لیے امداد لےکر جا رہے تھے۔
لیکن اس رپورٹ کے بعد ملک میں سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا جس کے بعد ملک کے صدر رجب طیب اردوغان نے خود دونوں صحافیوں کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا۔
صدر اردگان نے کہا تھا کہ وہ ویڈیو فوٹیج ریاست کی ایک خفیہ بات تھی اور انھوں نے ٹی وی پر کہا تھا کہ دونوں صحافیوں کو ’ایک بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘
ترک حکومت نے صحافیوں پر ’حضمت‘ تحریک کو مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں، جس کی قیادت امریکی ریاست پنسلونیا میں خود ساختہ جلاوطنی میں رہنے والے ’فتح اللہ گولن‘ کی ہے۔







